اجمل قصاب کے شوشے ممبئي دہشت گردانہ حملوں کو ايک سال سے زائد عرصہ ہو گيا مگر پاکستان کے عدم تعاون کي وجہ سے معامہ کي تہہ تک نہيں پہنچا جا سکا ہے اور سازش کا پردہ پوري طرح فاش نہيں ہوا ہے۔ 26 / نومبر 2008 کو ممبئي پر ديدہ دليرانہ حملہ کرنے والے دس دہشت گردوں ميں سے نو کي لاشيں بدستور ايک ہاسپٹل کے مردہ خانہ ميں پڑي ہوئي ہيں اور زبان حال سے کہہ رہي ہيں کہ اس سازش کو سلجھانے ميں تاحال کاميبابي نہيں ملي ہے۔ دريں اثناء اس حملہ ميں زندہ پکڑا جانے والا واحد دہشت گرد اجمل قصاب عدالت کے سامنے ہر پل اپنے بيان کو بدلنے اور عدالت کو گمراہ کرنے کي کوشش کر رہا ہے۔ شايد وہ ديوار کا لکھا پڑھ چکا ہے مگر پھر بھي اپنے آقاؤں کے ساتھ وفاداري جتانے کي کوشش کر رہا ہے۔ کچھ دن قبل اس نے عدالت ميں اپنے اقباليہ بيان سے صاف مکرتے ہوئے دعويٰ کيا تھا کہ وہ ممبئي کے دہشت گردانہ حملوں ميں قطعي شامل نہيں تھا اور اسے يہ تک نہيں معلوم کہ اے کے 47/ رائفل کيا چيز ہے اور يہ کہ پولس نے اسے خوامخواہ گرفتار کرکے اندر کر ديا تھا۔ ليکن اس نے عدالت کے سامنے تازہ بيان ديا ہے کہ ممبئي پر دہشت گردانہ حملہ کرنے والے دس ميں سے چار دہشت گرد ہندوستاني تھے۔ ان ميں سے ايک ممبئي کا دوسرا کشمير کا اور تيسرا گجرات سے تعلق رکھتا تھا۔ اس طرح قصاب نے خود اپنے سابقہ بيان کي نفي کر دي کہ ممبئي حملوں ميں ملوث نہيں تھا۔ تاہم اس نے چوتھے دہشت گرد کي شناخت نہيں بتائي کہ ہندوستان کے کس حصہ سے اس کا تعلق تھا۔ اجمل قصاب نے پکڑے جانے کے فوري بعد اقبال جرم کيا تھا اور تفصيل کے ساتھ بتايا تھا کہ کن لوگوں نے اسے استعمال کيا اور کس طرح اس کي ناخواندگي اور غريبي کا فائدہ لشکر طيبہ کے لوگوں نے اٹھايا۔ قصاب کےسابقہ بيانات کي طرح يہ بيان بھي بے ہودہ ہے کہ حملہ آوروں ميں چار ہندستاني تھے۔ اس بيان کا مقصد اس کے سوا کيا ہو سکتا ہے کہ تفتيش کاروں اور عدالت کو گمراہ کيا جائے اور شايد قصاب کو معلوم نہيں کہ پولس کے پاس اس کے خلاف ٹھوس ثبوت موجود ہيں اور بيانات سے مکرنے اور نئے نئے شوشے چھوڑنے کا يہ عمل اس کے لئے فائدہ مند ثابت نہيں ہوگا۔ افسوس کي بات يہ ہے کہ بين الاقوامي دباؤ کے باوجود پاکستان نے اپني سرزمين سے لشکر طيبہ کے ٹھکانوں کو ختم نہيں کيا ہے او وہاں سے برابر کشمير کے اندر در اندازي ہو رہي ہے۔ ان حالات ميں ہندوستان اپنے پڑوسي کے ساتھ مذاکرات کي بحالي کا فيصلہ کيسے کر سکتا ہے۔ پتہ نہيں 26/ نومبر کي سازش کا پردہ چاک کرنے اور قصورواروں کو کيفر کردار تک پہنچانے کي راہ ميں پاکستان کي کيا مجبورياں ہيں مگر جب تک سازشيوں کو سزا نہيں ملتي ہند پاک مذاکرات کي بحالي کے امکانات موہوم ہيں۔
|