یکتا یکتا :محمد علی شیخ
اپنے اساتذہ کے لئے تو میں کچھ قابل فخر نہ بن سکا، مگر سچ یہ ہے کہ اپنے تعلیمی اساتذہ پر مجھے بڑا فخر ہے.سب کو ویسے اساتذہ بھی نہیں ملتے.بجنور میں پنڈت جی (جن کا نام مجھے اُس وقت بھی نہیں معلوم تھا)، سعید صاحب؛دیوبند میں قاری محمود صاحب؛ بمبئی میں محمد حنیف صاحب،عبداللہ بورا صاحب، غلام محی الدین قریشی صاحب،چاندی والا صاحب،احمد علی زیدی صاحب، محسن علی برہانپوروالا صاحب؛ علی گڑھ میں مسعود الحسن صاحب، خواجہ مسعود علی ذوقی صاحب،عرفان حبیب صاحب،سید ناصر علی صاحب،نعمان صدیقی صاحب، اقتدار عالم خاں صاحب، طارق عزیز صاحب،رفیق نقوی صاحب،وغیرہ کئی نام ہیں.ان سب کا اپنا اپنا مقام ہے اورمیری زندگی میںتوبہت اہم مقام ہے.ان میں سے ایک بھی کم ہوجاتا تو میں وہ نہ ہوتا جو آج ہوں.اور جو کچھ نہ بن سکا ۔ ان اساتذہ کی خواہشوں اور کوششوں کے باوجود ۔ تو وہ میرا اپنا کھوٹ ہے.کوئلہ بھی کاربن ہوتا ہے مگر ہیرا نہیں ہوتا. اور ہمارا حال تو یہ ہے کہ ہیرا تو کیا بنتے بھائی کوئلہ بھئے نہ راکھ میرے ان اساتذہ میں سے ایک شخص نے میرے سکول چھوڑنے کے کچھ ۲۰ سال بعد بھی مجھے ایک سبق دیاتھا. محمد علی شیخ صاحب سے ہماری کلاس کا ر ابطہ آٹھویں جماعت میں ہوا تھا.بمبئی کے ہاشمیہ ہائی سکول میں وہ گیارہویں کے کلاس ٹیچر تھے. آٹھویں سے گیارہویں جماعت تک انہوں نے ہمیں اردو اور فارسی پڑھائی تھی. بمبئی اس زمانے میں ہندستان سے بڑا مختلف تھا. وہاں میٹرک دسویں کے بجائے گیارہویں میں ہوتا تھا اور وہ گیارہویں یو.پی.وغیرہ کی ہائر سیکنڈری نہیں بلکہ سیدھی سادی سیکنڈری کا آخری سال ہوا کرتی تھی.تو سیکنڈری سکول کر کے میں جولائی ۱۹۵۹ میں علی گڑھ پہنچا. اور لیجئے، وہاں بھی شیخ صاحب سے ملاقات ہوگئی.یہ اچانک ملاقات کیفے ڈی پھوس کے قریب یونیورسٹی کے ڈاک خانہ کے برآمدہ میں ہوئی تھی. ارے، سر، آپ؟ وہ ایم ایڈ کرنے آئے تھے.اگلے سال وہ گئے تواحمد علی زیدی صاحب آگئے. علی گڑھ سے میری خانہ بدوشی کا آغاز ہوا تھا. چوالیس سال میں نہ جانے کہاں کہاں کی خاک چھانی.بس سبزہ زار جب ہم رنگ ریگ ہونے لگتے تو قافلۂ زندگی کسی اور سمت کو نکل کھڑا ہوتا.اس مدت میں سے اگرچہ زیادہ وقت میں نے جدہ میں گزارا، مگر بھلا ہو سعودی مملکت کے قانون کا کہ ۲۷ سال میں بھی وہاں یہ احساس نہ ہونے دیا کہ چلو عمر بھر کی بے قراری کو قرار آہی گیا.ہر لمحہ رخت سفر بندھا رہتا تھا کہ نہ جانے، موت کی طرح، کب اذن روانگی ہو جائے. حرم میں یوں تھے کہ ہر لمحہ صحن دار میں تھے اتحاد امت کے بیانات سننے کے لئے سعودی مملکت جا نے سے پہلے یونہی شہروں شہروں بھٹکتے ہوئے کلکتہ کو خیر باد کہہ کر۱۹۷۵میں جب میںتیسری بار بمبئی پہنچا تو ایک تجارتی ادارے میں کچھ مدت کام کیا. صحافت وغیرہ چھوڑ دی تھی.