Home Page
سلطنت عثمانیہ ۱۲۹۹ تا ۱۹۲۳ء
محمد طارق غازی ۔ کینیڈا
اخباروافکار

سلطنت عثمانیہ  ۱۲۹۹ تا ۱۹۲۳ء


باب ۵ سیاسی تصور 


سیاست ان امور زندگی میں سے ایک ہے جن کے دو رخ ہوتے ہیں: ایک تصوری یا نظری اور دوسرا عملی. تصوری رخ کا تعلق فلسفہ سیاسیات سے ہے جسے وہ لوگ مرتب کرتے آئے ہیں جن کا عملی سیاست سے عموماً کوئی تعلق نہیں ہوتا.لیکن اسی کے ساتھ ایسے مفکرین اپنا فلسفہ ان لوگوں کے کردار، عمل، افکاروغیرہ کی بنیاد پر مرتب کرتے ہیں جو عملی سیاست سے راست متعلق ہوتے ہیں.گویا فلسفۂ سیاست اپنی اصل میں عملی سیاست دانوں کی فکری تاریخ ہوتاہے. سیاسی فلسفی بلند مقام مفکر ہو تو اس تاریخ پر تبصرہ بھی کرتا ہے اور نظام حکومت کے طرز پر رائے بھی دیتا ہے، ورنہ محض وقائع نگاری کو سیاسی فلسفہ کے طور پر پیش کردیتا ہے. سیاسی مفکرین عام طور سے یا توممتاز سیاست دانوں کے طرز عمل کی تائید میں کتابیں لکھتے ہیں یا ان کے رد میں. اسی رد و قبول سے سیاسی فلسفہ کی نمود ہوتی ہے.عملی سیاست داں فلسفیوں کے تابع نہیں ہوتا، البتہ سمجھدار ہو تو گاہے گاہے ان کی سیاسی تشریحات سے مستفیدہونے کو عیب نہیں سمجھتا.تاہم امور سیاست میں نظری افکار کی حیثیت ثانوی ہوتی ہے. اس کے باوجود کہ افلاطون کو فلسفی بادشاہ کے وجود کی خواہش کی تھی جو اسے میسر نہ آیا اور نہ عام انسانوں کی عملی دنیا میں ایسا ممکن ہے، مگر بدیہی حقیقت یہی ہے کہ سیاسی معاملات میں ارسطو پر سکندر کو اور چانکیہ پر چندرگپت کو فوقیت حاصل تھی، معاملہ اس کے برعکس نہیں تھا.اس سلسلہ میںاسلامی دنیا کے پہلے فلسفی،ابو یوسف یعقوب ابن اسحٰق الکندی(۸۷۳۔۸۰۱/۲۶۰۔۱۸۵) کے بعدآنے والے، معلم ثانی کے لقب سے معروف، عالم اسلام کے دوسرے ممتازفلسفی، ابو نصر فارابی (۹۵۰۔۸۷۲/۳۳۹۔۲۵۹) کا نقطۂ نظر زیادہ مربوط اور معقول تھا. ان افکار پر اجمالی گفتگو آئندہ صفحات میں کی جائے گی.سیاسی فکر رکھنے والے اور سیاسی حکمراں انبیاء عام سیاسی فلسفیوں اور عام سیاست دانوں سے مختلف ایک مستقل گروہ ہیں اور اس بحث میں ان کا ذکر نہیں ہے.ان کے سیاسی فکر، فلسفہ اور عملی  اقدامات کی تفصیل  اور تشریح مولانا حامد الانصاری غازی کی کتاب اسلام کا نظام حکومت میں دیکھی جا سکتی ہے.
 سلطنت عثمانیہ کا بانی، عثمان خان غازی، کوئی فلسفی نہیں تھا. اپنی عام زندگی میں وہ ایک سچا راسخ العقیدہ مسلمان تھا. البتہ ذکی و ذہین سیاست داں ہونے کے ساتھ اس کا ذہن سیاسی فکر سے خالی نہیں تھا.وہ اپنے عہد کاایک عام سیاست داں ہوتا تو آخری دور کے عباسی بادشاہوں، آخری دور کے رومی سلجوقی سلاطین،سلطنت دہلی کے لودھی اور سوری سلاطین اورطوائف الملوکی کے زمانہ کے اندلسی امرأ سے زیادہ اونچے درجہ کا آدمی نہ ہوتا اوران تمام بادشاہوں کی مانندآج وہ بھی تاریخ کے صفحات سے باہر غیر معروف بلکہ انسانی یادوں سے معدوم شخص ہوتا. مگر اس کے باوجود کہ وہ نہ تو افلاطون کا فلسفی بادشاہ تھا اور نہ فارابی کا پیمبر امام، عثمان خان چند مستثنیات کو چھوڑ کر فکری سطح پر اپنے ہم عصر ہی نہیں پہلے اور بعد میں آنے والے بہت سے دنیوی حکمرانوں کے مقابلہ میںاونچا درجہ رکھتا ہے. بے شک اسے مفکر کا لقب نہیں دیا جاسکتا، نہ اس نے کوئی نیا نظام حکمرانی مرتب کیا، نہ نیا سیاسی فلسفہ دنیا کے سامنے پیش کیا؛بے شک اس نے وہی سیاسی نظام اپنی سلطنت کے لئے اختیار کیا جو تقریبا سات سو سال سے مسلم دنیا میں رائج تھا، لیکن اس کے پیش نظر عمرانی فلاح کا تصور اور اس کے حصول کے ایک نظام اور طریق کار کا ایک مرتب خاکہ ضرور تھا اور اس کی وضاحت اس نے اپنے بیٹے ارخان کو آخری نصیحت میں کر دی تھی. اسی وصیت میں عثمان خان کا سیاسی، عمرانی، معاشرتی اور اقتصادی نقطۂ نظر سامنے آتا ہے.

