سلطنت عثمانیہ ۱۲۹۹أ۱۹۲۳ء
وصیت کے موضوعات و تجزیہ
عثمان خان کی وصیت کے تجزیہ سے پہلے دو ایک باتیں ذہن میں رکھنی ضروری ہیں.یہ کوئی تحریری بیان نہیں تھا جو پڑھ کر سنا دیا گیا ہو. اس کے نکات بھی اس انداز پر سوچے سمجھے نہیں تھے کہ ان میں کوئی ترتیب اور تسلسل نظر آئے. بے شک یہ سارے خیالات عثمان خان کے تجربات زندگی کے ماحصل کے طور پر اس کے ذہن میں پہلے سے موجود تھے، لیکن وہ صاحب فراش تھا اور ساری باتیں جس طرح ذہن میں آتی گئیں وہ اسی طرح انہیں بیان کرتا چلا گیا. اس اعتبار سے یہ ایک برجستہ تقریر تھی جس میں بعض نکات ایک سے زائد بار بھی بیان ہوئے ہیں. اس کی ایک وجہ تو ان پر اصرار ہوسکتی ہے اور یہ بھی ممکن ہے کہ عثمان خان کے ذہن میں یہ نہ رہا ہو کہ وہ نکتہ پہلے ذکر میں آچکا ہے.اہم تر بات یہ ہے کہ یہ پورا بیان بڑی خوبی اور خاصی تفصیل سے امور سلطنت کے تمام گوشوں کا احاطہ کرتا ہے. اس بیان کوچار شعبوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے: دین و شریعت سیاست و مالیات خواص عوام
دین پر مبنی حکمت عملی
دین و شریعت: عثمان خان کے نزدیک دین و شریعت کے معاملات صرف ذاتی اشغال عبادت تک محدود نہیں تھے، بلکہ اس کی پھیلتی ہوئی سلطنت کے آئین کی ایک اہم دفعہ تھے. اس سلسلہ میں اس نے واضح اصول مرتب کردئے تھے. وصیت کی رو سے عثمان خان کی سیاست کا اصل اصول یہ تھاکہ دین و شریعت کے مطابق عمل، دینی علوم کے فروغ اور اس کے نتیجہ میں عوام کے رشد و ہدایت کا سلسلہ سلطنت کے استحکام کا باعث ہوں گے اور دین و شریعت سے روگردانی سلطنت کے زوال کا باعث بنے گی. لہٰذا اس کی ہدایت تھی کہ اس کی جانشین نسلیں رسولؐ اللہ کی سنت کی پیروی کرتی رہیں. انہیں امور سلطنت میں احکام شریعت سے باہر قدم نکالنے کی اجازت نہیں تھی، کیونکہ شریعت ہی انسانوں میں عدل کا ذریعہ تھی. عدل پر دیگر فقروں میں بھی ا صرار کیا گیا تھا. اس کا واضح حکم تھا کہ اس کی سلطنت میں دین کو دیگر تمام امور پر برتری حاصل رہنی چاہیئے. اسی ذیل میں عثمان خان نے علما ء دین اور ان کے فیضان کا ذکر کیا جس کی تفصیل خواص کے ذیل میں آئے گی.عثمان خان نے ہدایت کی تھی کہ مستقبل کے عثمانی سلاطین ’’دین محمدی، اہل ایمان اور اپنے دیگر پیروؤں کی حفاظت‘‘ کے ذمہ دار رہیں .چنانچہ اس نے حقوق اللہ کی ادائیگی پر اصرار کیا.مالیات کا نظام بھی شرعی احکام کے مطابق مرتب کرنے کی ہدایت تھی، اور حکم تھا کہ سلطنت کے اخراجات شرع کے مطابق طے کئے جائیں. سلطنت عثمانیہ کے بانی کوفی الجملہ ایک سیاسی اسلامی نظام قائم کرنے سے دلچسپی تھی اور یہ اس کی نصیحت کا ایک حصہ تھا.