ایک روز صبح کچھ آٹھ بجے میں مسجد بندر سٹیشن جا رہا تھا . وہاں سے لوکل ٹرین لے کر مجھے ایک دفتری کام سے کہیںجاناتھا. مسجد بندر روڈ(اب یوسف مہر علی روڈ)پر اُدھر سے شیخ صاحب آرہے تھے. ہمارا ہاشمیہ ہائی سکول اسی سڑک پر ذکریا مسجد سٹریٹ کے نکڑ پرذکریا مسجد سے متصل تھا. سکول صبح ۹ بجے شروع ہوتاتھا. شیخ صاحب کچھ گھنٹہ بھر کی دوری پرواقع کلیان سے لوکل ٹرین کے ذریعہ سکول کے وقت سے ایک گھنٹہ پہلے آتے تھے.یعنی گھر سے صبح۳۰:۶ بجے روانہ ہوئے ہوں گے. میں نے سلام کیا.انہوں نے جواب دے کر پوچھا آج کل کیا کررہے ہو. میں نے بتایا، تو کہاکسی عرب ملک میں کیوں نہیں جاتے. وہاں زیادہ اچھی آمدنی ہوگی.میری شامت آئی جو میں نے کہہ دیا ، سر آپ نے تو چار سال فارسی پڑھائی، اور عرب ملکوں میں وہ بولی نہیں جاتی. یہ سن کر بگڑ اٹھے. اور پھر انہوں نے مجھے وہ بات بتائی کہ میں حیران انہیں دیکھتا رہ گیا.یہ قصہ میں اپنے الفاظ میں بیان کردیتا ہوں. شیخ صاحب برسہا برس سے ہاشمیہ ہائی سکول میں اردو اور فارسی پڑھاتے آرہے تھے. دونوں زبانوں میں انہوں نے ایم.اے کیا تھا اور دونوں میں سنہری تمغہ پایا تھا.جب تیل کے عرب ممالک کا راستہ کھلا تو شیخ صاحب نے سکول ٹرسٹ کے سامنے سکول میں فارسی کی جگہ عربی پڑھانے کی تجویز رکھی. تجویز معقول تھی مگر اس میں ایک مسئلہ تھا.وہ یہ کہ عربی کا اضافی استاذ رکھنے کے لئے سکول کے پاس پیسہ نہیں تھا.ضرورت تھی کسی ایسے شخص کی جو عربی اور اردو پڑھا سکے.ایسا استاذ ملنا مشکل نہیں تھا. مگر پھر شیخ صاحب کی جگہ سکول میں نہ رہتی. چنانچہ ٹرسٹیوں نے تجویز مسترد کر دی کیونکہ ایک بھی ٹرسٹی شیخ صاحب کوسکول سے علیٰحدہ کرنے کے حق میں نہیں تھا.لہٰذا اردو فارسی کا جوڑ باقی رکھا گیا اور عربی کی تجویز سرد خانہ میں ڈال دی گئی. ٹرسٹیوں کے اس فیصلہ کے بعد شیخ صاحب نے بھی ایک فیصلہ کیا.سال بھر بعد انہوں نے دوبارہ سکول انتظامیہ کے سامنے اپنی تجویز رکھی ، اس وضاحت کے ساتھ کہ بچوں کو فارسی کی جگہ عربی وہ خود پڑھائیں گے.ایک سال میں شیخ صاحب نے عربی پڑھی اور اتنی بہت سی پڑھی کہ ایس.ایس.سی.کے معیارتک کی عربی پڑھا سکیں. تجویز منظور ہوگئی.شیخ صاحب اب اردو اور عربی کے استاذ ہوگئے. یوسف مہر علی روڈ پر ہاشمیہ ہائی سکول کے سائے میں کھڑے ہوکر شیخ صاحب نے مجھ سے کہا: میں اس عمر میں عربی سیکھ کر تم جیسے بچوں کو پڑھا سکتا ہوں تو تم کیوں نہیں پڑھ سکتے؟ میں ان کو دیکھتا رہ گیا. مگر پھر میں جانتا تھا کہ اس ڈھلتی عمر میں بھی ان کا یہ حوصلہ اپنے طلبہ سے ان کی بے پایاں محبت کا نتیجہ تھا. شیخ صاحب کا تعلق جنوبی ہند کے مشہور شہر تروپتی سے تھا جو وینکٹیسور مندر کی وجہ سے ہندؤوں کے لئے ایک مقدس مقام ہے.اس شہر کی سر ی وینکٹیسوریونیورسٹی میں جب فارسی پڑھانے کا انتظام بھی ہوا تو ایک ایسے پروفیسر کی تلاش ہوئی جو اردو اور فارسی دونوںپڑھا سکے.یونیورسٹی کے ذمہ داروں کی نظر محمد علی شیخ پر پڑی. اس کے تین سبب تھے. اول تو یہ کہ شیخ صاحب اردو اور فارسی دونوںمیں ایم.اے. کئے ہوئے تھے، اور دونوں میں انہوں نے سنہری تمغہ حاصل کیا تھا. دوسری وجہ یہ کہ ان کے پاس تعلیم و تدریس کابڑا طویل تجربہ تھا.