پولیس والوں کو سزائیں
جنوری ۴ کومحکمۂ پولیس اور اس کے اعلیٰ افسران سے متعلق کئی خبریں آئیں جن کی تفصیلات ۵ جنوری کے اخبارات میں موجود تھیں۔ (۱) مرکزی حکومت نے ہریانہ کے سابق ڈائرکٹر جنرل آف پولیس ایس پی ایس راٹھور سے بہتر کارکردگی کا پولیس میڈل واپس لینے کا فیصلہ کیا ہے۔ راٹھور کو سولہ سال قبل روچیکا نامی لڑکی کے ساتھ بدسلوکی کا قصوروار پایاگیا تھا ۔ روچیکا نے خودکشی کرلی تھی۔ حکومت نے ایسا ضابطہ وضع کرنے کا فیصلہ بھی کیا ہے کہ آئندہ اگر کسی پولیس والے کو کسی معاملے میں قصوروارپایا جائے تو اس کااعزاز خودبخود منسوخ ہوجائے (۲) اس فیصلے کے بعد ایک آئی پی ایس افسر آر کے شرما کا تمغہ بھی چھن جانے کا امکان پیدا ہوگیا ہے، جسے شوانی بھٹناگر کے قتل کے معاملے میںقصوروار پاکر معزول کردیاگیا ہے۔ یہی معاملہ پنجاب کے سابق ڈی جی پی ،کے پی ایس گل کے ساتھ بھی ہوسکتا ہے۔ گل کو ایک خاتون آئی اے ایس افسر کے ساتھ ایک تقریب میں بدتمیزی کا مجرم پایا جاچکا ہے (۳) پنجاب وہریانہ ہائی کورٹ نے رولنگ دی ہے کہ اعلیٰ پولیس افسران سمیت ان تمام اعلیٰ حکام اورشخصیات پر تیز رفتار عدالتوں میں مقدمات چلائے جائیں جن کے خلاف شکایات درج ہیں۔ عدالت نے روچیکا معاملے کو ’’انصاف میں تاخیر عدم انصاف کے مترادف‘‘ کا بہترین نمونہ قرار دیا۔ (۴) یوپی کے سون بھدر ضلع کے ایڈیشنل سیشن جج نے ان چودہ پولیس والوں کے خلاف فیصلہ سنایا ہے جن پر ۳۰۰۲ء میں دو نوجوانوں کو فرضی انکاؤنٹر میں ہلاک کرنے کا الزام تھا۔ ان میں پانچ کو عمرقید کی سزا سنائی گئی اور نو کو قصوروار قرار دیاگیا۔ ایک واقعے کی یاد دہانی ہندوستانی پولیس کی یہ تصویر نئی نہیں ہے۔ ان خبروں نے صرف اس کے کردار کی یاددہانی کرا دی ہے۔ اس یاد دہانی سے ابھی کل کا واقعہ یاد آرہا ہے ۔ ۱۹ستمبر ۲۰۰۸ءکو جنوبی دہلی کی بٹلہ ہاؤس کالونی میں دہلی پولیس نے دونوجوانوں کا ’’انکاؤنٹر‘‘ کردیا تھا۔ واقعے میں پولیس کے ایک انسپکٹر کی موت بھی واقع ہوگئی تھی۔ حقوق انسانی کے گروپ اس ’’انکاؤنٹر‘‘ پر سوالات اٹھارہے تھے۔ دہلی ہائی کورٹ نے حقوق انسانی کے قومی کمیشن کو ہدایت دی کہ واقعے کی انکوائری کرکے اس کی رپورٹ پیش کرے۔کمیشن نے ایک رپورٹ تیار کی جو پولیس کی بیان کردہ کہانی کی کاپی تھی۔ دہلی ہائی کورٹ نے رپورٹ پر ’’غور‘‘ کیااور اسے درست قرار دیا۔ رپورٹ کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیاگیا لیکن سپریم کورٹ نے بھی رپورٹ کی توثیق کردی۔ یہاں تک توکوئی خاص بات نہیں تھی۔ خاص بات وہ تھی جو رپورٹ پر اپنی رائے ظاہر کرتے ہوئے سپریم کورٹ کی بنچ نے کہی تھی۔ بنچ نے کہاتھا : ’’ بٹلہ ہاؤس معاملے میں پولیس کے کردار پر تنقیدغلط ہے۔ پولیس کے کردار پر سوالات نہ اٹھائے جائیں۔ اس سے پولیس کے حوصلے پست ہوں گے‘‘۔ عدالت عظمیٰ کی رولنگ کی جو تفصیلات میڈیا میں آئی تھیں ان سے صاف ظاہر ہوسکتا تھا کہ اسے پولیس کے حوصلوں کی فکر زیادہ ہے ۔ مدعی عدالت کو اصل واقعے کی سنگینی بتانے میں ناکام رہا۔ یہ صاف دو رخی ہے مگر تازہ خبریں بتاتی ہیںکہ شہریوں کی عزت و آبرواور جان ومال کی حفاظت زیادہ عزیز ہے۔ یہاں پولیس کے حوصلوں کی پروا نہیں ہے۔ پولیس والوں کو سزائیں دے کر ان کی اصلاح کی فکر ہے۔ بمبئی میں ایک مافیا ڈان کی ضیافت میں شرکت اور خرمستیاں کرنے پر تین پولیس افسروں کو معطل کردیاگیا۔ کچھ اور معاملات میں پولیس افسران پر شکنجہ کستا جارہا ہے۔ پولیس کے طرز عمل پر اپنائی جانے والی یہ دورخی صاف طور پر نوٹ کی جاسکتی ہے۔یعنی لا اینڈآرڈر کے عام مسائل میں پولیس واقعی قابل گرفت ہے۔ پولیس والوں کے خلاف ہر قانونی کارروائی کی جاسکتی ہے۔ خواہ پوری پولیس فورس کے حوصلے پست ہوتے ہوں، لیکن ’’دہشت گردی‘‘ کی روک تھام کے نام پر پولیس جو کچھ بھی کرے، کسی کا ’’انکاؤنٹر‘‘ کردے، کسی کو بھی پکڑ کر جیل میں ڈال دے، کسی بھی خاندان کی عزت و آبرو خاک میں ملا دے، کسی بھی فرقے کی کردار کشی کا باعث بن جائے،اسے کچھ نہیں کہا جاسکتا۔ اس معاملے میں پولیس فورس ’’پوترگائے‘‘ بن جاتی ہے۔ اس کے طرز عمل کے خلاف آواز اٹھانااس کے حوصلے پست کرنا ہے یہاں تک کہ ’’دیش بھکتی‘‘ کے خلاف ہے۔ اور ستم کی بات یہ ہے کہ اس بے انصافی کو ’’راشٹر واد‘‘ سمجھا جاتا ہے ۔ کیا ایسا کوئی گروہ موجود نہیں ہے جو یہاں کے ارباب سیاست کو بتا سکے کہ یہ رویہ کسی بھی طرح ملک کے مفاد میں نہیں ہے، انجام کار یہ ملک کو ناکامی کی طرف لے جاسکتا ہے۔
یکم جنوری ۲۰۰۹ |