محمود ایوبی
ابھی ۲۷ جنوری کو سلمان غازی سلمہ نے علی گڑھ اردو کلب پر ایک غمناک خبر بھیجی: محمود ایوبی کا انتقال ہوگیا. دل دھک سے رہ گیا. موت انسانی زندگی کا ماحصل ہے. ہم سے پہلے اور ہمارے سامنے بے شمار لوگ اس راستہ پر جا چکے ہیں، پھر بھی اس سفرکی خبررنج دہ ہوتی ہے. ایوبی صاحب کے انتقال کی اطلاع نے صدمہ کے ساتھ پرانی یادوں کے لاتعداد چراغ روشن کردئے.اب میں ان چراغوں کے اجالے میں تنہا بیٹھا نہ جانے کیا کیا دیکھ رہا ہوں. سلمان کے چند جملے مجھے چالیس سال پہلے کی دنیا میں لے گئے اور وہیں سے یہ سب کچھ سوچ رہا ہوں اور لکھ رہا ہوں.غم بھلا کس نے بانٹا ہے. کون بانٹ سکتا ہے. یہ بوجھ تو آدمی کو اکیلے ہی بار بار اٹھا نا پڑتا ہے.میں ایک بار پھر اپنی تنہائی میں محمود ایوبی کے پاس بیٹھا ہوں یوں کہ ایوبی صاحب تو بات بھی نہیں کر رہے. ان کے چہرے پر ایک لطیف مسکراہٹ ہے. وہی معصومیت جو کلکتہ کے ہوڑہ سٹیشن پر اس وقت بھی ان کے لبوں پر چسپاں تھی جب وہ بمبئی کے لئے سدھار رہے تھے. کتنی طویل مدت گزر گئی. انہیں منزل مل گئی تھی. میری تلاش ابھی جاری ہے. کریم رضا مونگیری اسزمانہ میں اپنی منزل مراد کو منا نے میں لگے ہوئے تھے اوربرسوں بعد انہوںنے اسے پا بھی لیا تھا.ہاں وہ اس تکون کا ایک زاویہ تھے جو ایوبی صاحب کے بمبئی جانے کے بعد تکون کے بجائے ایک زاویئے کے دو اضلاع رہ گئے تھے. میں ستمبر ۱۹۷۰ کی کسی تاریخ کو حیدرآباد ہوتا ہوا بمبئی سے کلکتہ پہنچا تھا.روزنامہ عصر جدید کی ادارت کے لئے مجھے دعوت دی گئی تھی.سرینگر، کشمیر، میں روزنامہ چنار کی ادارت سے کچھ کم سال بھر کی وابستگی کو خیر باد کہہ کر میں بمبئی واپس آگیاتھا. ان دنوں مسلم مجلس مشاورت کا حامی روزنامہ قائد اور اس سے پہلے ہفتہ وار ندائے ملت لکھنؤ سے نکلنے شروع ہو گئے تھے. میرا خیال تھا اور خیال خام تھا کہ ان اخبارات میں ملت کے لئے کچھ کام کرنے کے بہتر اور وسیع تر امکانات تھے، سو میں نے چنار کو خیر باد کہنے سے پہلے مولانا علی میاں کو ایک خط لکھا. اس میں اپنی بپتا بھی لکھ دی تھی جو محض دس ماہ میں چنار سے ا ستعفیٰ دینے کا سبب بنی تھی.جواب آیا: اللہ آپ کی مدد کرے! ندائے ملت اور قائد میں کوئی گنجائش نہیں تھی. میں نے علی میاں کا سہارا چھوڑا، اللہ میاں کا سہارا لیا اور بمبئی آگیا.چند ماہ گزرے تھے کہ کلکتہ سے مولاناعطاء الرحمٰن قدسی مرحوم کا خط آیا کہ کچھ نہ کر رہے ہوں تو کلکتہ آجایئے اور عصر جدید کی ڈولتی ہوئی نیا کا پتوار بن جایئے.اور یوں میں بمبئی سے کلکتہ پہنچ گیا. ایک نیا اور اجنبی شہر جہاں میں زندگی میں پہلی بار گیا تھا اور مستقل قیام کی غرض سے گیا تھا.