یہاں قابل ذکر بات یہ ہے کہ اگرچہ عثمان خان کو خلافت راشدہ کے بعد مسلم دنیا میں کسی خالص سیاسی اسلامی نظام کا سراغ نہیں ملا تھا اور وہ نہیںجانتا تھا کہ خود اس کا ذہن جس نظام کی تصویر کشی کر رہا تھا وہ کس نوعیت کا ہوسکتا تھا، پھر بھی اس کے قول سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ مسلمانوں میں مروجہ سیاسی نظام سے پوری طرح مطمئن نہیں تھا.تاریخ کا ایک معمہ یہ ہے کہ عثمان خان اگر اس سنگین مسئلہ پر غور و فکر کرتا اور اس نظام کا کوئی خاکہ یا نقشہ مرتب کرنے کی تگ و دو میں پڑتا جو مسلمانوں کے سیاسی نظام کو واپس اس کی اصل تک لاسکے تو وہ اناطولیہ میں ابن تیمیہ کا دوسراہم عصر سیاسی مفکر یا دوسرا فارابی یا دوسراماوردی بن کر رہ جاتا .اُس سے پہلے سات سو سال کی مدت میںمسلم علماء سیاسیات مسلم سلاطین اور حکمرانوں کو دین و شریعت کے مطابق حکومت کرنے کی ہدایات ضرور کرتے رہے مگر وہ بزرگ بھی خلافت راشدہ کے بعد اسے ارتقائی نظام سیاست بنا کر پیش نہ کرسکے. قیاس یہ ہے کہ عثمان خان کو اگر اپنی علمی بے بضاعتی کا احساس تھا توساتھ ہی یہ خیال بھی کہ فقط فلسفہ پیش کرنے سے نتائج نہیں نکلتے.نتائج کے لئے عملی سیاست اور اقتدار و سطوت لازمی ہیں. اس بنیاد پر اس نے اپنی وصیت میں اسلامی سیاسی نظام کے قیام کا ایک اشارہ دیا، جس میں یہ نکتہ بھی پوشیدہ تھا کہ آنے والے زمانوں میں اس کی سلطنت میں ایسے علماء پیدا ہوں جو سلاطین کے قریب بھی ہوں، ان پر مؤثر بھی ہوں اور ساتھ ہی کسی ایسے نظام کے مفکر بھی ہوں جسے اسلامی سیاسی نظام کہا جا سکے اور جسے وہ مفکر علماء اور مؤثرسلاطین باہم رائے مشورے سے سلطنت میں نافذ بھی کرسکیں . عثمان خان کی یہ خواہش پوری نہ ہوسکی. وہ سیاست داں تھا. افلاطون کی خواہش بھی پوری نہیں ہوئی تھی. وہ فلسفی تھا.
عملی سیاست کے دو پہلو
دفاع و مالیات: دفاع و جدال عملی سیاست کے دو پہلو ہیں.یہ دونوں پہلوعثمان خان کے پیش نظر تھے. اس کی بیلیق اور پھر سلطنت کے وجود کا انحصار ہی جدال و دفاع پر تھا.رومی سلجوقی سلطنت میںارطغرل کا عروج وترقی جنگ ہی کا مرہون منت تھا. مسلسل حربی کارروائیوں ہی کے نتیجہ میں ارطغرل کی چھوٹی سی بیلیق عثمان خان کی وسعت پذیر سلطنت میں تبدیل ہوئی تھی.عثمان خان کی رائے تھی کہ آنے والے زمانہ میں بھی عثمانی سیاست کا بڑا انحصار اس کی حربی استعداد اور فوجی حکمت عملی پررہے اور اگر اس پہلو کو نظر انداز کیا گیاتو سلطنت باقی نہیں رہے گی.چنانچہ عثمان خان نے سلطانی سیاست کے اس رخ کو غیر معمولی اہمیت دی.اس کی وصیت کا پہلا جملہ اسی موضوع پر تھا اور اس کے مخاطب تمام اراکین سلطنت تھے، فقط اس کا جانشین نہیں.مستقبل کی تاریخ میں سلطنت عثمانیہ کے عروج و زوال کا سارا تجزیہ فقط اسی ایک نکتہ کی تفہیم، تشریح ،تعمیل اور تردیدکی داستان ہے. جنگ دو قسم کی ہوتی ہے. منگولوں سے نبرد آزمائی کی داستانوں کے ذریعہ عثمان خان کو اس فرق کا اندازہ تھا. ایک جنگ ظالمانہ و وحشیانہ، سفاکی و تاراجی کا سبب بنتی ہے. انسانی تاریخ ایسی جنگوں سے بھری پڑی ہے.