آئندہ نسلوں کے لئے لائحۂ عمل

 یہ وہ زمانہ تھا جب دستور اور آئین قسم کی دستاویزوں سے دنیا نامانوس تھی.حاکم کہتے ہی تھے اسے جو حکم دیتا تھا اور جس کا حکم قانون کا درجہ رکھتا تھا، خواہ اس کی نوعیت دستوری ہو یا تعزیری.اس عہد میں کسی حاکم کے لئے اپنے جانشینوں کے لئے کوئی وصیت چھوڑنے کا عام رواج نہیں تھا.سیاسی وصیتیں شاذ و نادر ہی کی جاتی تھیں.البتہ مسلم حکمرانوں کا وصف تھا کہ وہ اپنے جانشینوںکو کچھ دینی، سیاسی، عمرانی، معاشرتی اور اقتصادی امور میں ہدایات دیتے تھے. خلافت راشدہ میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی مختصر وصیت  تاریخ میں محفوظ ہے. بنی امیہ اور بنی عباس کے حکمرانوں سے بھی ایسی روایات منقول ہیں. ہندستان میں سلطنت مغلیہ کے بانی ظہیر الدین محمد بابر نے اپنے بیٹے ہمایوںکو بستر مرگ سے ایک وصیت کی تھی جو اس ملک کی غالب آبادی کے مذہب و ملت کی رعایت کرتی تھی.عموماً ان سیاسی وصایا کی کوئی تحریری یا غیر تحریری آئینی حیثیت نہیں ہوتی تھی، البتہ مختلف ا دوار میں احوال زمانہ کی رعایت کرتے ہوئے کبھی کبھی ان وصایا سے استناد کر لیا جاتا تھا. اسی روایت پر عثمان خان نے بھی عمل کیا. تاہم اس نے ایک ایسی تقریر کی جسے بڑی حد تک آئینی کہا جاسکتا ہے.
 روایات کے مطابق آخری وقت میں عثمان خان نے اپنے بڑے بیٹے اور نامزد جانشین اُرخان کو طلب کیا. اس وقت عثمان کے بستر کے گرد موجود لوگوں میںعثمان خان کے دیگربیٹوں کے علاوہ اخی شمس الدین، اخی حسن، تُرگُت الپ اور سلتوک الپ شامل تھے. عثمان خان نے پہلی وصیت ان سب کو مشترکہ طور پر کی:
 ۔’’میری پہلی وصیت میرے بیٹوں اور دوستوں کو یہ ہے کہ جنگ ترک مت کرنا.جہاد کو اعلیٰ مرتبہ تک پہنچانا، اور پرچم کوہمیشہ بلند رکھنا. میری بعد کی نسلوں میںاگر کوئی راہ راست اور عدل گستری ترک کردے تو میں دعا کرتا ہوں کہ وہ روز قیامت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت سے محروم ہوجائے.‘‘
 اپنی آئندہ نسلوں کے لئے اتنی سخت بات کہنے کے بعد وہ اپنے نامزد جانشین بیٹے اُر خان کی طرف متوجہ ہوا.
 ’’میرے بیٹے،دنیا کا کوئی سلطان موت کے حکم کو نہیں ٹال سکتا. اب اللہ کے فیصلے اور مشیت کے مطابق موت مجھ سے قریب تر ہے. میں اس روحانی سفر میں دنیوی امیدوں کو ترک کرتا ہوں.
 ’’میرے بیٹے، میں یہ ریاست اور یہ امارت اب تمہارے حوالے کرتا ہوں اور تمہیں اللہ کے سپرد کرتا ہوں. اپنے تمام امور و اقدامات میں قانون کی بالا دستی کو قائم رکھنا. اپنے سپاہیوں اور عوام کو اپنے عزیز اقربا کی مانند سمجھنا اور ان کے تمام حقوق بلا کم و کاست ادا کرنا.تاہم یاد رکھو کہ گناہ کبیرہ میں مبتلا ایسا شخص جو بار بار ایسے گناہوں کا ارتکاب کرتا ہو وفادار نہیں ہوسکتا.وفادار وہی ہوسکتا ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت پر چلے اور شرع شریف سے باہر قدم نہ نکالے.
 ’’ظلم اور توہم سے اجتناب کرنا.اپنی ریاست کے انتظام سے اس شخص کو نکال باہر کرنا جو ظلم اورتوہمات پر اوروں کو بھی اکسائے.اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ایسا شخص تمہارے زوال کا باعث ہوگا.