بھائی عطاء الرحمٰن جو خاندان میں بھائی عطّن کے عرف سے جانے جاتے تھے، عصر جدید کے منیجر قاضی اقبال کو لے کر میرا استقبال ،کرنے ہوڑہ سٹیشن پر آئے تھے.دو روز انہی کے گھر پر میرا قیام رہا.پہلے روز عصر جدید کے دفتر گیا. کچھ دیر وہاں بیٹھا. ارکان ادارہ سے تعارفی گفتگو رہی. اخبار کے مالک خان بہادر محمد جان مرحوم اور ان کے بڑے بیٹے عثمان صاحب سے ان کے دفتر میں جاکر ملاقات کی. اور اگلے دن سے دفتر جا کر بیٹھ گیا، یوں کہ چھ ماہ تک ایک دن کی بھی چھٹی نہ لی.وہ اخبار، جو اس وقت برصغیر سے شائع ہونے والے زندہ روزناموں میں قدیم ترین تھا (جاری کردہ ۱۹۱۸، ملاپ ۱۹۱۹ میں جاری ہوا تھا)، لب دم تھا.دارالعلوم دیوبند کے فاضل، مولانا شائق عثمانی نے اسے جاری کیا تھا . وہ مسلم لیگ کے ہمنوا تھے. اور ان کا اخبار اتنا ہر دل عزیز تھا کہ کہتے ہیں اس کی روزانہ کی فروخت سے ہونے والی آمدنی کا گننا ممکن نہیں تھا، رقم تولی جاتی تھی. پھر ۱۹۴۷ میں وہ پاکستان چلے گئے اورعصر جدید کا انتظام ان کے داماد نے اپنے ہاتھ میںلے لیا. یہاں سے اخبار پر زوال آنا شروع ہو. آخر کار اسے خان بہادر محمد جان نے خرید لیا اوریوںعصر جدید کانگریس اور جمعیۃ علماء ہند کا ترجمان بن گیا.مغربی بنگال میں کانگریس کا وجود قابل ذکر نہیں رہا تھا. وہاںجیوتی بسو کی سرکردگی میں مارکسی کمیونسٹ پارٹی کے عروج کا دور تھا. مارکسی نقار خانہ میں کانگرس کا طوطی خاموش کر دیا گیا تھا تو عصر جدید کون پڑھتا. اسی اثنا میں بنگلہ دیش والی پاک ہند جنگ چھڑ گئی. سارا شہر اندھیرے میں ڈوبا رہتا تھا. رات کے دو تین بجے آخری کاپی پریس کے حوالے کر کے ہم چار چھ افراد ایک دوسرے کو ان کے گھر پر چھوڑ کر آیا کرتے تھے. عبدالمجید صاحب کاتب کی کمر جھک گئی تھی. وہ سیدھے کھڑے نہیں ہوسکتے تھے. ان کاگھر خاصے فاصلہ پر تھا. وہ پیدل آیا جایا کرتے تھے.ہم لوگ انہیں ان کے دروازہ تک چھوڑ تے پھر دوسروں کو الوداع کہتے ہوئے میںسب سے آخر میں تنہا اپنے گھر آتا تھا. جنگ سے فارغ ہوئے تو مغربی بنگال کا وہ الیکشن ہوا جس میں جیوتی بسو تک کو ایک غیر معروف شخص نے ’’ہرا‘‘ دیا تھا. وہ سارا مصنوعی الیکشن تھا. یو پی پولس سے الیکشن ڈیوٹی پر آنے والے بلیا کے ایک پولس کانسٹیبل نے مجھے بتایا تھا کہ اس کی ڈیوٹی بردوان میں تھی اور ہدایات کے مطابق ’’پانچ سو ووٹ تو خود میں نے ڈالے تھے‘‘. ان اتفاقات کی مناسب خبر رسانی نے عصر جدید کو اس کے دفتر کی عمارت سے نکال کر دوبارہ بازاروں تک پہنچایا.تو اب کلکتہ کی صحافی برادری کوباہر سے آنے والے اس نئے صحافی سے ملاقات کا اشتیاق ہوا. شام کے روزنامہ آبشار کے مدیر ابراہیم ہوش مرحوم نے ادارہ عصر جدید کے شام کے اخبار امروز کے اڈیٹر اقبال اکرامی صاحب مرحوم کی معرفت پیغام بھی بھیجا.