سیاسی، معاشرتی اور اقتصادی عدل ہمیشہ اس نوعیت کی جنگوں کا پہلا شکار ہوتا آیا ہے.وہ ایران پر سکندر کی فوج کشی (۹۷۱ ق ھ/۳۳۱ق م) ہویا کلنگا پر اشوک موریہ کا حملہ (۹۰۵ ق ھ/۲۶۵ ق م)، فارس و روم کی حربی آویزشیں (۶۲۹۔۲۳۰/۷ھ۔۴۰۵ ق ھ) ہوں، یاپہلی (۱۰۹۹۔۱۰۹۵/۴۹۲۔۴۸۸)اورچوتھی(۱۲۰۴۔۱۲۰۱/۶۰۰۔۵۹۷) صلیبی جنگیں ،یا بچوں کی صلیبی مہم (۱۲۱۲/۶۰۹)، یورپ کی تیس سالہ جنگ (۱۰۵۸۔۱۰۲۸/۱۶۴۸۔۱۶۱۸) ہو یا پہلی (۱۹۱۸۔۱۹۱۴/۱۳۳۶۔۱۳۳۲) اور دوسری (۱۹۴۵۔۱۹۳۹/۱۳۶۴۔۱۳۵۸) عالمی جنگیں، افغانستان پر سوویت یونین کی جارحیت (۱۹۸۹۔۱۹۷۹/۱۴۰۹۔۱۳۹۹) ہو یا عراق ایران خلیجی جنگ(۱۹۸۸۔۱۹۸۰/۱۴۰۸۔۱۴۰۰)ان سب کی قدر مشترک عدل کا خاتمہ اور ظلم کا عام ہونا تھا. دوسری قسم کی جنگ وہ ہوتی ہے جس کا مقصد ظالم کو ظلم کرنے سے روکنا ہوتا ہے، انسانوں کو عزت اور فراخی کی زندگی کی ضمانت دی جاتی ہے، ان کے حقوق ۔ جن کو اسلامی اصطلاح میں حقوق العباد کہا جاتا ہے ۔ کا تحفظ کیا جاتا ہے اور معاشرہ کو عدل اور مساوات سے بھر دیا جاتا ہے. ان جنگوں میں بے ضرر انسانوں کا قتل عام نہیں کیا جاتا، عام شہریوں پر زمین اور آسمان سے آگ نہیں برسائی جاتی، بستیوں میں عوام کی املاک لوٹی نہیں جاتیں، کھیتیوں، اور باغوں کو تباہ و برباد نہیں کیا جاتا،کھڑی فصلوں گھوڑوں کے سموں اور فوجیوں کے بوٹوں تلے روندا نہیں جاتا، نہ ان میں آگ لگائی جاتی ہے، صنعت گاہوں کو زمین بوس نہیں کیا جاتا.اسی دوسرے طرز کی جنگوں کو عدل اور قیام عدل کا ایک نمونہ قرار دیا جاسکتا ہے. مگر اصل عدل خود جنگ سے نہیں بلکہ حالت امن سے تعلق رکھتا ہے، جس کی تفصیل مولانا محمد میاں منصور انصاری، مہاجر کابل، نے انواع الدول و حریت الملل میں بیان کی ہے.(۱)
خلاف عدل نظاموں کی تاریخ
دنیا میں ظلم اور عدل کی تاریخ نہیں لکھی گئی.لوگ ناموں اور حکمرانوں کی جلالت سے مرعوب ہوکر ان کے بارے میں بعض ایسے تصورات کے پابند ہوجاتے ہیں جوکسی خاص عہد کی سچی تصویر کشی نہیں ہونے دیتے.ایسے ناموں میں ایک سکندر مقدونی کا نام ہے جس کی عظمت کے اعتراف میں اس کے نام میں لاحقہ کے طور پر اعظم کا اضافہ کیا جاتا ہے، مگر چیدہ چیدہ بادشاہوں کے اس لقب کے لئے کچھ واضح شرائط کبھی متعین نہیں کی گئیں.یہ ایک مستقل بحث ہے کہ اگر اس پر توجہ دی جائے توکچھ ادوارکی تاریخ پر نظر ثانی کرنی پڑے گی. ان میں سے ایک عہد خود مقدونیہ کے حاکم سکندر کا ہے جو محض اس وجہ سے اس لقب کا مستحق ٹھہرا کہ۲۰ برس کی عمر میں دنیا فتح کرنے کے ارادے سے گھر سے نکلا اور پھر اسے گھر واپس آنا نصیب ہوا نہ اس کی فتوحات کا کوئی انسانی مقصد طے ہوسکا. سکندر (پیدائش: ۳۵۶ ق م/۹۷۸ ق ھ) نے تخت نشینی کے دوسال بعد۳۳۴ ق م میںایشیائے کوچک سے اپنی فتوحات کاآٓغاز کیا. اس کے بارے میں خیال یہ ہے کہ اس نے یونانی تہذیب ایشیا اور افریقہ کو دی.