 ’’ ہمیشہ جہاد کے ذریعہ اپنی ریاست کی توسیع کرتے رہنا، کیونکہ نقص و کوتاہی کی شکار کوئی مہم دیر پا نہیں ہوتی اوراس کے نتیجہ میں بہادر سپاہ میں،ضروری معلومات کی فراہمی میں اور سالاروں کے اقدامات میں ابتری واقع ہوجاتی ہے.نتیجتاً تجربہ کار سپاہی اورسالار مارے جاتے ہیں اور ان کی جگہ ناتجربہ کار اور کم علم افراد آجاتے ہیں.وہ لوگ لگاتار غلطیاں کرتے ہیں اور نقصان ریاست کو اٹھانا پڑتا ہے.
 ’’بیت المال میں بچت کو اصول بناؤ اور مالیہ میں اضافہ کی کوشش کرتے رہو.شرع شریف کے مطابق مال کے استعمال پر قانع رہو اور ریاست کی آمدنی کوغیر مفید اخراجات پر ضائع نہ کرنا بلکہ ریاست کی ضروریات پر خرچ کرنا.فضول خرچی سے بچتے رہنا.
 ’’اپنے فوجیوں اور اپنی املاک اور مال پر کبھی غرور نہ کرنا، کیونکہ وہ تو تمہارے اور اللہ کے مابین ایک واسطہ ہیں جو تمہیںخدمات عامہ اور عدل و انصاف کرنے کا اہل بناتے ہیں.
 ’’اللہ کی خاطر مدبرین سلطنت کی فلاح اور سلامتی کا خیال رکھنا اور ان میں سے کسی کا انتقال ہوجائے تو ان کے پسماندگان کی ضروریات زندگی کی کفالت کرتے رہنا.
 ’’عوامی املاک پرکبھی ظلم و تعدی سے غاصبانہ قبضہ نہ کرنا.ضرورت مندوں کے ساتھ مرحمت کا سلوک کرنا اور ایسے لوگوں کے رشتہ داروں کوتکلیفات سے پناہ دینا.
 ’’اچھے فوجی افسران کی سلامتی کا خیال رکھنا.
 ’’ریاست کے ڈھانچہ کی قوت علماء، دین دار اشخاص،اہل فن و حرفہ اور اہل ادب ہوتے ہیں. ان لوگوں کے ساتھ تواضع سے پیش آنا اور ان کا اکرام و اعزاز کرنا.جب نیک لوگوں کے بارے سنو تو ان سے قریبی تعلق قائم کرنا ، انہیں فارغ البال کرنا. خیال رہے کہ تمہاری سلطنت میںنیک ایماندار لوگوں اور اہل علم کی تعداد میں روز افزوں اضافہ ہوتا رہے.
 ’’سیاسی اور اسلامی ذمہ داریوں کا ایک محکم نظم قائم کرنا.مجھ سے سبق حاصل کرو. میں ان مقامات پر ایک کمزور قائدکے طور پر آیا تھا اور محض عنایت جلیل ربانی سے اپنے موجودہ مقام تک پہنچا ہوں اگرچہ میں اس مقام کا اہل نہیں ہوں.تم میرے راستے پر چلنا اور دین محمدی، اہل ایمان اور اپنے پیرؤوں کی حفاظت کرنا.حقوق اللہ اور حقوق العباد کا ہمیشہ احترام کرنا. اپنے بعد آنے والوں کو اسی نوعیت کی نصیحت کرنے سے ہرگز گریز نہ کرنا.عدل و انصاف اور دیگر فرائض کی ادائیگی میں اللہ کی مدد پر بھروسہ رکھنا تاکہ ظلم کا خاتمہ کردو.دشمن کی یورشوں اور مظالم سے اپنے عوام کا تحفظ کرنا.کسی بھی فردکے ساتھ نامناسب سلوک نہ کرنا . عوام کو خوش اور شکر گزار رکھنا اور انکی املاک کی حفاظت کرتے رہنا.‘‘(۱)
 ’’بیٹے،دینی امور کو دیگر تمام معاملات پر فوقیت دینا.دینی تعلیمات اور رشد و ہدایت پر عمل سے ایک مستحکم ریاست تعمیرہوتی ہے.امور دین کی ذمہ داریاں بے پرواہ، بد دین اور گمراہ لوگوں یا خود غرض،کم عقل اور نا تجربہ کار افراد کے حوالے مت کرنا، نہ ہی ریاست کا انتظام اس قسم کے آدمیوں کے سپرد کرنا، کیونکہ جس کے دل میں اپنے خالق اللہ کا خوف نہیں ہوتا اس کے دل میں مخلوق کا خوف بھی نہیں ہوتا
 آخر میں عثمان خان غازی نے ہدایت کی کہ اسے برصہ کے گمشلو گنبد کے اندردفن کیا جائے. برصہ کا محاصرہ جاری تھا. فتح نزدیک تھی. عثمان خان غازی کے انتقال سے کچھ پہلے ہی وہ اہم شہر فتح ہوا جہاں ہدایت کے مطابق اس مرد جلیل کی تدفین عمل میں آئی.انتقال کے وقت عثمان خان کی عمر ۶۹ سال تھی.