مگر میں نے کہا ابھی نہیں. پہلے ذرا اس اخبار کے تن نیم جاں میں جان آجائے، پھر ملنا ملانا بھی ہوگا. اس پوری مدت میں کلکتہ کے تمام صحافیوں سے غائبانہ تعارف ضرور ہوگیا تھا.احمد سعید ملیح آبادی، مولانا عبد الرزاق ملیح آبادی کے فرزند رشید اور آزاد ہند کے مالک و مدیر، رئیس الدین فریدی، مدیر روزانہ ہند سے تو بمبئی سے یاد اللہ تھی.ابراہیم ہوش آبشار کے اڈیٹر تھے.وسیم الحق کو میں انگریزی ہفتہ وار سٹرگل کے اڈیٹر کی حیثیت سے پہلے سے جانتا تھا، مگر وہ مجلہ بند ہوچکا تھا اور وسیم صاحب نیا اخبار جاری کرنے کے لئے ثقافتی پروگراموں کے ذریعہ مالیہ کی فراہمی میں لگے ہوئے تھے. ان کے چھوٹے بھائی جسیم الحق فلم ویکلی ہفتہ وار شائع کرتے تھے. ان کے مقابل تھے کریم رضا مونگیری جو فلمی ہفت روزہ عکاس شائع کرتے تھے.شہزادہ سلیم ہفتہ وار الہلال نکالتے تھے.ان کے علاوہ رضوان اللہ صاحب، سالک لکھنؤی،نہال احمد، منیر نیازی (اس نام کے شاعر نہیں، جوپاکستانی تھے)، اے .اے. نشاط، وغیرہ کے ناموں کا شہرہ تھا. خود ہمارے دفتر میں سید ناظر الحسینی، عبدالمالک اور بدر عالم، اور بعد میں رئیس جعفری (مشہور ادیب رئیس احمد جعفری مختلف شخصیت تھے) تھے. ان کے علاوہ محمود ایوبی تھے. ان سب لوگوں سے بعد میں ملاقاتیں ہوئیں، مگر ابھی ان میں محمود ایوبی شامل نہیں تھے. چھ ماہ کی دفتری قید کے بعد جب میں شہر میں باہر نکلا تو کسی تقریب میں کریم رضا مونگیری سے ملاقات ہوئی.مونگیر سے میرا تعلق پرانا تھا. علی گڑھ میں میرا پہلا دوست، بشارت حسین، مونگیر ہی سے آیا تھا اور اب وہاں اس کا اپنا دواسازی کا کارخانہ ہے.جدہ میں انیس احمد صدیقی سے رابطہ ہوا. وہ بمبئی میں رہتے ہیں مگر ان کا وطن اصلی بھی مونگیر ہی تھا.کریم رضا نے کسی روز اپنے اخبار کے دفتر پر آنے دعوت دی. وہ اردو پبلسٹی کے نام سے ایک اشتہاری ایجنسی بھی چلاتے تھے اور اس کا دفتر چترنجن ایوینیو پر الگ تھا. میں وہیں ان سے ملنے گیا تو وہ عکاس کے دفتر میں لے گئے.ان کاگھر بھی میرے گھر سے قریب تھا. تو خاندانی روابط بھی ہوگئے. پھر انہوں نے عکاس کا ادبی حصہ کی نگرانی میرے حوالے کردی. ایک روز عکاس کے دفتر میں کریم رضا اور میں بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک صاحب وارد ہوئے .خوابناک آنکھیں.کسی بے نام سی سوچ میں ڈوبا ہوا چہرہ.شاعرانہ چال. رکھ رکھاؤ میں ایک شان بے نیازی. آواز میں کھوئی ہوئی سی نغمگی . وہ محمود ایوبی تھے. اردو کے صحافی تھے. چھ روزناموں اور چار ہفتہ وار اردو اخباروں کے شہر میں بے روزگار تھے. مگر مجال ہے جو لب پر شکوہ ہو.