دہلي يائي کورٹ کا فيصلہ دہلي ہائي کورٹ نے اپنے ايک تاريخي فيصلہ ميں کہا ہے کہ ہندوستان کے چيف جسٹس کا عہدہ حق معلومات (آر ٹي آئي) قانون سے مبرا نہيں ہے اور يہ کہ اعليٰ عدالتوں کے ججس بھي اتنے ہي جواب دہ ہيں جتنے کہ ٹرائل کورٹ کے ججس۔ ہائي کور ٹ کا يہ فيصلہ ہندوستان کے چيف جسٹس کے جي بالا کرشنن کے لئے ايک دھچکہ ہے جن کا موقف يہ ہے کہ چيف جسٹس آف انڈيا کا عہدہ حق معلومات کے قانون کے دائرہ ميں نہيں آتا۔ اس طرح ہائي کورٹ اور سپريم کورٹ کے نظريات ميں تصادم نماياں ہے اور امکان ہے کہ دہلي کورٹ کے اس فيصلہ کو سپريم کورٹ ميں چيلنج کيا جائے گا۔ فيصلہ ميں کہا گيا ہے کہ اعلي عدالتوں کے ججوں کو بھي اپني جائدادوں کي تفصيل منظر عام پر لاني چاہئے اور ان ججوں کي جوابدہي نچلي عداتوں کے ججوں سے کم نہيں ہے۔ ليکن چيف جسٹس آف انڈيا کا نظريہ يہ ہے کہ ان کا عہدہ اور سپريم کورٹ کے ديگر ججس آر ٹي آئي قانون کے دائرہ ميں نہيں آتے۔ تاہم چيف جسٹس اور سپريم کورٹ کے ديگر ججوں نے گزشتہ نومبر کے رضاکارانہ طور پر اپني جائدادوں کي تفصيلات کو عدالت کے ويب سائٹ پر پيش کيا۔ دہلي ہائي کورٹ نے واضح طور پر کہا ہے کہ ججوں کا عہدہ جتنا اونچا ہوگا ان کي جوابدہي کا معيار بھي اتنا ہي زيادہ ہوگا۔ ہائي کورٹ کا کہنا ہے کہ جب جوابدہي کے نفاذ کے لئے نچلي عدالتوں کے ججوں کي طرف سے اپني جائدادوں کا اعلان ضروري سمجھا جاتا ہے تو پھر اعليٰ عدالتوں کے ججوں کي جوابدہي اس سے بھي زيادہ ہوني چاہئے۔ عدليہ کي آزادي کا مطلب ذاتي مراعت يا انفرادي ججوں کا اختيار نہيں ہے۔ ہائي کورٹ نے يہ بھي کہا ہے کہ عدليہ کي آزادي اور غير جانب داري کے تحفظ کے لئے ضروري ہے کہ جج خود کو شکوک و شبہات سے بالاتر رکھے اور ان پر عوام کا اعتماد رہے۔ کچھ قانون ماہرين نے دہلي ہائي کورٹ کے اس فيصلہ کو تاريخي قرار ديتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے عدليہ کا درجہ اور وقار بڑھے گا۔ قانون کا اصول اور قانون کا پيغام يہ ہے کہ کوئي بھي شخص خواہ وہ کتنا ہي بڑا کيوں نہ ہو، قانون سے بالاتر نہيں ہو سکتا۔ دہلي ہائي کورٹ کے فيصلہ ميں بھي يہي پيغام ملتا ہے۔
|