 دستور اساسی کے چار گواہ

 بستر مرگ سے عثمان خان غازی کایہ خطاب تو بظاہر تو ار خان سے تھا مگر لگتا یہ ہے کہ اس وقت وہ ار خان کے توسط سے اپنے آنے والی تمام نسلوں سے خطاب کر رہا تھا.اس مختصر تقریر میں اس نے سلطنت عثمانی کا دستور اساسی بیان کردیاتھا، اور اس وصیت کا گواہ اپنے عہد کے دو دینی بزرگوں  ۔  اخی شمس الدین اور اخی حسن   ۔  اور دو عمائدین سلطنت  ۔   تُرگُت الپ اور سلتوک الپ  ۔  کو بنایا تھا.یاد رہے اخی شمس الدین اور اخی حسن جہاں طبقۂ صوفیاء سے تعلق رکھتے تھے وہاں اہل حرفہ و صنعت و تجارت کی انجمنوںکے نمائندہ بھی تھے. دستوری تقریر کے گواہوں کایہ انتخاب بجائے خود اس بات کی دلیل تھا کہ عثمان خان غازی اپنی سلطنت کے سیاسی امور میں علمائے دین، اہل اقتصادِ ملی اور امرائے سلطنت کو یکساں اہمیت دیتا تھا، ان کے زندگی کے تجربات و مہارت ، علم و دانش اور عقل و فراست کو اس نے پہلے دن سے اس سلطنت کی بنیاد میں رکھ دیا تھا جس کے طوطی نے چھ صدیوں تک دنیا کے نقار خانوں کو خاموش رکھا.
 ایک اور نکتہ جو عثمان خان کی آخری مجلس میں سامنے آتا ہے وہ یہ کہ اس نے اپنی وصیت کے لئے اسلامی قانون شہادت کی رو سے کم سے کم کے بجائے زیادہ سے زیادہ قانونی گواہیوں کا التزام کیا.اسلامی قانون میں کم سے کم دو گواہیاںکسی اہم مسئلہ میںمعتبر مانی جاتی ہیں، البتہ سنگین معاملات میں کم سے کم چار ثقہ  شہادتیں مہیا ہونا لازمی ہے. عثمان خان کی آخری مجلس میں ان چار علماء اور عمائدین سلطنت کے علاوہ  وصیت کے مخاطب اور شاہد کے  طور پرخود اُرخان اور اس کے دیگر برادران بھی موجود تھے، جس کا مطلب یہ تھا کہ چار ثقہ گواہوں کے ساتھ ایک درجہ میں شہادت عامہ کی شرط بھی پوری ہو رہی تھی
 ان تمام گواہوں کے زمانۂ حیات ہی میں یہ زبانی وصیت عوام الناس تک بھی پہنچی اور ضابطۂ تحریر میں بھی آگئی اور اس کی تردید نہیں ہوئی.اس وصیت کے غلط یا غیر معتبر نہ ہونے کی ایک دلیل یہ ہے کہ اس کے بیان کے بعد ۶۰۰ سال سے زائد عرصہ تک عثمان خان کی اولاد سلطنت پر بر سراقتدار آتی رہی اور ان میںمراد ثانی، محمد ثانی الفاتح، سلیم اول، سلیمان قانونی،عبدالمجید اول جیسے با جبروت سلاطین نے بھی حکومت کی مگر وصیت کا یہ جملہ حذف نہ کیا گیا کہ:
 ’’ . . .  میری بعد کی نسلوں میںاگر کوئی راہ راست اور عدل گستری ترک کردے تو میں دعا کرتا ہوں کہ وہ روز قیامت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت سے محروم ہوجائے.‘‘
 ان طاقتور سلاطین نے اختیارات کے باوجود اس سخت امتحانی فقرہ کو وصیت سے قلم زد نہیں کیا بلکہ اسے اپنی سیاست کا بنیادی اصول بنایا اور مستقل یاددہانی کے عنوان سے وصیت میں اسے برقرار رکھا.ان کے برعکس کمزور سلاطین میں یہ جرأ ت نہ تھی کہ وہ اس فقرہ کو حذف کرنے کا ارادہ بھی کریں.یہی ثبوت ہے کہ تاریخ میں شکوک پیدا کرنے والے گروہوں کی تمام تر کوششوں کے باوجودعثمان خان کی وصیت کی دستاویزی حیثیت شبہ سے بالا تر ہے.تاریخ کی کتابوں میں مولانا اکبر شاہ خان نجیب آبادی نے تاریخ اسلام میں اجمالاً اس وصیت کا ذکر کیا ہے.اس میں ساری تفصیل تو نہیں ہے مختصراً تمام نکات کو انہوں نے اپنے الفاظ میں رقم کردیا ہے.اس سے بھی یہ ثبوت فراہم ہوجاتا ہے کہ عثمان خان کی یہ آخری تقریر تاریخی حیثیت رکھتی ہے