عجیب بات ہے. جو شکوہ شکایت نہیں کرتے، جو اپنے ساتھ کی جانے والی زیادتیوںکے باوجود خاموش رہتے ہیں،جو اسباب ملامت کو طشت از بام نہیں کرتے کہ انہیں خبر ہوتی ہے کہ ملامت کی ہوا ان پردوں کوناموس کے دریچوں سے ہٹا دیتی ہے جن کے پیچھے کچھ شرفا کے ناموں کی آبرومحفوظ ہوتی ہے، ان کو لوگ برا کہتے ہیں، برملا کہتے ہیں، بے جھجک کہتے ہیں. انہی تضادات سے زندگی عبارت ہے. شائد یہی خصومتیں دنیا کو رنگین بناتی ہیں. جب قابیل نے ہابیل کو قتل کیا تھا اس وقت خاکستری زمین پر پہلی بار وہ رنگ بکھر گیا تھاجسے آج کی تہذیب میں خطرے کا رنگ بھی کہا جاتا ہے اوراب تو وہ رنگ اتنا بہایا جاتا ہے کہ ایک قابیل کیا ہزاروں قبیلے لہو کے ریلے میں بہہ جاتے ہیں اور کسی کی جبین پر بل نہیں آتا. مگر پھر محمود ایوبی کسی ریلے میں بہہ جانے والے آدمی نہیں تھے.مسلسل پانی کا بہاؤ کسی چٹان کے کھردرے پن کو تو صاف اور ہموار کر سکتا ہے مگر چٹان کو اس کی جگہ سے نہیں ہلاتا.اس پہلی ملاقات میں محمود ایوبی بہت سادہ باتیں کرتے رہے. میں کلکتہ میں نیا تھا. شہری اور صوبائی سیاست سے ابھی بہت واقفیت نہیں تھی. میں ان سے ان موضوعات پر بات کرتا رہا اور وہ علاقائی نزاکتوں کی تفصیل بیان کرتے رہے. پھربات کا رخ ادب کی طرف مڑ گیا . اردو ادبیات پر ان کا مطالعہ بہت اچھا تھا. وہ رائے رکھتے تھے. رائے رکھنا اتنا آسان نہیں جتنا لوگ رائے دیتے ہوئے سمجھتے ہیں. بالخصوص ادبی امور پر رائے دینے کے لئے خاصا وقیع مطالعہ درکارہوتا ہے.جدہ میںایک بار کسی مجلس میں کچھ لوگ امریکی فری سٹائل کشتی کی طرح رائے زنی کا اکھاڑا جمائے ہوئے تھے تو میں نے یہی عرض کیا تھا کہ فیصلے صادر کرنے سے پہلے اور کچھ نہیں تو آدمی کم سے کم مقدمہ شعر شاعری ہی پڑھ لے.بات چیت بتا رہی تھی کہ محمود ایوبی اس سے بہت زیادہ پڑھے ہوئے تھے. ابھی ادب میں وہ اپنا مقام نہیں بنا سکے تھے. افسانہ نگاری ابھی روٹی کی چنگیری کے نیچے رکھی ہوئی تھی. پہلی ملاقات میں مجھے ان میں ایک اچھا دوست نظر آیا.دوستی تو باقی رہی،مگر دوستی کا یہ ساتھ زیادہ دن نہ رہ سکا. ہم لوگ عکاس کے دفتر میں جمعرات کی صبح بیٹھا کرتے تھے. محمود ایوبی تو فکر روزگار سے فرصت پائے ہوئے تھے ہی .وہ بھی ادھر نکل آٓتے.روزناموں میں کام کرنے والوں کی صبحییں فارغ ہوتی ہیں. اسی لئے کبھی کبھی آزاد ہند کے نیوز اڈیٹر منیر نیازی بھی آجاتے تھے.پھرسہ پہرکے دو تین بجے تک چائے کے دور چلتے رہتے اور دنیا جہان کے موضوعات پرنرم گرم گفتگو بھی جاری رہتی.عموماً اتوار کے دن ایوبی صاحب اور کریم رضا میرے گھر پر آجاتے.یہ سلسلہ اچھا خاصا چل رہا کہ ایوبی صاحب اچانک غائب ہوگئے.