یہ حقیقت ہے کہ چوتھی اور پانچویں صدی قبل مسیح میں چند عشروں کے لئے ایشیا اور افریقہ کے نقطۂ اتصال پر یونان میں ایک بڑی علمی تہذیب کا شعلہ روشن ہوا تھا جبکہ باقی دنیا میں عموماً تاریکی تھی.لیکن یہ ایک الگ بحث ہے. یہاں قابل غور نکتہ بس یہ ہے کہ ۳۳۲ ق م /۹۵۶ ق ھ میں سکندر کی موت کے بعد اس کی۱۲ سالہ بادشاہت ایک دن بھی باقی نہ رہی. ایشیا میں اس کا ایک جنرل سلیوکس نکیٹرحاکم بن بیٹھا، مصر کا نیا فرعون سکندر کادوسرا جنرل بطلیموس سوطر ٹھہرا اور خودسکندر کا اپناوطن مقدونیہ نیز یونان ایک طویل عرصہ تک نراج کا شکار رہے .سکندر کی موت کے ۲۰ سال بعد ایشیا کوچک سے شمالی ہندستان تک پھیلی ہوئی نکیٹری ریاست ۳۱۲ق م/۹۳۴ ق ھ میں قائم ہوئی اور تاریخی اعتبار سے ۶۳ ق م /۶۸۵ ق ھ تک باقی رہی، مگر اس ۲۴۹ سال کی مدت میں شمالی ہند، باختریہ، خراسان، فارس، بابلونیہ، اسوریہ اور اناطولیہ میں کوئی ایسا واقعہ نہیں ہوا جسے تاریخ ساز کہا جا سکے.چنانچہ سلیوکس نکیٹر کا خاندان اگر اس خطہ یا اس کے ٹکڑوں پر حکومت کرتا رہا تو اس کا سبب خود اس خاندان کی لیاقت سے زیادہ علاقائی سیاسی افسردگی تھی. مصر میں بطالمہ کی حکومت سکندر کی موت کے۳۵ برس بعد قائم ہوئی تھی اور۲۷۳ سال باقی رہی جس میں ایک طویل مدت رومیوں کے باجگزار اور صوبہ دار کی تھی.اس پوری مدت میں فقط ایک، بطلیموس کلاڈئس (۱۶۸۔۹۰/۴۶۹ ق ھ۔۵۴۹ ق ھ)،اپنے فلکیاتی کام کی بنا پر معروف ہوا، یا شہوت رانی کے لئے مشہور اسکندریہ کی آخری بطلیموسہ، قلوپطرہ ،کا نام ایک عیاش رومی صوبہ دار کی حیثیت سے مصر کی تاریخ میں باقی رہ گیا. چنگیزی ریاست کا حشر بھی اسکندری ریاست سے مختلف نہیں ہوا. چنگیز کی موت(۱۲۲۷/۶۲۴) کے بعداس کے مفتوحہ علاقے تین خود مختار ریاستوں میں بٹ گئے تھے. سب سے پہلے ۱۲۴۹ /۶۴۶میں روس میں سنہرے غول کی حکومت قائم ہوئی جو ۲۶۲ سال بعد ۱۵۰۲ میں گم نامی کا شکار ہوگئی. ہلاکو نے ۱۲۵۶/۶۵۳ میں فارس اور مغربی ایشیا میں اپنی ایلخانی حکومت قائم کی جو صرف ۷۹ سال بعد ۳۳۵ا/۷۳۵ میں ختم ہوگئی.آخری اصل منگولی حکومت قبلائی خان نے چین میں ۱۲۷۱/۶۶۹ میں قائم کی جو ۹۷ سال بعد۱۳۸۶ /۷۸۷میں معدوم ہوگئی. چودھویں صدی میںچنگیزی نسل کا مسلم حکمراں تیمور لنگ ماورا ء النہر سے اناطولیہ تک کے علاقہ پر قابض ہوامگر اس کی یہ وسیع و عریض سلطنت ۳۵ سال سے زائد باقی نہ رہی اور ۱۴۰۵ /۸۰۷میں مٹ گئی. برصغیر میں برطانوی راج ایک صدی کی مدت پوری نہ کرسکا. اگرسراج الدولہ کی شکست اور موت (۱۷۵۷/۱۱۷۰)سے سلسلہ ملایا جائے تو وہ حکومت بس ۱۹۰ برس رہی. اس پس منظر میںیہ جاننااہم ہے کہ عثمان خان کی جنگیں کس مزاج کی تھیں اور ان سے وہ کیا سیاسی کام لینا چاہتا تھا.