اسلامی فلسفۂ سیاست

 اس سے قبل کہ عثمان خان کے اس بیان کا تجزیہ کیا جائے، مناسب ہے کہ مسلم مفکرین سیاست کے افکار و آراء اور ان کی ساڑھے تیرہ سو سال کی تاریخ پر ایک اجمالی نظر ڈال لی جائے.
 اسلامی سیاست کسی فلسفہ نے پیدا نہیں کی تھی.اپنے آغاز میں مدینہ منورہ کے ایک ارتقا ء پذیر معاشرے کی عملی زندگی میں وہ راست قرآن حکیم کی آیات اور احادیث میں محفوظ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدایات اور اوامرکا معاشرتی اظہار تھی.اس کی مکمل نمود اول اول عہد نبوی (۶۳۲/۱۰ ھ۔۶۲۲/۱ ھ) میں اور پھر ۶۳۲/۱۰ھ سے۶۶۱/۴۰ ھ کے دوران چار عشروں کی قلیل مدت میں ہوگئی تھی. اگرچہ جنوری ۶۶۱ /رمضان ۴۰ میں حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی شہادت کے بعد وہ نظم اپنی فکری اساس سے کسی قدر ہٹ گیا تھا ، پھر بھی دیگر بہت سے امور میں خلافت راشدہ کے دوران مرتب ہونے والے اساسی اصول سے بدستور مستفید ہوتا رہا. تاہم ۶۷۵/۵۶ ھ میں یزید کی ولی عہدی کے ساتھ سیاست نبوی اور خلافت راشدہ کاعمومی جمہوری نظام سب سے اونچے درجہ پر خاندانی نظام میں تبدیل ہوگیا تھا.(۶)
 مسلم علماء میں سیاسی افکار کا ظہور تو صحابہؓ کے دور ہی میں شروع ہوگیا تھا جس کی ایک نہایت روشن مثال تیسرے خلیفۂ راسد کے انتخاب کے دوران حضرت عبدالرحمٰن ابن عوف رضی اللہ عنہ نے سیاسی تسلسل کو ایک آئینی اصول کے طور پر پیش کرکے قائم کی تھی.بعد کی تاریخ میں جس قوم یا حکومت نے اس اصول کو اپنی سیاست کا عنوان بنایا وہ فلاحی امور میں دوسروں سے زیادہ کامیاب ثابت ہوئی اور جنہوں نے اسے نظر انداز کرنے کی غلطی کی وہ تاریخ میں ناکام ثابت ہوئے. صحابہ ؓ کے بعد انہی کی سنت کو آگے بڑھاتے ہوئے تابعین ؒ نے نظام حکومت کو فلسفیانہ اساس مہیا کی. امام ابو حنیفہ(۷۶۷۔۶۹۹/۱۵۰۔۸۰)، امام سفیان ثوری (۷۷۸۔۷۱۶/۱۶۱۔۹۸)جیسے فقہا نے اس موضوع پر وزنی رائیںقائم کی تھیں.بعد میں دیگرعلوم کی طرح سیاسیات کو بھی مسلم مفکرین نے ایک مستقل موضوع کی حیثیت سے اپنے قلم کی جولان گاہ بنایا.ان میں سر فہرست ابو نصر فارابی (۹۵۰۔۸۷۲/۳۳۹۔۲۵۹) تھے جن کی کتاب  ’ آراء اہل مدینۃ الفاضلہ‘  سیاسیات کے موضوع پر بہت اہم فلسفیانہ تحریر ہے.فارابی کے بعد کی صدی میں ابو الحسن الماوردی (۱۰۵۸۔۹۷۲/۴۵۰۔۳۶۲) نے اسی موضوع پر ’ احکام السلطانیہ ‘ لکھی.عثمان خان کے ہم عصر ابن تیمیہ (۱۳۲۸۔۱۲۶۳/۷۲۹۔۶۶۲) کی کتاب  ’الذریعہ الیٰ مکارم الشریعہ‘  بھی سیاسیات کا احاطہ کرتی ہے. اس کے علاوہ  ’السیاسۃ الشرعیہ ‘  اس موضوع پر ان کی دوسری کتاب ہے. دیگرکئی علمائے سیاسیات نے اس موضوع پر الگ سے تو کچھ نہیں لکھا البتہ قرآن حکیم کی تفاسیر میں (شیخ ابن عربی، محمود آلوسی بغدادی ) یاکتب فقہ میں (امام محمد ابن عابدین الشامی )اس موضوع پر اجمالی یا تفصیلی گفتگو کی جاتی رہی.ان بزرگوں کے علاوہ بھی قدیم و جدید علمائے اسلام نے اس اہم موضوع کا حق ادا کیا ہے