کسی کو پتہ نہ تھا کہ وہ کہاں ہیں.کسی نے کہا شائد پٹنہ چلے گئے ہوں. وہاں سے بھی سنگم، ساتھی اورصدائے عام اردو کے تین روزنامے نکلتے تھے. جب کہیں سے خبر نہ ملی تو ہمیں تشویش ہوئی. ایک دن کریم رضا نے آکر بتایا کہ وہ ان کے گھر گئے تھے، مگر ملاقات نہیں ہوئی.بس اتنا معلوم ہوا کہ مستقل بے روزگاری انہیں مایوسی اور اپنے وجود سے انکار کی طرف دھکیل رہی تھی.کریم رضا کا عکاس ہفتہ وار تھا اور اس میں اتنی سکت نہیں تھی کہ وہ کسی اڈیٹر کا بوجھ برداشت کرتا. ہم نے کہا کچھ کرنا پڑے گا. اسی شام میں نے خان بہادر محمد جان کے سامنے ایوبی صاحب کو عصر جدید کے ادارے میں شامل کرنے کی تجویز پیش کی.اخبار کو ایک مترجم مدیر کی ضرورت تو بہر حال تھی. بھئی وہ لڑتے بہت ہیں.خان بہادر صاحب نے جواب دیا لڑتے ہیں؟ کس سے؟ میں نے انہیں کسی سے لڑتے نہیں دیکھا. بھئی وہ قاضی اقبال بتا رہے تھے. ہر اخبار سے نکالے گئے ہیں. قاضی اقبال عصر جدید کے مینجر تھے. بس تھے. تعلیمی قابلیت کچھ خاص نہیں تھی. مگر خان بہادر صاحب کے پرانے خادم اور وفادار تھے اس لئے مینجر تھے.اور جو کچھ وہ کہہ دیتے سچ سمجھا جاتا تھا. میں ابھی قاضی اقبال کو بھی بخوبی نہیں جانتا تھا. میں نے خان بہادر صاحب سے ذمہ لیا کہ اس بار عصر جدید میں ایوبی صاحب کسی سے نہیں لڑیں گے. مگر ایوبی صاحب کا کہیں پتہ نہیں تھا.یہاں تک ان کے گھر پر بھی پذیرائی بند ہوگئی تھی.جب آدمی کسی کو ایک پیالی چائے بھی نہ پلاسکتا ہو تو میزبانی سے گریزاں ہوجاتا ہے.میں نے عصر جدید میں ایک چھوٹا سا اعلان بھی شائع کیا کہ کسی وقت مجھ سے آکر مل لیں. سارے شہر میں شور ہوگیا، مگر یہ شور ایوبی صاحب کے کانوں تک نہیں پہنچا.اس اثنا میں قاضی اقبال نے تیزی دکھائی اور الہ آباد سے رئیس جعفری صاحب کو اس اسامی کے واسطے بلوا لیا جو ایوبی صاحب کے لئے نکالی گئی تھی. کہانی تو یونہی بنتی ہے. افسانوں میں سب کچھ سیدھے سادے طریقے سے تھوڑی ہوتا ہے. پینچ نہ پڑیں تو افسانہ بنتا ہے نہ زندگی.ایوبی صاحب کی زندگی مشکل تھی،اور افسانہ ابھی کردار تراش رہا تھا.اِسے قرار تھا نہ اُسے.عصر جدید میں رئیس جعفری صاحب کے آنے کے کئی دن بعد ایوبی صاحب ایک جمعرات کو چونا گلی میںعکاس کے دفتر میں وارد ہوئے. سنا ہے آپ لوگ مجھے تلاش کر رہے تھے؟ وہ تھکے ہوئے سے لگ رہے تھے. مگر ابھی ان میں ہنسنے بولنے کا حوصلہ باقی تھا. وہ خود کو بچانے کی جان توڑ کوشش کررہے تھے.سخت مہم تھی.کچھ دیر بیٹھ کروہ چلے گئے. عصر جدید میں ملازمت کا امکان ختم ہوجانے کا ان کو غم نہ تھا. وہاں میرا گزر مشکل ہے. آپ کے مینجر صاحب مجھے ہرگز وہاں ٹکنے نہ دیتے اور آپ کو شرمندگی ہوتی. تو آپ کو اندازہ تھا؟ ہاں بھائی. اخبارمیں کسی سے فوراً ملاقات کا اعلان کسی سبب ہی سے ہوتا ہے. اورمیں جانتا تھا کہ آپ نے کیوں بلایا ہوگا. ان کے جانے کے بعد کریم رضا اور میں نے کچھ اور سوچا. انہیں بمبئی بھیج دو. یہاں یہ کچھ نہیں کر سکتے.وہاں جب سر پر پڑے گی تو خود راستے نکالیں گے. وہاں راستے نکلیں گے. کلکتہ کی طرح بمبئی اردو روزناموں کی منڈی نہیں تھا. وہاںانقلاب تھا اور اردو ٹائمز.بس یہی دو صبح کے بڑے اخبار تھے. معین الدین حارث کا اجمل صرف ان کے اپنے لئے شائع ہوتا تھا. شام کے اخبارات میں آدھے سائز کے چار صفحوں والا خلیاش کا آج شائد ابھی نکل رہا تھا. ابراہیم فطرت کا قیادت بھی تھا. مگر ان دونوں میں اتنی گنجائش نہیں تھی. کریم رضا نے ہوڑہ بمبئی ایکسپریس کا ایک ٹکٹ خریدا. ہنگامی ابتدائی خرچ کے لئے کچھ رقم کا بندوبست مزید کیا گیا. اور یوں ایک دن ہم دونوں ایوبی صاحب کو ہوڑہ سٹیشن پرالوداع کہہ رہے تھے. اس دن وہ بہت چاق و چوبند تھے. خوب ہنس بول رہے تھے. کچھ روز بعد حکیم محمد زماں حسینی کے بڑے صاحب زادے، حکیم محمد عرفان حسینی اپنے قاسمی دواخانے کی کچھ دواؤں کی مارکیٹ دیکھنے کے لئے بمبئی گئے.انہیں وہاں چند ماہ قیام کرنا تھا. انہیں میں نے ایوبی صاحب کا پتہ دے دیا .انہیں ملازمت مل چکی تھی.عرفا ن صاحب کے ساتھ مل کر انہوں نے اردو ٹائمز کے دفتر کے پاس مدن پورہ کی ایک چال میں ایک کمرہ کرائے پر لے لیا.پڑوس کی بھابی کو ان دونوں پر بڑا ترس آتا تھا. گھر میں کوئی عورت نہیں جو کھانا پکا دے. تو بھابی ایک دن کچھ دال چاول لے کر آئیں. تم دونوں اکیلے ہو. یہ کھانا کھالینا. یہاں تو کوئی فقیر بھی نہیں آتا. تم لوگ کھالو. ضایع تو نہ ہوگا. تو بقول عرفان صاحب کے، وہ اور ایوبی صاحب دونوں اس چال میں اکثر فقیروں کی کمی پوری کرتے اور ثواب بھابی کو ملتا رہتا. اسی زمانہ کا ایک قصہ خود ایوبی صاحب نے مجھے سنایا تھا. کوئی ضمیر صاحب ایوبی صاحب اور عرفان صاحب کے پرانے واقف کار تھے. ایک روز بمبئی میں سر راہے ان سے مڈ بھیڑ ہو گئی. وہ تفریح کی خاطربمبئی آئے ہوئے تھے اور کسی لاج میں مقیم تھے. انہیں دوست کیا ملے سہارا مل گیا.دو پیسے بچانے کی خاطر وہ بھی اسی کھولی میں منتقل ہوگئے جہاں ایوبی صاحب اور عرفان صاحب کا قیام تھا. ضمیر صاحب دنیا میں اکیلے آدمی تھے. وہ ہندستان کے تفریحی دورے پر نکلے ہوئے تھے اور دوچار روز میں ا نہیں گوا جانا تھا. مگر وہ دوتین روز بڑھتے بڑتے دو تین ہفتے بن گئے. ضمیر صاحب روز اعلان کرتے کہ بس کل وہ روانہ ہو جائیں گے اور وہ کل ہی نہ آکے دیتی.