اور تیسری وجہ یہ کہ شیخ صاحب کا وطن تروپتی تھا.جہاں تعلیمی استعداد، تجربہ اور توطن سب ایک جگہ مل جائے تو مزید سوچ بچار کی ضرورت کیا تھی. چنانچہ محمد علی شیخ صاحب کوپروفیسر اور صدر شعبۂ اردو فارسی کے عہدوں کی پیشکش ہوئی. ظاہرہے یونیورسٹی میں عہدہ بھی بڑا تھا،تنخواہ بھی زیادہ تھی،محنت بھی کم تھی، اعزاز بھی بہت تھا. کمی کسی بات کی نہ تھی.ہاشمیہ ہائی سکول کے سارے ہی اساتذہ نے پیشکش قبول کرلینے کی تائید کی. شیخ صاحب آخر اپنے وطن واپس لوٹ گئے.وہاں بھی بڑا اعزاز و اکرام ہوا.یونیورسٹی اور شہر کے لئے یہ بات بجائے خود اعزاز کی تھی کہ اپنے ہی شہر کی ایک نہایت ذی علم شخصیت ادارہ کے لئے باعث شرف ہوئی. تین مہینہ بعد شیخ صاحب استعفے دے کر بمبئی، ہاشمیہ ہائی سکول ،میں واپس آگئے. میرے سوال پر ایک بار مجھ سے انہوں نے کہا تھا: میں اپنے بچوں کے بغیر نہیں رہ سکتا تھا! آج کا کوئی شخص یہ سنے گا تو شیخ صاحب کی ذہنی حالت کے بارے میں نہ جانے کیا رائے قائم کرے. اور آج ہی کیا، کل بھی دولت کی دوڑ میںکم لوگ نہیں ہوتے تھے. کل بھی کہنی مار کے آگے بڑھنے کا رواج تھا، کل بھی ٹانگ میں اڑنگا ڈال کر آگے والے کو گرانا شریفانہ فعل ہی تصور کیا جاتا تھا.کل بھی دو پیسے زیادہ ملنے کی آس پرسارے تعلقات اور مقاصد حیات کی تقریروں کوپیروں تلے روندتے ہوئے نئی دنیائیں آباد کرنے سے کوئی نہیں چوکتا تھا.ہندستان کی ایک بڑی یونیورسٹی کے ایک پروفیسر نے مجھ سے اپنے ایک رفیق کار کے بارے میں بات کرتے ہوئے بتایا تھا کہ ان کے دوست کے سامنے جب ایک خلیجی یونیورسٹی میں ملازمت کی تجویز آئی اور وہ وہاں جانے لگے تو پروفیسر نے کہا کہ ملت کے ارتقا، اور اس کے مسائل کے حل کے واسطے کام کرنے کے جو منصوبے بنائے تھے اب ان کا کیا ہوگا، تو جواب ملا کہ وہ مقاصد اپنی جگہ مگر نئی ملازمت میں تنخواہ دس گنا زیادہ ہوگی. اور وہ چلے گئے. اوروں پر تنقید کیا کریں.اپنا دامن بھی کہاں صاف ہے. خود ہم نے بھی تو یہی کیا تھا.قوم کی خدمت اور رہنمائی کے سارے خوابوں کی کرچیوں پر سے گزر کراپنی ذات کو صحرا کا خیمہ بنا دیا تھا. مگر محمد علی شیخ اس عام مٹی کے بنے ہوئے نہیں تھے. ان جیسے لوگوں کی وجہ سے تو دنیا میں خالص عمل اور شرافت اور مقصد کا بھرم قائم ہوا ہے.ایسے کام بہت پاک ، بہت ارفع مٹی سے بنے ہوئے آدمی کرتے ہیں.ان لوگوں پر کوئی پی ایچ.ڈی نہیں کرتا. اقبال اور سر سید کی طرح کوئی بے ضرورت ان کے قصیدے نہیں پڑھتا. ان پر مضامین نہیں لکھے جاتے. ان کے واسطے تہنیتی تقریبات منعقد نہیں ہوتیں.ان کی برسیوں اور سالگرہوں پر ڈنر نہیں کھائے جاتے.ان کے نام پر سڑکوں کے نام نہیں رکھے جاتے.