لندن کی ’’فاطمہ نے کیا کیا‘‘
لندن میں آج کل ایک اسٹیج پلے کابہت چرچا ہے۔ یہ لندن کی ایک مسلم دوشیزہ فاطمہ کی کہانی ہے جو ایشیائی خاندان سے تعلق رکھتی ہے لیکن اس کاپورا خاندان مغربی رنگ میں رنگا ہواہوتا ہے۔ وہ خود بھی اُسی کلچر کا حصہ ہوتی ہے۔ اس کی ماں رخسانہ مغربی لباس کی دلدادہ ہے اور مغرب کی تحریک آزادیٔ نسواں کے حوالے سے اسے عورت کی پسند اور ناپسند کا معاملہ قرار دیتی ہے۔ حجاب یا پردے کو عورت پر ظلم سمجھتی ہے۔ فاطمہ کی تعلیم و تربیت اسی ماحول میں ہوتی ہے۔ اسکول میں بھی وہ سفید فاموں میں گھل مل جاتی ہے، حتیٰ کہ اس کا ایک سفید فام بوائے فرینڈ بھی ہوتا ہے۔ لیکن اس کے اندر اچانک تبدیلی آجاتی ہے۔ مغربی رہن سہن کا وہ حصہ جو بے حیائی اور ناجائز و حرام اعمال پر مشتمل ہے، ترک کردیتی ہے۔ اور یوں اپنے طرزعمل سے وہ واضح طورپر ایک مسلم لڑکی نظرآتی ہے۔ ایسی مسلم لڑکی جو مغرب کی عام سوسائٹی کے نزدیک دقیانوسی ، پسماندہ اور ظلمت پسندانہ خیالات کی حامل ہے۔ فاطمہ اپنی اس اچانک تبدیلی سے اپنے اسکول اور گردو پیش کے ماحول ہی میں نہیں خود اپنے گھر میں اجنبی بن کر رہ جاتی ہے۔ اب ڈرامے کامرکزی نکتہ اِس سوال سے بحث کرتاہے کہ فاطمہ کے اندر یہ تبدیلی آخرکیوں کرآئی، اس کا محرک کیا ہے۔ پلے کی کہانی اَتیہاسین گپتا نامی ایک ۱۲ سالہ لڑکی نے لکھی ہے اور اسے ایک وائٹ ڈائریکٹراور مقامی ڈرامہ کمپنی کے تعاون سے پبلک کے سامنے پیش کیاہے۔ ڈرامے کا نام ہے ’’فاطمہ نے کیا کیا۔‘‘
یہ غیرمسلم لڑکی کا جائزہ ہے
اَتیہا سین گپتا خود بھی ہندنژادماں باپ کی بیٹی ہے، گوکہ پیدائش برطانیہ میں ہوئی تھی۔ یہ ڈرامہ لکھنے کاخیال اسے اپنے ذاتی مشاہدے اور تجربے کی بنا پر آیاتھا۔ ڈیلی ہندو کے نامہ نگار حسن سرور نے یہ پلے دیکھنے کے بعد لندن سے جو رپورٹ بھیجی ہے، اس میں یہ تبصرہ کیاہے کہ ’’امریکہ میں ۱۱!ستمبر۱۰۰۲ء کے بعد سے پوری مغربی دنیا میں اسلام زیربحث آگیاہے، پردہ یا حجاب خاص طور سے موضوع بحث ہے جس کے بارے میں عام خیال ہے کہ مسلم عورتیں پردہ، برقعہ یا حجاب اپنی مرضی سے نہیں بلکہ اپنے معاشرے اور گھر والوں کے دباؤ کی وجہ سے کرتی ہیں اور یہ کہ یہ عورتوں پر سراسر ظلم ہے۔ سین گپتا نے اس خیال کو بے بنیاد اور غلط ثابت کرنے کی کوشش کی ہے اور بتایاہے کہ مسلم خواتین اپنی مرضی اور پسند سے حجاب کرتی ہیں اور اس کے ذریعے اپنی مسلم شناخت ظاہر کرنا چاہتی ہیں۔ فاطمہ بھی یہ طرزعمل اختیارکرکے بتاناچاہتی ہے کہ وہ مسلمان ہے اور اس پر اسے فخر ہے۔ (دی ہندو ۳!نومبر) سین گپتا نے یہ بھی بتایاہے کہ برطانیہ میں غیربرطانویوں خصوصاً ایشیائی باشندوں کے ساتھ مذہب اور کلچر کی بنیاد پر بھیدبھاؤ برتاجاتا ہے۔ اَتیہاسین گپتا کے نزدیک فاطمہ کا عمل اسی امتیاز کا ردعمل ہے، نیز اپنے عمل سے وہ درمیانی راستہ دکھلانا چاہتی ہے۔
اصل چیز شناخت نہیں
ڈیلی ہندوکی اس رپورٹ پر اس کے قارئین نے بھی اظہار خیال کیاہے۔ اکثر کی رائے مثبت یا معروضی ہے۔ البتہ وہ ذہن بھی نمایاں ہے جو مسلمانوں کے ساتھ ہمدردی کے باوجود اسلامی احکام کی حکمت سے بے خبری کا مظہر ہے۔ مثلاً ۵!نومبر کے شمارے میں حیدرآباد کے آدتیہ ڈیکونڈا کا یہ احساس ’’کیا شناخت کے اظہار کا واحد طریقہ حجاب ہی ہے، مسلم خواتین اپنی شناخت ضرور ظاہر کریں لیکن ضروری نہیں کہ اس کے لئے حجاب ہی اختیارکیاجائے۔ شناخت منوانے کے اور طریقے بھی ہیں۔ اپنے منتخب میدان کار میں بہتر کارکردگی بھی ایک راستہ ہے۔‘‘ اس کا جواب یہ ہوسکتا ہے کہ شناخت اصل مقصود نہیں، اسلامی احکام پر عمل مقصود ہے، شناخت ذیلی چیز ہے۔ لیکن یہ جواب سب کے لئے اطمینان بخش نہیں ہوسکتا۔ لہٰذا سوال یہ زیربحث لایاجائے کہ دینِ اسلام کو عورت کے لئے حجاب یا پردہ کیوں مطلوب ہے، اس کی حکمت کیا ہے، پردہ کرنے کے فوائد اور نہ کرنے کے نقصانات کیا ہیں؟ گویا پردے کی حکمت اور انسانی سوسائٹی کے لئے اس کی افادیت کو سمجھنے کے لئے ضروری ہے کہ پہلے اسلام اور اس کے نظریۂ معاشرت کو سمجھ لیاجائے۔ اس کے بعد ہی توحید، بلاسودی نظامِ معیشت اور روزمرّہ کی زندگی میں حلال وحرام کے اسلامی احکام بہ آسانی سمجھ میں آسکتے ہیں۔ پردے کی یہ بحث امریکہ اور یورپ کے علاوہ خود ہندوستان میں بھی دعوتِ دین کابہترین حوالہ ثابت ہوسکتی ہے
10-11-2009 |