اُردو کا دینی ادب، پروفیسر ہارون الرشید۔ ناشر: میڈیا گرافکس، ۹۹۷۔اے، سیکٹر اے۔۱۱، نارتھ کراچی۔۷۵۸۵۰۔ فون: ۳۷۳۸۶۰۷۔۰۳۳۳۔ صفحات: ۴۸۸۔ قیمت: ۵۰۰ روپے۔
زیرنظر کتاب کے دیباچہ نگار اے خیام کے الفاظ میں: ’’اُردو کے جدید نثری ادب کا احاطہ کوئی آسان کام نہیں‘‘۔ پروفیسر ہارون الرشید نے (جو نیاز فتح پوری کے دینی افکار کے عنوان سے ایک قابلِ قدر کتاب لکھ چکے ہیں) جدید نثری ادب کی تاریخ لکھنے کے مشکل، نازک اور پیچیدہ کام میں ہاتھ ڈالا مگر اس ذمہ داری سے کامیابی کے ساتھ عہدہ برآ نہیں ہوسکے۔ یہاں ہم پھر اے خیام کے الفاظ مستعار لیتے ہیں کہ اکثر کتابیں یا تو: ’’سرسری طور پر لکھی گئی ہیں یا پھر ایک سی باتیں دہرائی جاتی رہی ہیں۔ کچھ کتابیں ایسی بھی ملیں گی جن کے مرتبین نے تحقیق اور مطالعے کے بجاے محض تلخیص اور تقلید سے کام لیا ہے‘‘۔
مصنف کا زاویۂ نظر (تنقیدی جائزوں میں اخلاقیات اور ادیب کے ذہن کو نظرانداز نہیں کرنا چاہیے) تو قابلِ قدر ہے مگر ان کی فہرست میں اخلاقیات کے ممتاز علَم بردار افسانہ نگاروں (جیلانی بی اے، محمود فاروقی اور ابوالخطیب وغیرہ) کے نام نظر نہیں آتے۔ اسی طرح ’چند ممتاز ناقد و محقق‘ کے زیرعنوان گیان چند، امتیاز علی خاں عرشی، ابن فرید، نجم الاسلام اور رشیدحسن خاں جیسے جید محقق و ناقد نظرانداز ہوگئے ہیں۔ ’چند ممتاز مصنفین‘ میں فرحت اللہ بیگ، پطرس بخاری، مختارمسعود، شیخ منظورالٰہی، مشتاق احمد یوسفی اور رضا علی عابدی جیسے منفرد صاحبانِ اسلوب کا ذکر نہیں ملتا، البتہ بعض نام فقط نام لینے یا گنتی کی حد تک درج کردیے گئے ہیں۔ کتاب میں کہیں کہیں تکرار ہے اور کہیں معلومات میں کمی اور غلطی بھی۔ (ص ۹۳، ۱۱۹ وغیرہ) مجموعی تاثر یہ بنتا ہے کہ ایک وسیع اور متنوع جہات والا موضوع، ہمارے محترم مؤرخ ادب کی گرفت میں نہیں آسکا، چنانچہ کتاب کا موجودہ معیار انٹرمیڈیٹ سطح سے اُوپر نہیں آسکا۔ بایں ہمہ یہ کتاب ہر درجے کے (بی اے اور ایم اے وغیرہ) طلبہ کے لیے یقیناًاپنے اندر افادیت کا پہلو رکھتی ہے کیوں کہ خود بی اے اور ایم اے کا معیار بہت نیچے آگیا ہے۔ (رفیع الدین ہاشمی)
|