 ان تمام کتب اور تحقیقات کا ماحصل یہ ہے کہ ان مسلم مفکرین میں سے کسی نے طرز حکومت کا ویسا الجھا ہوا ذکر نہیں کیا جیسا کہ نشأۃ الثانیہ کے بعد پیدا ہونے والے یورپی سیاسی مفکرین کا طرز رہا ہے.مسلم سیاسی مفکرین نے عام طور سے اس نظام کو قبول کر لیا تھا جو بنی امیہ کے دور سے مسلم ممالک میں رائج تھا، باوجودیکہ یہ نظام موروثی تھا لیکن علماء سیاسیات کا منشا یہ تھا کہ حکمراں اسلامی قوانین سیاست کے مطابق حکومت کرتے رہیں تو معاشرہ کا فرض کفایہ ادا ہوجاتا ہے. یہ بھی ایک عام تأثر تھا کہ اگرچہ خلافت راشدہ دنیا کا بہترین سیاسی نظام تھا لیکن حکمراں کے انتخاب میں اس مبارک عہد کے مختلف طریقوں میں سے کسی ایک طریقے کی پیروی کرنا نصوص و فرائض میں نہیں تھا. سیاست ایک حرکی نظام ہے اس لئے اس کے ظہور اور نفوذ میں تبدیلی کی گنجائش برقرار رہنی چاہیئے اور یہی  جانشینی کے مسئلہ پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خموشی اور سقیفہ بنو ساعدہ کے انتخابی اجلاس میں قائم ہونے والی خلافت راشدہ کا اصل منشاء بھی تھا.مگر اس حرکی اصول  کے اطلاق کا نتیجہ یہ نکلا کہ خاندانی موروثی نظام کو اسلامی سیاست میں آئینی درجہ حاصل ہوگیا جس میں عوام الناس اور اہل حل و عقد کی شوریٰ کا کوئی حصہ نہ رہا. اس کا بڑا نقصان جس پر کسی کی توجہ نہ ہوئی یہ تھا کہ اسلامی سیاست ایک حرکی نظام کے بجائے جامد موروثی نظام میں تبدیل ہوگیا.اس نقطۂ نظر کی تردید پہلی بار مولانا محمد میاں منصور انصاری (م:۱۹۴۹) نے اپنی فارسی کتاب انواع الدول(مطبوعہ افغانستان تقریباً۱۹۲۰) میں کی اور ان کے افکار سے استفادہ کرتے ہوئے ان کے صاحب زادے، مولانا حامد الانصاری غازی (۱۹۹۱۔۱۹۰۷/۱۴۱۲۔۱۳۲۵)نے اسلام کا نظام حکومت میں اسلامی سیاسی نظام کو ایک مکمل اور منفرد طرز حکومت کے طور پر پیش کیا. مولانا غازی کی کتاب اسلامی سیاسیات کے موضوع پر دنیا کی کسی بھی زبان میں سب سے زیادہ مدلل ، مبسوط اورمکمل صحیفہ ہے جس کی دستاویزی حیثیت ناقابل انکار ہے .
 یہاں اس گفتگو کا مقصد صرف اس نکتہ پر اصرار ہے کہ ۱۳۰۱/۷۰۱ میں انتقال کے وقت عثمان خان کے سامنے جو سیاسی نظام اسلامی دنیا میں معروف تھا وہ وہی خاندانی موروثی سلاطین کا تھا. اس نے اس نظام میں کوئی بنیادی تبدیلی نہیں کی. اس کا موضوع سیاسی نظریہ سازی نہیں خود سیاست تھی.اس کی خاندانی،تمدنی، ثقا فتی، اور کسی درجہ میں اسلا می میراث وہی نظام حکومت تھا جو سات صدیوں سے مسلم دنیا میں رائج تھا.اس نظام میں کوئی تبدیلی یا اس کی اصلاح اس کا منصب تھا نہ منشائ.اس کی مجلسوں میں موجود علماء بھی سیاسی فلسفہ کے ماہر نہیں تھے کہ عثمان خان کو اس سلسلہ میں کوئی مشورہ دیتے.لہٰذا عثمان خاں نے بھی اپنے خاندان کی حکومت قائم کی اور یہی وجہ ہے کہ اس کی وصیت کا اصل مخاطب اس کامتعینہ جا نشین ار خان تھا.

