!دسمبر کاوہ ’’واقعہ‘‘
دسمبر ۲۵ کے اِس ’’واقعہ‘‘ کی خبر دنیا بھر میں بڑے پیمانے پرپھیلائی گئی کہ نائجیریا کا ایک ۲۳سالہ نوجوان ایک امریکی ایئر لائن کے طیارے کو خود کش حملے کے ذریعے تباہ کردینا چاہتاتھا مگر ’’چوکس‘‘ مسافروں نے اس کی کوشش ناکام بنادی۔ نوجوان کا نام عمر فاروق عبدالمطلب بتایاگیا، وہ لندن کے ایک کالج میں انجینئرنگ کا طالب علم ہے۔ ’’واقعہ‘‘ کی تفصیل یوں بتائی گئی کہ یہ طیارہ ایمسٹرڈم سے ۲۸۷مسافروں کو لے کر ڈیٹرائٹ کے لئے روانہ ہوا تو مسافروں نے ایک نوجوان کو غیر معمولی حرکت کرتے ہوئے دیکھا اور پکڑلیا۔ یہاں تک تو واقعہ ہوسکتا ہے۔ آگے کی کہانی آپ کو امریکی جاسوسوں کی زبانی سننی ہوگی ’’یہ دہشت گردی کی ایک کوشش تھی۔ نوجوان نے اپنی ٹانگ سے دھماکہ خیز مادہ باندھ رکھا تھا جس سے وہ طیارہ اڑا دینا چاہتا تھا، اس کا تعلق ’’القاعدہ‘‘ سے ہے۔ مادہ حاصل کرنے کے لئے اس نے یمن کا سفر کیا تھا۔ ’’القاعدہ‘‘ نے ذمہ داری قبول کرلی ہے۔‘‘ اس ’’خبر‘‘ کے ساتھ ہی پورے یورپ اور امریکہ میں ہوائی اڈوں پر اور طیاروں میں حفاظتی انتظامات سخت کردئے گئے۔ دہشت گردانہ حملوں کی ’’تیاریوں ‘‘ اور ان کی پیش گوئیوں کی جو خبریں کچھ عرصے سے لگاتار آرہی تھیں ان میں یہ ’’خبر ‘‘تازہ ترین تھی۔
ہوش مند انسانوں کا سوال
انسانوں کی اکثریت کے لئے جہاں یہ ’’واقعہ‘‘ واقعی ’’واقعہ‘‘ ہوگا وہیں ہوش مند انسان اس سوال پر غور کررہے ہوں گے کہ امریکی اور اسرائیلی ایجنسیاں اِس ڈرامے کے ذریعے فوری طور پر کیا مقصد حاصل کرنا چاہتی تھیں۔ اُن کے سوال کا جواب ۰۳!دسمبر کو مل گیا جب ہوائی سے امریکی صدر اوباما کا بیان آیا کہ یمن میں جہاں طالب علم گیا تھا، القاعدہ کے اڈے ہیں جنہیں تباہ کرنے کے لئے امریکہ جلد ہی یمن پر حملے کرے گا۔ گویا اس بار ایک اور مسلم ملک کی باری ہے۔ ویسے امریکہ ،اس کے چمچے برطانیہ اور ایجنٹ اسرائیل کے بیانات سے محسوس ہوتا ہے کہ دنیا کے مختلف حصوں میں کچھ ڈرامے دہرائے جانے والے ہیں۔ ان کی ایجنسیوں کو آنے والے واقعات کا پورا علم ہوتا ہے یہاں تک کہ حملہ آور کتنے ہوں گے، ان کے پاس کیا ہوگا، وہ کیا کریں گے۔ مثلاً ۰۲!دسمبر کو لندن سے پی ٹی آئی کے رپورٹر نے اسکاٹ لینڈ یارڈ کے ایک جاسوس کے حوالے سے یہ خبر جاری کی تھی’’بمبئی اب لندن آنے والاہے۔ نئے سال کے آغاز میں بعض جہادی گروپ لندن میں بمبئی جیسا آپریشن کرنے والے ہیں۔ کچھ لوگ لندن میں داخل ہوں گے، ان کے ہاتھوں میں بم اور مشین گنیں ہوں گی، وہ تجارتی مرکزوں، پولیس اسٹیشنوں اور یہودی سنٹروں پر حملے کریں گے، کچھ افراد کو یرغمال بنائیں گے۔ ۔ ۔ ‘‘ بس یہ بتانا باقی رہ گیا کہ حملہ آوروں کی تعداد کیا ہوگی، کتنے مارے جائیں گے کتنے زندہ پکڑے جائیں گے اور وہ کیا بیان دیں گے۔
یہ ایک کاروبار ہے
دہشت گردی کے اِن ڈراموں سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ امریکہ، اسرائیل اور برطانیہ دنیا کو خوف کی حالت میں ڈال کر سکیورٹی کا اپنا کاروبار پھیلانا چاہتے ہیں۔ قدرتی وسائل والے ملکوں پر قبضے کے علاوہ امریکہ کا ایک کاروبار یہ بھی ہے۔ امریکہ اور اسرائیل سکیورٹی کے نام پر جن ملکوں کو لوٹنا چاہتے ہیں ان میں ہمارا ملک بھی شامل ہے۔ یہ کاروبار محض جدید اسلحے اور آلات تک محدود نہیں، اس میں افرادی قوت بھی شامل ہے۔ دونوں ملک کی سکیورٹی ایجنسیاں بڑے پیمانے پر اس ملک میں آرہی ہیں۔ دھارمک مقامات کی حفاظت تک غیرملکیوں کے حوالے کی جارہی ہے اور اس طرح دنیا کو بتایا جارہا ہے کہ ہم اپنی حفاظت کے اہل نہیں ہیں۔ زیادہ افسوس کی بات یہ ہے کہ ہمارے سیاستداں بڑی طاقت بننے کے جنون میں اِس امریکی کھیل کو سمجھ نہیں پارہے ہیں۔ امریکی ڈراموں کی نقالی کی جارہی ہے۔ اس صورت حال نے امریکی دہشت گردی کے لئے آسانیاں پیدا کردی ہیں۔ وقت کی ضرورت ہے کہ کوئی مضبوط اور فعال این جی او اٹھے اور حقیقی حب الوطنی کے حوالے سے اس صورت حال پر ملک گیر بحث کرائے۔
|