عثمانی سیاست کا فرق
اس کا سادہ جواب یہ ہے کہ اگر عثمان خان بھی سکندراور سلیوکس، چنگیزی حکمرانوں، تیمور لنگ اور برطانوی راج کے حاکموں کی طرح ایک ظالم فوجی سالار ہوتا تو اپنی وصیت میں عدل پر اصرار نہ کرتا اور اس کی تاریخ میں شہروں اور ملکوں کی بربادی کی داستانوں کا ایک بڑا حصہ ہوتا. اس کی پھیلتی ہوئی سلطنت میں آبادی کا ایک وقیع طبقہ غیر مسلم عیسائی رعایا پر مشتمل تھا. وہ حربی طاقت کے ذریعہ ان کا حاکم بن چکا تھا. وہ چاہتا تو اپنی غیر مسلم رعایا کے ساتھ بے انصافی کرنے کی طاقت اس میں تھی. وہ ان کے حقوق غصب کر سکتا تھا، ان کی املاک پرقبضہ کرسکتا تھا، ان کی معاشی خوشحالی کے امکانات کو مسدود کر سکتا تھا. ان کی معاشرتی ، تہذیبی اور لسانی روایات کا خاتمہ کرسکتا تھا.ان پر اپنا دین، اپنی زبان، اپنی معاشرت تھوپ سکتا تھا .مگر اس نے یہ سب نہیں کیا تھا. عثمان خان نے جہاد کو’اعلیٰ مرتبہ‘ تک پہنچانے کی وصیت کی تھی. اس فقرہ کے دو مفہوم تھے. ایک تویہ کہ بطور حربی اصول اس معاملہ میںمکمل طور پر قانون نبوت کا نفاذ ہو: یعنی کمزوروں،ضعیفوں، بوڑھوں، بچوں اور عورتوں پر شمشیر دراز نہ کی جائے اور جو لوگ اپنا ذاتی دفاع کرنے کے قابل نہ ہوں ا ن پر تلوار نہ اٹھائی جائے.کھیتوں کھلیانوں میں لوٹ مار نہ کی جائے ،نہ ہی کھڑی فصلوں میں آگ لگائی جائے، انسانی بستیوں اور آبادیوںمیں قتل و خون کا بازار گرم نہ کیا جائے اور نہ وہاں نجی اور عامی املاک میں غارت مچائی جائے. جس قدر ممکن ہو جنگ سے پہلے اور بعد عفو و درگذر سے کام لیا جائے.اسی کے پیش نظر عثمان خان نے ظاہر کیا کہ فوجی اور مالیات دونوں سلطنت میں عدل قائم رکھنے میں معاون ہیں اور اسی مقصد کے لئے ان سے فائدہ اٹھایا جائے. جہاد کو’اعلیٰ مرتبہ‘ تک پہنچانے کی وصیت کا دوسرا مفہوم یہ تھا کہ حدیث نبوی میں جنگ کو جہاد اصغر اور اپنی ذات اور کردار کی اصلاح کو جہاد اکبر قرار دیا گیا ہے. فوجیوں کا ذاتی کردار درست اور ان کا مزاج اعتدال پر ہوگا تو وہ کبھی ظلم نہیں کریں گے.یہی جہاد کو اعلیٰ مرتبہ کا پہنچانے کی وصیت کا اصل منشأ تھا.اسی لئے اس کا حکم تھا کہ دیگر تمام امور پر دین کو فوقیت دی جائے.اب اگر دین کی فوقیت کا مطلب یہ نہیں تھا کہ اسلام غیر مسلم رعایا پر جبراً تھوپ دیا جائے تو اس حکم کا مقصد سوائے اس کے کچھ نہ تھا کہ دینی احکامات کے مطابق مسلم و غیر مسلم رعایا کے ساتھ انصاف و عدل کیا جائے، حقوق العباد کی بلا کم و کاست ادائیگی کی جاتی رہے، عوامی املاک کی مکمل حفاظت کا نظام مؤثر رہے اور یہ اسی وقت ممکن ہوگا جب حکمرانوں کے دل میں عوام کا احترام ہوگا. عدل کرنے کے سلسلہ میں اللہ پر بھروسہ کیا جائے.چنانچہ ایک بڑے مفکر کی مانند عثمان خان کی وصیت کا یہ جملہ یادگار ہے کہ جس کے دل میں اللہ کا خوف نہیں ہوتا اس کے دل میں اللہ کی مخلوق کا در بھی نہیں ہوسکتا. یہاں ظلم کے خلاف دوسرا پہلو عثمان خاں کی سیاست کا ابھرتا ہے. اس نے کہا کہ سلطنت کے کاموں میں ظالموں اور وہمی لوگوں کا ہرگز کوئی دخل نہ ہو.توہمات میں مبتلالوگ کمزور شخصیتیں رکھتے ہیں اور نا اہل ہوتے ہیں، چنانچہ ایسے افرادکبھی بھی حکومت کی طاقت کا سبب نہیں بن سکتے.ان کے اوہام انہیں ظلم و فساد پر آمادہ کرتے ہیں.عثمان خان کا نقطہ نظر تھا کہ توہمات زوال کا باعث بنتے ہیں اور ان کے نتیجہ میں پیدا ہونے والا ظلم بھی ریاست کے زوال کا سبب بنتا ہے، اس لئے توہم اور ظلم دونوں سے اجتناب لازمی ہے.