حواشی
۱ ۔ http://www.osmanli700.gen.tr/english/sultans/01index.html
۲۔ a blog at WordPress.com۔ http://chemworld.wordpress.com/2008/10/04 
۳۔ثقہ سے مرادوہ صفت ہے جس میںٓدمی نہ صرف معتبر ہو بلکہ اس کے قول و عمل پر معاشرہ کو مکمل اعتماد ہو، وہ متین و سنجیدہ، باوقار ہو، اس کی زندگی سادہ اور بے تکلف ہو اور شوخی، بھڑکیلے پن اور نمود و نائش سے پاک ہو اور اصول تصوف کی رو سے جسے خالق کائنات اور مالک قضاء و قدر پر اور ارشادات نبوی پر پورا وثوق اور یقین ہو.حوالہ کے لئے دیکھئے اردو لغت مرتبہ وفاقی وزارت انفرمیشن ٹیکنولوجی، حکومت پاکستان،اسلام آباد، ۲۰۰۶. چار شہادتوں کی شرط حد قذف کے سلسلہ میں ہے.یہ قانون قرآن حکیم، سورہ النور۲۴: ۴  سے متعین ہوا .باقی عام انسانی معاملات میںشہادت عامہ کا اصول بھی آئینی اور قانونی حیثیت رکھتا ہے. تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو مولانا حامد الانصاری غازی کی کتاب اسلام کا نظام حکومت.۔۔ م ط غ
۴۔غازی، حامد الانصاری، اسلام کا نظام حکومت، دہلی، ۱۹۴۱.ملاحظہ ہو قانون بیعت عامہ
۵۔نجیب آبادی، اکبر شاہ خان، تاریخ اسلام، ۔۔۔۔۔۔۔۔، ج ۳، ص
۶۳۱۹۔ یہی خاندانی نظام آئندہ صدیوں میں مسلم دنیا میں ہر جگہ رائج اور مقبول رہا اور آج بھی  ۔  ترکی، ملیشیا اور ایران کو چھوڑ کر  ۔  مسلم ممالک کی اکثریت اسی نظام پر قانع ہے. ۔۔ م ط غ
۷۔ہمہ گیرتفصیلات کے لئے مطالعہ کیجیئے: مولانا حامد الانصاری غازی کی اسلام کا نظام حکومت (دہلی، ۱۹۴۱). پہلی صدی ہجری کے افکار کے لئے دیکھئے:مولانا مناظر احن گیلانی کی امام ابو  حنیفہ کی سیاسی زندگی(لاہور). مزیدتشریحات کے لئے دیکھئے:  شیخ ابن عربی کی تفسیر کبیر اور فصوص الحکم،علامہ محمود آلوسی بغدادی کی تفسیر روح المعانی، امام ابن عابدین الشامی کی رد المحتار علی در المختار کے متعلقہ ابواب، اور امام شاہ ولی اللہ دہلوی حجۃاللہ البالغہ کے متعلقہ حصے.


یادداشت:اس طویل باب کا آخری حصہ عثمان خان کی وصیت کے تجزئے پر مشتمل ہے. وہ حصہ بھی تقریبا مکمل ہوگیا ہے مگر اس میں ابھی کچھ نکات پر گفتگو اورپر نظر ثانی کی ضرورت ہے جس میں خاصا وقت لگ جائے گا. لہٰذا مزید تاخیر سے بچنے کے لئے تجزئے کے حصہ کو الگ کر دیا ہے اور آئندہ ماہاس حصہ کوایک مستقل باب کی صورت میں پیش کر دیا جائے گا.البتہ آخری دستاویز میں یہ دونوںحصے ایک باب کے طور پر مرتب ہوں گے.  ۔   م ط غ

 

