بِکنی پسندوں کی یہ دلیل
ساحلِ سمندر پر نہانے والی سیاح عورتوں کی بے لباسی کے حق میں ایک دلیل یہ دی جارہی ہے کہ ’’بکنی کا استعمال پوری دنیا میں عام ہے لیکن وہ عورتوں پر جنسی زیادتی کا سبب نہیں بنتا۔ حتیٰ کہ اسلامی ملک مصر میں بھی، جہاں سیاحت کے ذریعے ہونے والی آمدنی کا ۸۰ فیصد حصہ ساحل سمندر سے آتا ہے، بکنی کا استعمال عام ہے لیکن وہ مردوں کے لئے کشش یا ان کی نظر بدکا محرک نہیں بنتا اس لئے وہاں جنسی جرائم نہیں ہوتے۔ ۔ ۔ ‘‘۔ (میل ٹوڈے ۳۱جنوری) اس بحث کا تعلق گوا میں سیاح عورتوں پر جنسی حملوں کے واقعات سے ہے۔ گوا سرکار کے بعض ذمے داروں کے اس بیان کے بعد کہ ’’اِن واقعات کے لئے خود سیاحوں کا طرز عمل ذمے دار ہے ‘‘ اور یہ کہ ’’بکنی کو ممنوع قرار دے دیا جائے گا‘‘کچھ حلقوں میں افرا تفری مچ گئی ہے۔ فحاشی کی تجارت کرنے والوںکے علاوہ اخلاقی لحاظ سے بے راہ رو اور بے لگام افراد بھی بے چین ہوگئے ہیں ۔ خود گوا کی حکومت پریشان ہے اور اس نے واضح کیا ہے کہ بکنی (یعنی عورتوں کی بے لباسی ) پر کسی قسم کی پابندی نہیں عائد کی جائے گی، صرف محکمۂ سیاحت کے اشتہارات سے بکنی والی عورتوں کی تصویریںہٹا دی جائیں گی۔ مزیدار بات یہ ہے کہ یہ لوگ بکنی پر پابندی کے تو خلاف ہیں لیکن سیاح عورتوں پر جنسی زیادتی کرنے والوں کو سخت سے سخت بلکہ موت کی سزا دینے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
بحث کے تین زاویے
اس پوری بحث کے تین زاویے سامنے آتے ہیں: (۱) بزنس یعنی آمدنی (۲) آبرو باختہ حلقوں کا لحاظ (۳) گلوبلائزیشن کا کلچر فحاشی کے اس کاروبار کو نجی کمپنیاں، ادارے اور افراد ہی نہیں، حکومت بھی آمدنی کا بہت بڑا ذریعہ سمجھتی ہے اس لئے اسے بند نہیں کرنا چاہتی۔ آبروباختگی اور جنسی بے راہ روی کاعالم یہ ہے کہ برتھ کنٹرول کے نام پر خود حکومت اسے فروغ دے رہی ہے۔ سرکاری ریڈیو ، ٹیلی ویژن اور پرنٹ میڈیا کے ذریعے انتہائی بیہودہ اور اخلاق کُش اشتہارات دیئے جارہے ہیں۔ گلوبلائزیشن کا تعلق مرکز ی سیاستدانوں سے ہے جو اس مغربی کلچر کو گلوبلائزیشن کے لئے ضروری سمجھتے ہیں۔ نیز سُپر پاور بننے کے لئے بھی اس کلچر کا فروغ ضروری ہے تاکہ مغرب کے ترقی یافتہ ملکوں کے شانہ بشانہ چلا جائے لیکن دوسری طرف یہ لوگ اس عمل کے ردعمل میں ہونے والے جرائم کے لئے سزائے موت مقرر کرنا چاہتے ہیں۔ وہ اس حقیقت کو نہیں مانتے کہ جنسی جرائم سرِ عام اس عریانیت اور فحاشی کا نتیجہ ہیں۔ بڑی دلچسپ صورتحال ہے۔ دراصل یہ لوگ اس امر واقعہ سے بے خبر ہیں کہ مغربی ساحلوں پر یہ جرائم عام ہیں لیکن انہیں جرائم نہیں سمجھا جاتا۔ یہ وہاں کا کلچر ہے۔ ہندوستانی ساحلوں پر بھی بہت کچھ ہوتا ہے۔ بس کبھی کبھی کوئی واقعہ خبر بن جاتا ہے۔
مصر کی مثال پر خود غور کیجئے
اور جہاں تک مصر کے حوالے کا تعلق ہے کہ وہاں ساحل پر جنسی جرائم نہیں ہوتے یا بکنی ’’پوش‘‘ عورتوں کے ساتھ کوئی چھیڑ چھاڑ نہیں کرتا تو اس کا کریڈٹ وہاں کے معاشرے کو جاتا ہے جوبحیثیت مجموعی ایک مسلم معاشرہ ہے۔ عوام اسلام پسند ہیں، کھوٹ حکمرانوں میں ہے جو امریکہ کے وفادار و فرمانبردار ہیں۔ امریکہ کی مدد سے اور فوج کی بندوق کے زور پر عوام پر مسلط ہیں۔ ساحل کو اس بے ہودگی سے پاک کرنا تو فی الحال عوام کے بس میں نہیں ہے لیکن خود کو اخلاقی برائیوں سے دور رکھنا بہرحال ان کے اختیار میں ہے۔ ایک گناہ تو ساحل اور فائیو اسٹار ہوٹلوں کو مغربی بیہودگی کے لئے کھول کر ان کے حکمراں کرر ہے ہیں، اب ان عورتوں پر بری نظر ڈال کر یا ان کے ساتھ زیادتی کرکے وہ دوسرا گناہ نہیں کرسکتے۔ مغربی فحاشی سے بیزاری کے اظہار کے طور پر بھی نہیں۔ یہ تو ہوسکتا ہے کہ کوئی غیور فرد یا گروپ ان غیر ملکیوں پر تشدد کی کوئی مہلک کارروائی کردے (اگرچہ معاشرہ اس طریقے کو بھی پسندنہیں کرتا) لیکن کوئی گناہ کبیرہ کا مرتکب نہیں ہوسکتا۔ مصر کی مثال دینے والوں کو اس پر غور کرنا چاہئے۔ سزائے موت کے مطالبہ کی ہم تائید کرتے ہیں تاہم مطالبہ کرنے والوں سے گزارش ہے کہ اگر مصر کی حکومت کبھی کسی جنسی مجرم کو موت کی سزا دے دے تو اس پر واویلا نہ کریں نہ ہی اسے مسلم ملک کا وحشی پن قرار دیں۔ ۱۳۔۰۲۔۲۰۱۰ء
|