انہیں کوئی سمّان، کوئی قومی اعزاز، کوئی تمغۂ خدمت نہیں دیا جاتا. یہ گمنام لوگ اپنی گمنامی میں زندہ رہتے ہیں اور اسی گمنامی میں چاردوستوںیا چارپڑوسیوں یاچار اجنبیوںکے کاندھوں پر اس دنیا سے رخصت ہوجاتے ہیں. ان کی قبروں کا وہی حال ہوتا ہے جو شہنشاہ جہانگیر کی محبوب اور ہندستان کی با جبروت ملکہ نور جہاں نے اپنے بارے میں تصور کیا تھا اور پھر وصیت کی تھی کہ اس کی قبر کے کتبہ پر یہ شعرلکھوادیا جائے: برمزار ماغریباں نے چراغے، نے گلے نے پر پروانہ سوزد ، نے صدائے بلبلے ہم اجنبیوںکے مزار پر نہ چراغ ہے نہ پھول ۰ نہ کسی پروانے کا پر جلتا ہے، نہ بلبل کی صدا ہے مگر پھر شیخ صاحب جیسے لوگ مصنوعی اعزازوں سے بے نیاز ہوتے ہیں.ستائش اور صلہ کی تمنا سے ان کے دل اور دامن داغدار نہیں ہوتے.شیخ صاحب کے تمغے تو ان کی وہ معنوی اولاد ہے جو آج سیکڑوں کی تعداد میں دنیا کے چپے چپے پر ان کی دی ہوئی علم کی دولت کو لٹا رہی ہے. زماں خان اور غلام علی نورانی اسی ہاشمیہ سکول کی انتظامیہ کے سربراہ رہے. ابراہیم خان جو طالب ہاشمی (ہاشمیہ سکول کی نسبت سے) بچوں کے لئے شاعری بھی کرتے تھے، بمبئی کے فاروق ہائی سکول کے پرنسپل ہوئے. جمیل لشکری شیخ صاحب کی روایت کو بڑھاتے ہوئے ہاشمیہ سکول ہی میں برسوں استاذ رہے.ممریز خاں بھی استاذ اور پھر اسی سکول کے پرنسپل بنے.عبداللطیف عارف اوغلو اب استنبول، ترکی، میں اپنا کاروبار کرتے ہیں.انہوں نے برسوں ہاشمیہ میں پڑھایا اور بڑی شان وشوکت اور رعب دبدبے والے استاذ رہے.کلیم احمد دانتوں کے ماہر سرجن بن گئے.عبدالرحمٰن واگلے امریکہ چلے گئے تھے اور اعلیٰ تعلیم کے بعد اب کیلیفورنیامیں اونچے درجہ کے فارماسسٹ ہیں، شعر کہتے ہیں، ساز تخلص کرتے ہیں.اپنا مجموعہ کلام شائع کیا تو بمبئی آکر اپنے ایک استاذ، احمد علی زیدی صاحب، کے ہاتھوں ہاشمیہ سکول کے ہال میں اس کا اجرا کروانے کی سعادت حاصل کی.سلمان غازی برسوں بنک آف بڑودہ میں اڈوانسیز منیجر رہے اور اب ہندستان میں اقرا ء کے ڈائریکٹر ہیں.ان میں سے ہر شخص شیخ صاحب کے سینے کا سنہری تمغہ ہے. ہم لوگ میٹرک کے سال میں آگئے تھے. شیخ صاحب ہی اب ہمارے کلاس ٹیچر بھی تھے. روزانہ صبح پہلا گھنٹہ اردو کا ہوتا تھا. ظہر کے بعدپہلا گھنٹہ روزانہ فارسی کا ہوتا تھا. ہماری کلاس کا کمرہ بہت چھوٹا سا تھا. کل ۲۹ طلبہ تھے.میں بائیں سمت سب سے اگلی ڈیسک پر بیٹھتا تھااور میری ڈیسک اور استاذکی میز باہم ملی ہوئی تھیں.ایک روز شیخ صاحب مرزا رفیع سودا کا ایک قصیدہ در مدح نواب آصف الدولہ پڑھا رہے تھے.اس کا ایک شعر موضوع گفتگو بن گیا. شعر مجھے یاد نہیں رہتے، وہ شعر بھی یاد نہیں رہاتھا.گزشتہ دنوںبعد تلاش بسیار ملا. شعلہ پیرا ہو جس دم اس کی تیغ ہووے خاک سیہ عدم میں فتور شیخ صاحب نے اس کا مطلب بتایا کہ ممدوح کی شمشیر سے جو چمک پیدا ہوتی ہے اس سے عدم کی تاریکی بھی چھٹ جاتی ہے.میں نے اس مطلب پر اعتراض کردیا.