اقتصادیات کا نظریہ
گزشتہ تاریخ میں یہ بات سامنے آچکی ہے کہ عثمان خان کی حربی حکمت عملی در اصل اقتصادی حکمت عملی کا ایک جزو تھی.اپنی بیلیق کی توسیع اسی لئے اسے مطلوب تھی کہ ان خطوں کو بیلیق اور پھر سلطنت کا حصہ بنایا جائے جو معاشی مقاصد میں نہایت مفید تھے مگر حاکموں کی ناہلی اور غفلت کے سبب بے کار پڑے ہوئے تھے.جب ایسے خطے عثمانی حکومت کے ماتحت آئے تو ان کی ترقی پر خصوصی توجہ دی گئی اور ان کے منافع تمام رعایا کے لئے عام کردئے گئے.عثمان خان کی وصیت میں معاشیات پر بھی یکساں اصرار پایا جاتا ہے. وہ فضول اخراجات پر روک لگانے کا حامی تھا لیکن ضروری امور پر خرچ کی تاکید کرتا تھا.اس کا کہنا تھا کہ ریاست کے اخراجات شرع اسلامی کے مطابق رہیں گے تو ملک میں عدل کاذریعہ بنیں گے.ہنگامی حالات سے نپٹنے کے لئے وہ مال میںبچت کا حامی تھا اور اسی کے ساتھ حکم دیتا ہے کہ مالیات میں مسلسل اضافہ کی کوششیں جاری رہنی چاہئیں.اضافہ اور بچت کے اصولوں کے تحت چونکہ خزانہ میں مال کی فراوانی ہوگی تو عثمان خان تہدید کرتا ہے کہ حکمرانوں کو اس کثرت مال پرفخر اور غرور میں مبتلا نہیں ہونا چاہیئے. فخر اور غرور عدل سے روکتے ہیں ، ظلم کرنے پر مائل کرتے ہیں اورریاست کے زوال کا سبب بن جاتے ہیں. مال میں تکثیر واضافہ کا ایک ذریعہ تو عثمان خان کی ابتدائی حربی سیاست میں سامنے آگیا.لیکن ظاہر ہے یہ پائیدار ذریعہ نہیں تھا. عثمان خان نے ایک ذہین حکمراں کی طرح اس مسئلہ کی اصل پر توجہ دلائی. اس نے وصیت کی کہ علماء، ادباء اور اہل حرفہ کسی بھی ریاست کا ڈھانچہ ہوتے ہیں اس لئے ان کی تعداد میں مستقل اضافہ ہوتا رہنا چاہیئے.یہ عثمان خان کی تعلیمی پالیسی کی بنیاد تھی.اس کا حکم تھا کہ تعلیم پر خرچ میں کمی نہیں آنی چاہیئے.اس کا نقطۂ نظر افادی تھا، فلسفیانہ نہیں.تعلیم کا مقصد اس کے نزدیک محض اچھی ذاتی معاش نہیں بلکہ رشد و ہدایت کا ایک منضبط نظام قائم کرنا تھا.وہ چاہتا تھا کہ ہمہ قسم کے علوم دینی تعلیمات کے تابع رہیں تاکہ رشد و ہدایت کا سلسلہ موقوف نہ ہو اور معاشرہ عدل و انصاف کی راہ پر بڑھتا رہے اور علوم کی اشاعت اور توسیع فلاح عامہ کا باعث بنے، نفع اندوزی کا وسیلہ نہیں.وہ وصیت کرتا ہے کہ علماء کی تعداد میں اضافہ کیا جاتا رہے. ظاہر ہے علماء کی تعداد بڑھے گی تو ان کی علمی کوششوں سے علم کی توسیع ہوگی جو سلطنت کوقابل، مفید اور اچھی استعداد کے لوگوں کی فراہمی کا باعث ہوگی.