محمد طارق غازی
ٓآٹوا، کینڈا  ۔  پنجشنبہ ۵ جنوری

مضامین
14-Jul-10 یہ حب رسول ؐ نہیں ہے۔
05-Jul-10 ادب کا رشتہ بصیرت اور زندگی سے
May-10
10-May-10 ہمارے موجودہ تمام مسائل کا صرف ایک حل
08-May-10 مسلم تعلیمی اداروں کا وفاق وقت کی اہم ضرورت
06-May-10 ڈاکٹر محمد حسن کا سفر آخرت
Feb-10
04-Feb-10 یکتا یکتا :محمد علی شیخ
04-Feb-10 سلطنت عثمانیہ ۔ وصیت کے موضوعات
04-Feb-10 یکتا یکتا : محمود ایوبی
Nov-09
27-Nov-09 نکتگو : مطالعہ
14-Nov-09 سلطنت عثمانیہ - 4
03-Nov-09 یکتا یکتا : عبد الحمید انصاری
Oct-09
20-Oct-09 کہیں یہ وہ تو نہیں
15-Oct-09 نکتگو ۔ زبان
02-Oct-09 عثمان خاں کا خواب
Sep-09
28-Sep-09 حقیقت عید
28-Sep-09 یکتا یکتا : حکیم الاسلامؒ حضرت مولانا محمد طیب، مہتمم دارالعلوم دیوبند
28-Sep-09 نکتگو : اعتماد
28-Sep-09 نکتگو
28-Sep-09 نکتگو : عادتیں
01-Sep-09 سلطنت عثمانیہ ۱۲۹۹ تا ۱۹۲۳
Aug-09
24-Aug-09 نکتگو : اجتماعیت
22-Aug-09 مولانا سید شاہ ابرار الحق ، جامعہ اور بھٹکل
16-Aug-09 یکتا یکتا : رسول احمد کلیمی
06-Aug-09 نکتگو : جذبہ
04-Aug-09 صحافت فیشن یا پروفیشن
02-Aug-09 اسلامک بینکینگ ایک انسانی ضرورت
Jul-09
24-Jul-09 نکتگو : ہم
19-Jul-09 یکتا یکتا ؛ ظ انصاری
19-Jul-09 یکتا یکتا : کلیم الدین شمس
04-Jul-09 گھنشیام ڈاکو کو ڈاکو کس نے بنایا؟
Jun-09
28-Jun-09 آہ وہ تیر نیم کش،جس کانہ ہو کوئی ہدف
May-09
19-May-09 تنقید
Mar-09
24-Mar-09 ہم امن کے پیامبر ہیں، دہشت کے نہیں
18-Mar-09 نفرت کرنے والے، محبت کرنے والے
Jan-09
20-Jan-09 مسلمان پس ماندہ کیوں ہیں
04-Jan-09 اینٹی شپ میزائل
Dec-08
23-Dec-08 ذرا ’’جوتوں ‘‘سے کہہ دو جی نشانہ چوک نہ جائے
Nov-08
16-Nov-08 اقبال :غلام ہند کا آزاد شاعر اور اس کی معنویت
11-Nov-08 نکاح میں حائل تمدّ ن کی جھڑ بیریاں
09-Nov-08 زبان اپنے چاہنے والوں سے زندہ رہتی ہے
08-Nov-08 خدا را حج اور عمرہ کو ایک مذہبی پک نک نہ بنائے
05-Nov-08 ٹیپو سلطان ہرگز کنٹرا دشمن نہیں تھے
Oct-08
11-Oct-08 اردو آڈیو ڈاٹ کام :ایک قابل دید ویب سائٹ
10-Oct-08 تم جوابِ وفا دو نہ دو۔ ۔ ۔
09-Oct-08 گاندھی جی، قرآن، مسلمان اور اردو
Sep-08
25-Sep-08 تحریک آزادی اور اردو
Aug-08
28-Aug-08 جسٹس جگموہن لال سنہا
17-Aug-08 ممبئ کانفرنس اسلامی ادب کی شاہراہ پر ایک نیا سنگ میل
Jul-08
16-Jul-08 قدر مردم بعد مردن
Jun-08
24-Jun-08 جب نہرو نے گولیاں چلانے کا حکم دیا تھا
07-Jun-08 تعدد ازدواج رحمت یا زحمت
May-08
30-May-08 امت مسلمہ اور اسلام کے خلاف صلیبی اور یہودی اتحاد
30-May-08 یوم محبت ویلنٹائن ڈے ایک بت پرستانہ عبادت ، ایک مشرکانہ رسم
30-May-08 ریاست کرناٹک کی قانون ساز اسمبلی میں مسلمانوں کا تناسب
30-May-08 ہندوستانی مسلمانوں کا تعلیمی معیار ۔ تصویر کا دوسرا رخ
29-May-08 جنت کے مناظر اور اس کے حق دار
29-May-08 سیرت کا تربیتی پہلو
29-May-08 ہماری عادتیں کہیں ہمارا شیرازہ نہ بکھیردیں
29-May-08 حسن اور خوبصورتی
29-May-08 لباس کی شرعی حیثیت
29-May-08 سرزمینِ اسراء ومعراج: فلسطین
29-May-08 سیکولر بھارت اور ہندتو
29-May-08 موت سے کس کو رستگاری ہے
29-May-08 اتحاد ملت
25-May-08 جہنم کی ہولناکیاں اور اس کے ایندھن
25-May-08 خاموشی ضروری ہے
The view points and opinion solely those of the author or source. akhbaroafkar.com is not responsible for the posted contents..
 


Home Page
Qoum-e-Khabre
Alam-e-Khabre
Khabro Nazar
Haalat-e-Hazera
Mazamein
Ghose Maajidi
Urdu Book Review
Taarikh-o-culture
SharO Adab
Shakhsiat
 
Alvi Nastaleeq Font
 
KhabroNazer Archives

DAWATOnline
   
 
   
 
   

Bhatkallys.com
ہمارے بارے ميں ريد گسٹ بک ساين گسٹ بک ہميں لکھءے
 
Copyright (c) www.akhbarOafkar.com 2008