دونوں میزبان بھی میزبانی سے عاجز آچکے تھے. ایک دن ایوبی صاحب ضمیر صاحب پر بگڑ گئے. آپ بہت غلط آدمی ہیں. اپنے کہے کا کچھ پاس نہیں آپ کو روز کہتے ہیں میں کل چلا جاؤں گا اور دوسرے دن اپنے کہے سے مکر جاتے ہیں. ضمیر صاحب، آپ کوئی فیصلہ نہیں کر سکتے، آپ میں وِل پاور بالکل نہیں ہے. ضمیر صاحب اس سرزنش پر ذرا بھی ملول نہ ہوئے. اس کے برعکس انہوں نے ایوبی صاحب کو لاجواب کردیا. کس نے کہہ دیا میرے پاس ول پاور نہیں ہے. ضمیر صاحب نے جواب دیا. ّ آپ کی اطلاع کے لئے میرے پاس صرف ایک ول پاور نہیں بلکہ دو ول پاور ہیں. ایک ول پاور کہتا ہے میں چلا جاؤں اور دوسرا ول پاور مجھے جانے سے روک لیتا ہے! ایوبی صاحب سے میری آخری ملاقات ایک دوپہر بلٹز کے دفتر میں ہوئی تھی. ان دنوں اس کے اڈیٹرحسن کمال تھے.ایوبی صاحب نے ان سے میرا تعارف کرایا. اس وقت اخبار کے دفتر میںوہ کسی کے ساتھ بیٹھے شطرنج کھیل رہے تھے.شطرنج کھیلتے ہوئے آدمی کسی سے بات نہیں کرتا. سوچ کا تسلسل ٹوٹ جاتا ہے اور مات ہو جاتی ہے.حسن کمال نے بھی سراٹھائے بغیرسر کے خفیف لکھنوی اشارہ سے سلام کیا اوربساط کو گھورتے رہے. میںنے بھی دخل در معقولات سے گریز گیا اور ایوبی صاحب کے ساتھ دفتر سے نیچے اتر آیا.پھر ہم دونوں نے باہر کسی رستوراں میں بیٹھ کر چائے پی تھی اور کافی دیر ادھر ادھر کی باتیں کرتے رہے تھے. ایوبی صاحب اپنی ادبی فتوحات کا ذکر کرتے رہے.ان کے اندر چھپا ہوا وہ ادیب اب منظر عام پر آچکا تھا جسے کلکتہ میں قلم نہیں ملا تھا.ان کے افسانے ملک کے مؤقر مجلات میں شائع ہونے لگے تھے اور ان کی ادبی پہچان بن گئی تھی.وہ دنیا کے دکھوں کو اپنا دکھ بنا کر اپنے تحریروں میں نبض کی طرح بھر دیتے تھے. دکھ.یہ بوڑھی دنیا کتنی دکھیا ہوگئی. انسان نے اسے جتنا ستایا ہے،کسی اور نے اسے اتنا آزار نہیں دیا.اب تو زندگی کے سارے رنگوں پر بس ایک ہی رنگ کی حاکمیت رہ گئی.شاعری، افسانہ، مصوری سب پر رنج، تکلیف، کرب کا راج ہے. لب و رخسار پھیلے پڑ گئے. زلف و کاکل کی چمک اڑ گئی.سراپا بیان کرنے کی بدو تو بدن کے تشنج کے سوا کچھ عبارت میں نہیںآتا.محمود ایوبی تو خود بھی زندگی کے اس طرزکو بہت جھیل چکے تھے. کچھ سال بعد اپنے دوسرے سفر بمبئی کے دوران میں پھر ان سے ملنے کے لئے بلٹز کے دفتر گیا. ان دنوں اس کے اڈیٹر ہارون رشید مرحوم تھے. ایوبی صاحب ان کے نائب تھے اور ادارہ میں ان کا نام آنے لگا تھا. وہ صحافی جو بقول کسی جھوٹے کے کلکتہ میں سب سے لڑتا رہتا تھا اور جس میں کوئی صحافیانہ صلاحیت نہیں تھی، اب ملک کے سب سے مشہور ہفتہ وار اخبار کا نائب مدیر تھا اور کچھ ہی دن بعد مدیر بننے والا تھا.