اور اب ناروے سے شرارت
چند سال قبل ڈنمارک کے ایک اخبار نے پیغمبر اسلامؐ کے کچھ کارٹون شائع کرکے پوری امت مسلمہ کو مشتعل کرنے کی کوشش کی تھی، اب وہی شرارت ناروے کے ایک اخبار نے کی ہے، جس کے خلاف ناروے کے مسلمان احتجاج کررہے ہیں۔ جمعہ ۱۲ فروری کو اوسلو میں تین ہزار مسلمانوں نے اپنے غم وغصے کااظہار کرنے کے لئے زبردست مظاہرہ کیا۔ ناروے اوریورپ کے کچھ دوسرے شہروں میں بھی احتجاج ہوا ہے۔ اندازہ ہے کہ اگر اس شرارت پر اوسلو کے اخبار اورناروے کی حکومت نے بھی وہی رویہ اختیار کیا جو ڈنمارک کے اخبارات اور وہاں کی حکومت نے کر رکھا تھا تو امت کے احتجاج کی نوعیت عالم گیر ہوسکتی ہے۔ دنیا کے تمام باخبر حلقے جانتے ہیں کہ پوری امت مسلمہ کے لئے یہ انتہائی حساس معاملہ ہے۔ ڈنمارک کی شرانگیزی کے بعد دنیا پر یہ حقیقت اچھی طرح واضح ہوگئی تھی۔ اس سے قبل ۸۰ کی دہائی میں رشدی کی شیطانی کتاب پر دنیا مسلم اُ مّہ کا ردعمل دیکھ چکی تھی۔ اِن گھٹیا اور خبیث حرکتوں کے خلاف مسلمانوں کے جذبات کو دنیا کے تمام شریف و شائستہ انسان سمجھتے ہیں ۔ مسلمانوں کے غم وغصے اورشدید ردعمل کو کوئی بھی انسان غلط یا بے جا نہیں کہہ سکتا ۔ یہ چیز امت کی ایمانی حرارت کا ثبوت ہے۔ اس لئے کہ یہ امت زندہ امت ہے۔
اُمت اس پہلو کو سامنے رکھے
لیکن صورتحال کا ایک پہلو اور بھی ہے اور وہی اصل پہلو ہے جس پر امت کو پرسکون دماغ کے ساتھ غور کرنا چاہئے ۔ وہ یہ ہے کہ دین حق کے مخالفین جو کچھ کررہے ہیں ، بدحواسی کے عالم میں کر رہے ہیں ۔ حالانکہ اہل مغرب کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ پڑھے لکھے اور سنجیدہ ہوتے ہیں، دوسرے انسانوں کے ساتھ معاملات میں نفاست و شائستگی کا لحاظ رکھتے ہیں،دوسروں کی دلآزاری نہیں کرتے، اِس خیالِ عام (یا خیالِ خام) کی بنیاد پر توقع تھی کہ اسلام اور پیغمبر اسلامؐ کے سلسلے میں ایسی گھٹیا حرکتیں نہیں کریں گے، عقیدۂ اسلام کو اگر چیلنج کریں گے تو علمی سطح پر کریں گے۔ مگر یہ لوگ چھچھورے پن پر اتر آئے ہیں جو ان کی تہذیبی بے مائگی اور ذہنی بدحواسی کا پتہ دے رہا ہے۔ ویسے مغرب نے علمی سطح پر بھی بہت کچھ کرکے دیکھ لیا۔ ماضی میں مغربی مستشرقین کی فوج کیا کرتی رہی؟ حاصل کچھ نہ ہوا۔ قرآن محفوظ رہا، سیرت محفوظ رہی، عقیدہ اٹل رہا، امت ٹس سے مس نہ ہوئی۔ پھر یہ کہ جس اصل مقصد یعنی انسانوں کو اس دین سے دور رکھنے کے لئے یہ سب کیا جارہا تھا، وہ بھی پورا نہ ہوا۔ اور آج، خود اُن کی اپنی حاصل کردہ معلومات کے مطابق اس امت کی نفری قوت ڈیڑھ ارب سے تجاوز کرگئی ہے۔ بدطینتوں نے غالباً ان تجربات کی روشنی ہی میں طے کیا ہے کہ گھٹیا اور بازاری حرکتوں سے کام لیا جائے۔
ایک اور بات توجہ طلب ہے
اور یہ پہلو امت کے لئے خوش آئند اور اطمینان بخش ہے۔ ایمان کوتقویت پہنچاتا ہے۔اس لحاظ سے مسلمانوں کو ان شیطانی حرکات پر کسی غیر سنجیدہ اور جذباتی طرز عمل کا مظاہرہ نہیں کرنا چاہئے۔ بلکہ سچ تو یہ ہے کہ اہل مغرب اور دنیابھر میں اُن کے ہم نوا امت کی ہمدردی کے مستحق ہیں۔ جس طرح کسی کنگال ،پھٹے حال اور محتاج شخص کو دیکھ کر دل میں ہمدردی ہوتی ہے کہ کاش اس کی یہ حالت نہ ہوتی اُسی طرح یہ لوگ بھی اخلاق وکردار اور عقیدے کے لحاظ سے کنگال ہیں۔ ان کی آبروباختہ تہذیب تیزی سے دم توڑ رہی ہے۔ خود مغرب میں اسلام سے دلچسپی ان کے سینوں پر سانپ لوٹا دیتی ہے۔ مسلمانوں کو اللہ کا شکر ادا کرنا چاہئے کہ وہ مسلمان ہیں۔ لیکن اس کے ساتھ ایک اور بات توجہ طلب ہے۔ اگر امت کی عملی صورتحال پر نظر ڈالی جائے تو اسلام کے معیارِ مطلوب پر ہرگز پوری نہیں اترتی۔ خواص، یعنی حکمراں طبقے اور امیروں کبیروں کا حال تو بہت ہی بُرا ہے۔ جو کچھ جوہر ہے، مسلم عوام کے پاس ہے لیکن ان کا کردار بھی وہ نہیں جو ہونا چاہئے۔ اس کے باوجود اگر دینِ اسلام پھیل رہا ہے تو اپنے عقیدے کی کشش اوراپنی اخلاقی قوت کی بنا پر۔ اب غور کیا جائے کہ اگر امت اپنے عملی کردار کے ساتھ سراپا دعوت بن جائے تو کیا وہ مسائل باقی رہ سکتے ہیں جو آج امت کو درپیش ہیں؟ ۲۲۔۰۲۔۲۰۱۰
|