شیخ صاحب نے کہا تم کیا کہتے ہو. میں کہا عدم موت ہے. وہاں زندگی کا فقدان ہے. تلوار بھی موت کی نوید ہے. عالم موجود میں موت کو تلوار کا فتور کہا جائے گا. عدم میں فتور اسی وقت ہوگا جب ممدوح کی تلوار سے وہاں زندگی کی روشنی پیدا ہوجائے. یعنی جب اس کی تلوار چلتی ہے تو عدم میں مردہ زندہ ہو کر اس طرح بھاگنے لگتے ہیں جس طرح عالم موجود میںلوگ اس سے بچ کر بھاگتے ہیں. شیخ صاحب نے کچھ غور کیا، اور پھر کہا کہ جو مطلب انہوں نے بتایا ہے وہی درست ہے. ٹھیک اسی وقت ایک ہم جماعت قاسم جان محمدنے میری تائید کر دی.قاسم کلاس کے بہت اچھے طلبہ میں تھا. میمن تھا، مگر اردو کی استعداد بہت اچھی تھی.اس کے بعد شیخ صاحب نے ادھر ادھر دیکھا. محمد اسلم سے پوچھا. اسلم اسی سال ہمارے سکول میں آیا تھا. اردو اس کی بھی بہت اچھی تھی.اسے بھی میری بات بھا گئی. آخر شیخ صاحب نے فیصلہ کیا کہ میں اپنے والد صاحب ،مولانا حامد الانصاری غازیؒ،سے اس شعر کا مطلب پوچھ کر آؤں.اس کے بعد وہ بعد کے اشعار سمجھانے لگے. شام کو گھر آیا تو میںنے اباجان سے اس شعر کا مطلب پوچھا. ان سے دن میں سکول میں ہونے والے واقعہ کا ذکر نہیں کیا.اباجان نے اتفاق سے وہی مطلب بتایا جو میں نے دن میں سمجھا تھا. دوسرے روز کلاس میں شیخ صاحب کا پہلا سوال اسی شعر کی بابت تھا.میں نے بتایا، اور ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ والد صاحب کو واقعہ نہیں بتایا تھا.اب شیخ صاحب نے ایک حکم اور دیا. کہ والد صاحب سے اس شعر کا مطلب لکھوا کر لاؤ.میں نے کہا ممکن ہے وہ لکھوانے کا سبب پوچھیں توسارا واقعہ ان کے علم میں لانا پڑے. شیخ صاحب نے اس کی اجازت دے دی. وہی ہوا، جب میں نے والد صاحب سے کہا کہ مطلب لکھ دیجئے تو انہوں کہا لکھنے کی کیا ضرورت ہے، کل بتا تو دیا تھا. تب میں کہا کہ دراصل یہ مجھے شیخ صاحب نے حکم دیا ہے اور اس کا سبب بھی بتایا. تیسرے روز میںسکول گیا اور وہ کاغذ شیخ صاحب کی خدمت میں پیش کیا.شیخ صاحب نے اسے اطمینان سے پڑھا. اپنی جیب میں رکھا. پھر مجھ سے کہا کھڑے ہوجاؤ. میں گھبرایا کہ اب شائد شامت آئی. حکم ہوا اپنی نشست سے باہر آکر ان کے برابر کھڑا ہوں. پھر حکم دیا اب کلاس کو اس شعر کا وہ مطلب سمجھاؤ جو تم نے سمجھا تھا اور پرسوں بتایا تھا. میں نے پرسوں کی تفصیل دہرا دی تو شیخ صاحب نے کلاس کو مخاطب کیا: بورڈ کے امتحان میں ہر شعر کا وہ مطلب لکھنا جو میں نے پڑھایا ہے. لیکن اگر سودا کا یہ شعر پوچھا جائے تو وہ مطلب بتانا جو طارق کہہ رہا ہے. چند ماہ بعد امتحانات شروع ہوئے.پہلا پرچہ اردو ہی کا تھا. میری اور مشتاق احمد کی امتحان گاہ ماٹونگا میں روپاریل کالج میں تھی. وہاں جانے سے پہلے میں سکول گیا، پرنسپل عبداللہ بورا صاحب اور دیگر اساتذہ سے دعا لینے کے لئے. شیخ صاحب مجھے سکول کے دروازہ تک چھوڑنے کے لئے آئے. اور اس وقت پھر ایک نصیحت کی. آج کے دن کے لئے میرا حکم ہے کہ ایک شعر کے سوا ہر شعر اور نثر کے ہر فقرہ کا صرف وہ مطلب لکھنا جو سال بھر میں نے پڑھایا ہے.آج تمہیں ہرگز کچھ اور مطلب لکھنے کی اجازت نہیں ہے. اردو کا امتحان ختم ہوجانے کے بعد پھر زندگی بھر تم آزاد ہو، جس شعر اور نثری فقرہ کاجو مطلب چاہو سمجھو اور بیان کرو.