کیسا بڑا ستم ہے. ہماری قوم میں اپنے جوہر کو کوئلہ بنانے کا مرض ایسا عام ہے کہ بروں کو تو کیا اچھا بناتے، اچھوں کو برا بنادیتے ہیں، پھر اپنی محرومیوں کے زخموں کو سہلاتے ہیں اور اس لذت کا شکار ہوکر ملت کو زوال کی گہرائیوں میں مزید نیچے اتار پھینکتے ہیں.فکر اور دانش کی کمی تو کل تھی نہ آج ہے. اس کے اظہار میں تو کوتاہی کبھی نہیں ہوتی. مگر اس کا اجتماعی اعتراف نہیں کیا جاتا.ایوبی صاحب بھی اس کا شکا رہوئے. وہ کلکتہ ہی میںرہتے تو شائد کچھ بھی نہ بن پاتے.وہ تو بھلا ہو کریم رضا مونگیری کا کہ انہوں نے ایوبی صاحب کو بمبئی کے خارزار کارزار میں دھکیل دیا اور یوں اس جد و جہد کو ایک نیا راستہ اور ایک نیاحوصلہ مل گیا جسے کلکتہ میں روشنی مل رہی تھی نہ سہارا . پھربمبئی میں بھی تو ایسا ہوتا تھا. محمود راہی وہاں بس ایک چھوٹے سے صحافی رہے. ان کا وجود اپنے جوہر سے ہمیشہ نا آشنا رہا. ا. نہ وہاں کوئی ان کا جوہر شناس ہوا نہ ان کا حوصلہ بڑھانے والا اور نہ وہاں کوئی کریم رضا تھا جو محمود راہی کو بمبئی سے کلکتہ بھیج دیتا کہ جاؤ ایک نئی دنیا میں اپنے جوہر کی آب و تاب دکھاؤ.اس مقام پر انبیا کی ہجرتوں، اور رسول ؐ اللہ کی ہجرت کبریٰ کا عمرانی منشاء سمجھ میں آتا ہے.پانی بہتا رہے تو جوان رہتا ہے اور دوسروں کے کام آتا. اس روز ایوبی صاحب سے میری ملاقات نہیں ہوسکی تھی. وہ ان کی ہفتہ وار چھٹی کا دن تھا. اس روزبس ہارون رشید صاحب سے ایک مختصر ملاقات ہوئی تھی. میں والد صاحب کی علالت کی خبر ملنے پر صرف ہفتہ دس روز کے لئے بمبئی گیاتھا. اس مختصر قیام کے دوران دوسری بار مجھے بلٹز کے دفتر جانے کا موقعہ نہیں ملا تھا. اب اس یاد نامہ کا اتمام کرتے ہوئے سوچتا ہوں کہ ایوبی صاحب سے میری آخری ملاقات تو ہوئی نہیں تھی.یہی ان کی زندگی کا ثبوت ہے. وہ میری یادوں میں ہمیشہ زندہ رہیں گے، اور ایوان خیال میں ان سے مستقل ملاقاتیں ہوتی رہیں گی. جمیل الدین عالی سے پہلی ملاقات ہوئی تھی تو انہوں نے دوام کے مسئلہ پر ایک گفتگو چھیڑی تھی. میں نے کہا تھا دنیا کا دوام اپنے انفرادی معنیٰ رکھتا ہے. جب تک اردو رہے گی اور غالب کو پڑھا جاتا رہے گا ، غالب کو دوام حاصل رہے گا. اردو ختم ہوگئی تو غالب کا دوام بھی باقی نہ رہے گا. لیکن سیکڑوں صدیوں کے بعد اگر کسی نے ساتویںصدی قبل مسیح میں۲۷ صدی قبل مسیح کے ایک کلدانی بادشاہ کی میخی تحریر میں داستان کلکامش کی طرح دیوان غالب کی بازیافت کرلی تو اردو کے اس شاعر کا دور دوام پھر تازہ ہوجائے گا، جس طرح صدیوں بعد دنیا کلکامش سے از سر نو واقف ہوگئی. گزشتہ صدی کی آٹھویں دہائی میںبمبئی کی دنیائے صحافت و ادب نے ایوبی صاحب بازیافت کر لی تھی.ان کے بہت سے جاننے والے موجود ہیں..وہ ابھی دوامی ہیں.
محمد طارق غازی ٭ٓٹوا، کینڈا ٭ جمعہ ۲۹ جنوری
|