تعلیمی میدان میں اصلاحات
سپریم کورٹ نے حال ہی میں بچوں کی لازمی تعلیم کے نفاذ میں تاخیر پر تشویش ظاہر کی تھی جس کے پیش نظر مرکزی حکومت نے چہار شنبہ کو وعدہ کیا ہے کہ حق تعلیم کے قانون کو بہت جلد نافذ کیا جائے گا جس کے تحت چھ تا چودہ سال کی عمر کے تمام بچوں کےلئے اسکول جانا لازمی ہوگا ۔سپریم کورٹ نے 1993 میں ملک میں ہر بچہ کی مفت اور لازمی تعلیم کے متعلق قانون کی ضرورت پر زور دیا تھا جو ابھی نافذ العمل نہیں آیا ہے۔ تاخیر کی وجہ غالباً یہ ہے کہ اس قانون کے نفاذ کے لئے ایک کثیر سرمایہ درکار ہے ۔مرکزی وزیر فروغ انسانی وسائل کپل سبل کا کہنا ہے کہ حکومت فنڈز کا انتظام کر رہی ہے ۔اندازہ ہے کہ حق تعلیم کے قانون پر عمل آوری کے لئے اگلے پانچ برسوں میں ایک لاکھ 71 ہزار کروڑ روپئے درکار ہوں گے۔ حکومت غریب اور باصلاحیت طلبہ طالبات کی مدد کے لئے ایک نیشنل ہائر ایجوکیشنل فنڈنگ کارپوریشن قائم کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ تاہم کپل سبل محسوس کرتے ہیں کہ حق تعلیم کے قانون کے نفاذ کے ساتھ ساتھ بدلے ہوئے حالات اور جدید تقاضوں کو مد نظر رکھتے ہوئے امتحانات کے فارمٹ اور طور طریقے بدلنے کی بھی ضرورت ہے تاکہ بچے محض رٹنے رٹانے تک محدود نہ ہو جائیں بلکہ ان کی حقیقی ذہانت کو روشنی میں لایا جائے اور ان میں ایک تخلیقی ذہن پیدا ہوسکے۔ اس تعلق سے حکومت ایک ایکشن پلان تیار کر رہی ہے۔ موجودہ نظامِ امتحان بچوں کو اسباق رٹنے کی طرف مائل کر رہا ہے اور وہ جو رٹتے ہیں وہی امتحان کے جوابی پرچوں میں اتار دیتے ہیں۔ کپل سبل کہتے ہیں کہ ان کی ہارورڈ میں تعلیم کے دنوں میں کتابوں کو امتحان گاہوں میں لے جانے کی اجازت دی جاتی تھی کیونکہ جو سوال پوچھے جاتے تھے اس کے جواب ان کتابوں کے اندر موجود نہیں ہوتے تھے۔ یہ سچ ہے کہ ملک میں تعلیم کے معیار کو بہتر بنانے کی اشد ضرورت ہے تاکہ جدید تقاضوں سے ہم آہنگ ہو سکے۔ رٹنے رٹانے کا رواج بچوں میں تناؤ اور دباؤ کا باعث بن رہا ہے اور آگے چل کر بچوں کو دقتوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ آزادی کے بعد پہلی بار اس طرف توجہ دی جا رہی ہے۔ تاہم تعلیم کے میدان میں انقلابی تبدیلیوں کے لئے ایک کثیر سرمایہ درکار ہے اور حکومت کے لئے اس کا انتظام کرنا ناگزیر ہے۔ جب دفاع کے لئے لاکھوں کروڑ روپئے خرچ ہو سکتے ہیں تو ملک کے مستقبل کے لئے کیوں نہیں؟
|