طبقۂ خواص کی تعریف
عام طور سے باور کیا جاتا ہے کہ حکومت کے اعلی عہدوں پر فائز اور معاشرہ کا بالائی طبقہ خواص ہوتے ہیں.عثمان خان اس عام غلط فہمی میں مبتلا نہ تھا.اس کی وصیت کا غائر مطالعہ یہ نکتہ واضح کردیتا ہے کہ خواص سے اس کی مراد وہ لوگ تھے جو عدل میں معاون ہوں. چنانچہ اس کی تعریف خواص میں چار گروہ ابھرتے ہیں: افواج، مدبرین سلطنت، علماء،اہل حرفہ. اوپر بیان ہوچکا ہے کہ دفاعی حکمت کے ماتحت عثمانی افواج سلطنت میں عدل کے قیام اور نفاذ کا بڑا بنیادی ذریعہ تھیں.اسی لئے اس کا نقطۂ نظر تھا کہ صرف اچھے اور قابل افراد ہی کو افواج کی سالاری اور مدبرین ریاست کا منصب دیا جانا چاہیئے.ان مناصب پر تقرر کی شرائط بھی وہ طے کردیتا ہے:ظالم، لالچی، وہمی اور گناہ کبیرہ میں مبتلا اشخاص اعلی سرکاری عہدوں کے لئے نااہل قرار دئے گئے.مدبرین ریاست کے ساتھ حسن سلوک کا حکم دیتے ہوئے عثمان خان مرحوم افسران کے پس ماندگان کے ساتھ بھی حسن سلوک کا حکم دیتا ہے تاکہ ان کی ملی اور سلطنتی خدمات پر شکر گزاری کا حق ادا ہوسکے.مرحوم افسروں اور مدبرین کے پسماندگان کے ساتھ حسن سلوک اور ان کی ضروریات کی کفالت کی ہدا یت ظیفہ اور پنشن کا اصول طے کرتی ہے. عثمان خان کی وصیت میں علماء کی اہمیت پر بار بار اصرار ملتا ہے.وہ علماء کو سلطنت یا حکمرانوں کے ماتحت رعایا یا عامۃ الناس کا ایک طبقہ نہیں سمجھتا بلکہ ان کوتمام دیگر معاشرتی گروہوں پر فوقیت دیتا ہے. وہ کہتا ہے کہ ریاست کی عمارت علماء اور اہل ادب ،نیزاہل حرفہ کی مستحکم بنیادوں پر تعمیر ہوتی ہے. چنانچہ بالخصوص علماء کے ساتھ تواضع اور اکرام سے پیش آنے کا واضح حکم دیتا ہے اوران کے ساتھ قریبی تعلق قائم کرنے کو اپنے بعد آنے والوں پرلازم قرار دیتا ہے.اس کا نقطۂ نظرتھاکہ علما ء کو ریاست یا دیگر اہل خیر کا دست نگر نہیں ہونا چاہیئے، بلکہ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ علماء کو فارغ البال کرے تاکہ ان کا تمام تر وقت علوم کی خدمت اور توسیع اور معاشرہ کی نگرانی میں صرف ہو.اسی مقصد کے لئے وہ تعلیمی نظام کی توسیع پر توجہ دلاتا ہے .