مجھے یقین ہے اس وقت تم جو کچھ سمجھو گے وہی درست ہوگا. پھر مجھے سینے سے لگا کر، سر پر ہاتھ رکھ کر،ڈھیر سی دعائیں دیتے ہوئے امتحان گاہ کے سفر کے لئے رخصت کیا. اب اس میں کیا شبہ ہے کہ میری اردو فہمی میں شیخ صاحب کی توجہات کو بہت دخل ہے.ذہن تو انہوں نے اورمڈل کلاسوں میں غلام محی الدین قریشی صاحب مرحوم ہی نے بنایا تھا.آج برا بھلا کچھ لکھ لیتے ہیں تو اس کا راز یہی استاد تو ہیں.ایسے استاد نہ ملتے تو نہ جانے میں کس کوچۂ لاعلمی کی خاک چھان رہا ہوتا. میٹرک کا امتحان ہو چکا تھا.میں اب فارغ تھا اور نتیجہ کا انتظار تھا. کہ ایک روز سکول کا ایک ہرکارہ شیخ صاحب کا پیغام لے کر آیا. انہوں نے مجھے سکول میں طلب کیا تھا. والدہ نے پوچھا کیا بات ہے، شیخ صاحب نے کیوں بلایا ہے.کوئی مسئلہ تو نہیں.میں نے کہا نہیں ایسی تو کوئی بات نہیں. مجھے بھی پتہ نہیں ان چھٹیوں میں کیوں طلب کیا ہے. ایسا پہلا موقعہ تھا.خیر میں فوراً ہی سکول پہنچا. وہ سٹاف روم میں بیٹھے تھے. وہاں کچھ اساتذہ اور بھی بیٹھے تھے. سلام دعا کے بعد شیخ صاحب نے ایک کرسی پر بیٹھنے کے لئے کہا. زندگی میں یہ پہلا موقعہ تھا جب مجھ سے استاذوں کی کسی کرسی پر بیٹھنے کے لئے کہا جارہا تھا. ہم پانچویں جماعت میں تھے تو صبح کے درمیانی وقفہ میں ایک ہم جماعت شرارتاً اس کرسی پر جاکر بیٹھ گیا جس پر مختلف اساتذہ آکر بیٹھا کرتے تھے. اس وقت قاسم جان محمد نے اس شریر لڑکے کو ڈانٹا تھا: اے، شرم نہیں آتی؟جناب کی کرسی پر بیٹھتا ہے. تو جاہل رہ جائے گا. یہ ہماری تہذیب تھی. استادوں کا اتنا احترام واجب تھا.ان کی کرسی پر بیٹھنا سوئے ادب اور بے تمیزی کی دلیل تھی.قاسم کا مطلب بھی یہی تھا کہ علم حاصل کرنے کے لئے استاد کا احترا م فر ض ہے.قاسم سے میری آخری ملاقات ۱۹۹۱میں اسمٰعیل حبیب مسجد کے سائے میں ہوئی تھی.مگر اس کی۱۹۵۲ کی وہ بات مجھے آج تک یاد ہے اور میں حیران ہوتا ہوں جب طلبہ کو ۔ چاہے وہ سابق طلبہ کیوں نہ ہوں ۔ اپنے اساتذہ کی توہین کا مرتکب دیکھتا ہوں.ایسے لوگوں کے سامنے میں کیا بولوں. اس دن شیخ صاحب کے حکم کے باوجود میری ہمت اس کرسی پر بیٹھنے کی نہیں ہو رہی تھی.احمد علی زیدی صاحب بھی وہیں بیٹھے تھے. وہ بھانپ گئے اور بولے: بھئی اب تو تم اس سکول سے فارغ ہوچکے ہو، اور ہمارے برابر آگئے ہو. بیٹھ جاؤ. ان کے حکم پرمیں بیٹھ تو گیا، مگر کہا سر، آپ کے برابر تو میں زندگی بھر نہیں ہو سکتا. زیدی صاحب بڑی شفقت سے مسکرا ئے، پھر کسی دوسرے استاد سے اس گفتگو کا سلسلہ ملایا جن سے وہ پہلے سے کچھ بات کررہے تھے.شیخ صاحب کسی کام میں منہمک تھے.کچھ دیر بعد سر اٹھایا اور مجھ سے کہا، میرے ساتھ آؤ، تم سے کچھ بات کرنی ہے.وہ سٹاف روم سے باہر نکلے. میں پیچھے نکلا. پہلی منزل پر ہماری گیارہویں کلاس کے کمرے میں شیخ صاحب اپنی کرسی پر بیٹھ گئے اور مجھے بھی بیٹھنے کا اشارہ کیا.میں بھی سامنے کی ایک کرسی پر بیٹھ گیا. آج کل کیا کررہے ہو؟ کچھ خاص نہیں. حج کمیٹی کے عارضی عملہ میں عازمین حج کے پاسپورٹ بانے کی نوکری مل گئی ہے. بس وہی کر رہا ہوں اور باقی رزلٹ کا انتظا ر کر رہا ہوں . میرا ایک کام کر سکوگے؟ سر آپ حکم دیجئے. شیخ صاحب شائد بالکل نہیں سوتے تھے. ہمارے سکول سے ایک گھنٹے کے ٹرین کے سفر کی دوری پر کلیان میں رہتے تھے. سکول آنے کے لئے کچھ ساڑھے چھ بجے صبح گھر سے روانہ ہوتے.آٹھ سوا آٹھ بجے سکول پہنچ جاتے. صبح سوانو بجے سے کلاسیں شروع ہوجاتیں.اس درمیان میں وہ آٹھویں، نویں، دسویں اور گیارہویں جماعتوںکی مضمون نگاری کی کاپیاں جانچتے. شام کے پونے پانچ بجے آخری کلاس ختم ہوتی تھی اور طلبہ گھر واپس چلے جاتے تھے. شیخ صاحب سکول ہی میں بیٹھے رہتے اور اپنے طلبہ کاباقی ماندہ کام نپٹاتے.گھنٹہ بھر بعد وہاں سے نکلتے اور مدنپورہ نائٹ ہائی سکول پہنچتے. وہاں وہ نوجوان پڑھا کرتے تھے جو غربت کے باعث دن میں کسی روزگار میں مشغول ہوتے تھے اوررات کو علم کی پیاس بجھاتے تھے.مدنپورہ نائٹ ہائی سکول ایسے ہی نوجوانوں کو ایس.ایس.سی. کے لئے تیار کرتا تھا. شیخ صاحب وہاں بھی اردو اور فارسی پڑھاتے تھے.رات دس بجے سکول بند ہوتا تو شیخ صاحب اپنے گھر کے ایک گھنٹے کے سفر پر نکلتے.نصف شب کے آس پاس گھر پہنچتے تھے.چند گھنٹہ بعد فجر کا وقت ہوجاتا اور شیخ صاحب پھر اپنے اس سفر پر نکل کھڑے ہوتے جسے انہوں نے تروپتی یونیورسٹی کی پروفیسری اور آرام کی زندگی پر ترجیح دی تھی.مگر آدمی تھک بھی جاتا ہے. شیخ صاحب کے بالوں میں سفید لکیریں نظر آنے لگی تھیں.مگر انہیں تو اپنے سر میں چمکتی چاندی دیکھنے کی بھی مہلت نہیں تھی. شیخ صاحب نے کپڑے کا ایک تھیلا کھولا. اس میں سے کاغذوں کا ایک پلندہ نکالا. یہ مدنپورہ نائٹ سکول کے دسویں جماعت کے سالانہ امتحان کے اردو کے پرچے ہیں. انہیں جانچنا ہے. مگر یہ کام رازداری سے کرنا. کسی کو علم نہ ہو.گھر میںوالدین کو بتا سکتے ہو.اور دیکھو. یہ سب محنت کرنے والے لڑکے ہیں. کسی کو فیل نہ کرنا. دن بھر محنت مزدوری کے بعد رات کو پڑھنے کے لئے آتے ہیں. ان کو حوصلہ افزائی کی ضرورت ہے. میں وہ پچاس کے قریب پرچے گھر لے آیا.صرف امی کو رازدار بنایا.چھوٹے بہن بھائی جب کھیل کود میںمشغول ہوتے تھے تو میں نے دو دن میں سارے پرچے جانچ لئے. صرف ایک لڑکا فیل ہوا. میں نے بہت کوشش کی کہ اسے بھی کسی طرح پچاس میں سے ۱۷ نمبردے دوں، مگر وہ ٹٹو سات آٹھ سے آگے بڑھنے کو تیار نہیں تھا.پرچے لے کر میں سکول پہنچا اورتنہائی میں شیخ صاحب کے حوالے کئے. انہیںبتایا کہ ایک لڑکے کو پاس نہیں کرسکا. انہوں نے کہا فلاں ہوگا. جی ہاں. وہی تھا. میں جانتا تھا. وہ پاس نہیں ہوسکتا تھا. بہت کمزور ہے. مگر دوسرے دو ایک مضمون میںٹھیک ہے. اچھا ہے کچھ سیکھ لے. جتنا بھی پڑھ لے اس کے لئے غنیمت ہے. کچھ تو کام آئے گا. عجیب لوگوں کا زمانہ تھا. جب تک بمبئی جانا آنا تھا. میں کم از کم ایک بار اپنے سکول ضرور جاتا تھا. اپنے اساتذہ کی دست بوسی کے لئے. پھر وہ سب ایک ایک کر کے سکول سے رخصت ہوتے چلے گئے. تب کچھ دوست،کچھ عم عصر، زماں خان اور غلام علی نورانی اور جمیل احمد لشکری رہ گئے تھے.