سلطنت کا اساسی گروہ
عثمان خان کے نزدیک عوام طبقۂ خواص ۔ سالاران افواج، مدبرین سیاست، علماء اور ادباء، نیز اہل حرفہ ۔ سے الگ کالانعام قسم کا کوئی ایسا گروہ نہیں تھے جن کو نظر انداز بھی کیا جاسکتا ہو اور سیاسی مقاصد پر بلا تأمل قربان بھی.یہ سب سے اہم معاشرتی گروہ تھا کیونکہ سلطنت انہیں کی اساس پر قائم ہوتی ہے اور انہیں کے لئے عملاً مؤثر ہوتی ہے.عوام کا وجود نہ ہوتو خواص معدوم ہوجاتے ہیں. چنانچہ عثمان خان کی سیاسی حکمت میں معاشرہ کے تمام گروہ عوام میں داخل اور ان میں شامل تھے.اصولی طور پر خواص اپنی حقیقت میں عوام ہی کا ایک حصہ ہوتے ہیں جن کی خداداد صلاحیتوں سے کوئی خاص کام لے لیا جاتا ہے.مثلاًسپاہ کو عثمان خان بیک وقت عوام اور خواص میں شمار کرتا ہے. ایک شخص کی بدنی اور ذہنی استعداد کی بنا پر اسے کسی فوجی منصب پر مقرر کردیا جاتا ہے مگر اس کے انسانی حقوق حقوق العباد کے زمرہ میں برقرار رہتے ہیں اور تحفظ کا مطالبہ کرتے ہیں.چنانچہ عثمان خان سپاہ کے ساتھ عزیزوںجیسا سلوک کرنے کا حکم دیتا ہے.اسی طرح اہل حرفہ کو ریاست کا ڈھانچہ قرار دے کے ان کو ضروری مراعات اور سہولتیں مہیا کرنے پر توجہ دلاتا ہے.عوام ہی میں اہل ایمان کا خاص گروہ بھی شامل ہے. یہ بے نام لوگ سلطنت عثمانیہ کی فکری ریڑھ کی ہڈی تھے اور اندیشہ تھا کہ حربی صورت حال میں یہ طبقہ دشمن کا راست نشانہ بھی ہوگا اور سب سے زیادہ نقصان بھی اٹھائے گا. لہٰذا عثمان اس گروہ کو تحفظ مہیا کرنے پر اصرار کرتا ہے.مگر یہ کام دوسرے مذاہب کے ماننے والوں کی طرف عدم توجہ کا سبب نہیں بن سکتا تھا کیونکہ اس صورت میں عدل کا منشا پورا نہ ہوتا اور ظلم کا راستہ کھل جاتا. عثمان خان اس معاملہ میں اللہ پر بھروسہ کرنے کا مشورہ دیتا ہے. یہ سامنے کی بات ہے کہ جو شخص یا گروہ ظلم کے خاتمہ کے لئے اٹھ کھڑا ہوتا ہے اسے شدید مزاحمت کا سامنا کرنا پڑتا ہے.ظالم قوتیں آسانی سے ہار نہیں مان لیا کرتیں اور اس شخص یا ادارے کے خلاف پوریطاقت لگا کر اٹھ کھڑی ہوتی ہیں جو ظلم کے خاتمہ پر کمر بستہ ہو. تو ظلم کے خاتمہ کے لئے اللہ پر بھروسہ کرنا ضروری ہوتا ہے. جو افراد ایسے نظام کی مدد کے بغیر ظلم کے خلاف صف آرا ہوتے ہیں وہ ہمیشہ اپنے مقصد میں ناکام ہوتے ہیں کیونکہ انہیں کہیں سے کمک نہیں ملتی.ظلم اندرونی اور داخلی فساد کا نتیجہ بھی ہوسکتا ہے اور بیرونی یورش سے بھی. دونوں صورتوں میں ریاست پر عوام کا حق ہوتاہے کہ ان کی جان، مال، آبروکا دفاع کیا جائے اور ظلم سے انہیں پناہ دی جائے. عوام کا سب سے بڑا حق یہی ہوتا ہے اور اسی کو عام طور سے اہل سیاست کی فساد مزاجی کا نشانہ بننا پڑتا ہے کیونکہ عوام کے پاس اپنے دفاع کی قوت نہیں ہوتی. فقط ایک دیانت دار حکومت ہی عوام کے اس حق کی غیر مشروط ضمانت دیتی ہے. عثمان خان نے ایک جملہ میں وہ ضمانت دی جو چھ صدیوں تک مؤثر رہی اور دنیا میں ظلم کی قوتیں چھ سو سال تک اس ضمانت کو ختم کرنے کے درپے رہیں اور باآخر ۱۹۲۳ /۱۳۴۱میں اس ضمانت کا شامیانہ آدھی دنیا کے بے زبان عوام کے سروں سے اتار پھینکا گیا. عثمان خان کی یہ ضمانت ایک تاریخی جملہ میں دی گئی تھی جو آج کسی کو یاد نہیں رہا: اس کے مؤرخوں کو بھی نہیں. اپنی وصیت کے آخرمیںعثمان خان نے کہا تھا: جس کے دل میں خالق کا خوف نہیں ہوتااس کے دل میں مخلوق کا خوف بھی نہیں ہوتا! اور یاد رہے یہ جملہ دنیا کا ہر انسان نہیں کہہ سکتا.
حاشیہ ۱۔انصاری، مولانا منصور، انواع الدول و حریت الملل، مطبوعہ افغانستان تقریباً ۱۹۲۰،ص ۱۶۔
۱۵محمد طارق غازی ٓٹوا، کینڈا تکمیل : سہ شنبہ ۲۶ جنوری
|