تو ان سے ملاقات ہوجاتی تھی. اب تو شائد وہ لوگ بھی گھر بیٹھ رہے ہوں.تو پتہ نہیں اب بھی شیخ صاحب جیسے استاد ہوتے ہیں کہ نہیں.اُس پرانے زمانے میں ایسے لوگ شاذ و نادر نہیںہوتے تھے. بیگ محمد ہائی سکول میں اردو اور عربی کے استاذ جالب مظاہری بھی اسی طرح اپنے طلبہ کی محبتوں کے مرکز تھے. انجمن اسلام ہائی سکول کے طلبہ اپنے پرنسپل ضیا ء الدین پریوں ہی جان چھڑکتے تھے.مرزا عبدالستار بیگ، مولانا مہر محمد خان شہاب مالیرکوٹلوی،ابراہیم عمادی ،مدن موہن کالیہ. کتنے نام گناؤں. وہ تو ایک کہکشاں تھی.اور اس کہکشاں میں بڑے بڑے سورج تھے اور ان کے طلبہ ہر ایک کے نظام شمسی کے سیارے. میں ویسا ہی ایک سیارہ ہوں، شیخ صاحب،عبداللہ بورا صاحب، زیدی صاحب، خطیب صاحب،آغا صاحب، قریشی صاحب، محسن علی صاحب،عبداللطیف عارف زادہ صاحب،شیخ قادر صاحب کے شمسی نظاموں کا. سیارے میں اپنی کوئی روشنی نہیں ہوتی. بس دماغ کا جو کچھ اجالا ہے وہ انہیں سورجوں کی ضیاؤں کا عکس ہے.اور جہاں کہیں اندھیرا ہے تو اپنی کالی مٹی کا. پرچے شیخ صاحب کو دینے کے بعد میں ان سے سوال کیا. سر، آپ اتنی محنت کیوں کرتے ہیں.آرام کا تو وقت ہی نہیں ملتا.بہت تھک جاتے ہوں گے. انہوں نے بڑے درد بھرے لہجہ میں جواب دیا. زندگی میں مہلت ملی تو آرام بھی کر لیں گے. یہ آرام کرنے کا وقت نہیں ہے.اپنے ارد گرد نہیں دیکھتے، قوم کی کیا حالت ہے؟ایسے میںکوئی آرام کرسکتا ہے کیا؟ وہ ٹھیک کہہ رہے تھے. یہ تو میں نے اپنے گھر میں بھی دیکھا تھا. ابا جان ہی کونسا آرام کرتے تھے.ان کے دن رات بھی تو یوں ہی وقف تھے اس قوم کے لئے جومتواتر حادثات کے ملبے تلے سے نکلے اور اٹھنے کی کوشش کر رہی تھی. محمد علی شیخ صاحب جیسے اساتذہ اگر اب بھی پائے جاتے ہیں تو ان مسلم سکولوں میں جہاںآج بھی مستقبل کے لئے بڑی روشنی ، بڑی امید ہے.تھوڑی سی ایلوہ لگی بات ہے، پادریوں کے سکولوں میں مستقبل نہیں ہوتا.مستقبل بنانے والے شیخ صاحب جیسے استاد بھی ہر جگہ نہیں ہوتے. ایسے استاد تو انہی سکولوں میں مل سکتے ہیں جہاںکتابیں نہیں پڑھائی جاتی ہیں، علم منتقل کیا جاتا ہے. ان دو باتوں میں فرق ہے.درست ہے کتابیں پڑھا دینے والے بھی قابل احترام و عزت ہوتے ہیں. طلبہ طالبات پر احسان ان کا بھی ہوتا ہے. مگر پھر علم منتقل کرنے والا استاد تو بہت مختلف آدمی ہوتا ہے. شیخ صاحب کی طرح جو ہزاروں روپے کی تنخواہ چھوڑ کر ہاشمیہ اور مدنپورہ نائٹ سکولوں میںذہن سازی کو اپنی زندگی کا مقصد بنائے ہوئے تھا. تو بس ، جو لوگ مجھ سے پوچھتے ہیں کہ یہ قوم ترقی کیسے کرے گی، تو میں یہی کہتا ہوں کہ تلاش کرو، قوم میں اگر ابھی محمد علی شیخ صاحب جیسے استاذ موجود ہیں تو مایوسی کی بات نہیں.وہ دیکھو،دور سرنگ کے اُس کنارے پر روشنی کا ایک نقطہ نظر آرہا ہے.
محمد طارق غازی ٭ آٹوا ، کینڈا ٭ سہ شنبہ ۱۹ مئی
|