ہندوستان میں مسلم ملت اور خاص کرمسلم نوجوان نسل کو آج جو سنگین صورتحال کا سامنا ہے، اس کے لیے فسطائی قوتوں نے برسوں پہلے سے نہ صرف منصوبہ بندی کی تھی، بلکہ اس پر کھلے عام عمل درآمد بھی کیا ہے۔ جدو جہد آزادی کے دوران سلگائی گئی یہ آگ آزادی کے بعدتقسیم ہند کا تیل چھڑک کر اس تیزی سے بھڑکائی گئی کہ مسلمان تمام تر تدابیر کے باوجود اس کو روکنے یا اس کی تپش کم کرنے میں کامیاب نہیں ہو پائے ہیں۔
تقسیم ہند کی صلیب : مجھے یا د پڑتا ہے کہ بہت پہلے مشہور صحافی کلدیپ نیر نے اپنے ایک مضمون میں لکھا تھا کہ ہندوستان کی موجودہ نسل تقسیم ہند کی صلیب اپنے کاندھوں پر اٹھا ئے جی رہی ہے۔ سچائی یہی ہے کہ فسطا ئی طاقتوںنے عام لوگوں کے سامنے ہندوستانی مسلمانوں کو ہی اکھنڈ بھارت یا بھارت ماتا کے وبھاجن کا اصل مجرم بنا کر پیش کیا ہے۔ اور اس نام نہاد جرم کی پاداش میں ہر ظلم اور جبر کو روا رکھنا ہی ’’دیش بھکتی ‘‘ کا تقاضہ قرار پایا ہے۔ جن لوگوں نے ہیڈ گیوار،گولوالکر اور ساورکر کے نظریات کا مطالعہ کیا ہے ، وہ اس بات سے واقف ہیں کہ دیش بھکتی کے نام پر یہ جو اقلیتوں اور خاص کر مسلمانوں کے خلاف جارحانہ روش اورہلّہ بول پالیسی اپنائی گئی ہے، اس کے لیے تقسیم ہند تو محض ایک بہانہ ہے۔ اگر یہ ’’حادثہ ‘‘نہ بھی ہوا ہوتا، تب بھی اس ملک کو اقلیتوں کے لیے جہنم بنانے کی سازش پر عمل ہونا ہی تھا۔
پیار کا موسم بیت چکا تھا بستی میں جب پہونچے ہم
لوگوں نے پھولوں کے بدلے تلواریں منگوالی تھیں
مولانا آزاد بھی ملزم : دنیا جانتی ہے کہ مولاناابوالکلام آزاد نے تقسیم ہند اور مسلمانوں کی ہجرت روکنے کی کیسی جان توڑ کوششیں کی تھیں۔ لیکن سنگھ پریوار والوں نے بڑی چالاکی سے انہیں بھی شک کے دائرہ میں لا کھڑا کیا ہے۔اس کاعملی تجربہ مجھے اس وقت ہوا جب بھٹکل فسادات کی تحقیقات کر رہے جگن ناتھ شیٹی کمیشن کے روبرو سنگھ پریوار کے وکلأ مجھ سے جرح کر رہے تھے۔ان میں سے ایک تیز و طرار وکیل نے مجھ سے تقسیم ہند اور تشکیل پاکستان کے تعلق سے سوال کیا تو میں نے کہا کہ وہ لوگ بے وقوف تھے جویہاں سے نکل گئے، یہاںہمیں اس کا عذاب بھگتناپڑ رہا ہے۔ تو فوراً اس نے دوسرا سوال داغا کہ ’’تو تم ہندوستان میں ہی رہ کر ہندوستان کا اسلامائزیشن کرناچاہتے ہو، جیسا کہ مولانا آزاد کا منصوبہ تھا!‘‘
یہی مکاری کام کر رہی ہے : اصل میںفسطائیت کی یہی مکاری کام کر رہی ہے۔ مسلمانوں کے خلاف انتہائی عیاری کے ساتھ ملک کے کونے کونے میں یہ تاثر پیدا کر دیا گیا ہے (عین صہیونی پالیسی کے مطابق)کہ مسلمان اس ملک کے سب سے بڑے دشمن ہیں اورروئے زمین پر ان سے بڑاخطرہ کوئی نہیں ہوسکتا۔ لہٰذا انہیں نیست و نابود کرنا ہی ہر دیش بھکت کا اصل مشن ہونا چاہیے۔اسی لیے یوں تو روزانہ ہی ملک کے کسی نہ کسی گوشہ میں مسلمانوں کو ’’پاکستان‘‘یا ’’قبرستان‘‘ بھیجنے کے لیے غیر مسلموں کو اکسایا جاتا ہے ۔ تازہ ترین مطالبہ امرتسر( پنجاب )سے پروین توگاڑیا کے حوالہ سے یہ آیاہے کہ مسلمانوں کو ہر سطح پر نوکریوں سے محروم رکھا جائے اور انہیں اس حد تک فاقہ کشی پرمجبور کیا جائے کہ ان کے لیے ’’پاکستان‘‘ چلے جانے کے سوا کوئی چارہ نہ بچے۔
نصف صدی کے بعد بھی... : اس قسم کے زہریلے پروپگنڈہ کے لیے اگرایک طرف ملکی سطح پرپورا پورا بندوبست ہے تودوسری جانب ہر ریاست اور ہر صوبہ میں ذہنوں کو مسموم کرنے کا ٹھیکہ مختلف شخصیات ، مختلف پارٹیوں اور سنگھٹنوں نے لے رکھا ہے۔مگر اس حقیقت سے ہر کوئی واقف ہے کہ چاہے ان کے نام اور بینرس الگ الگ ہوں ، لیکن یہ سب کے سب ایک ہی تھیلی کے چٹے بٹے ہیں۔
آزادی کے پچاس ساٹھ سال بعد بھی کہا نہیں جا سکتا کہ مسلم ملت اور اس کی قیادت لاکھ کوششوں کے باوجودغیر مسلم ذہنوں کوخاطر خواہ انداز میں مسلمانوں کے حق میںبدلنے میں کامیاب ہو سکی ہے۔ بلکہ ایسا لگتا ہے کہ فسطائیت کے علمبرداروں نے جس آزادی اورسینہ زوری کے ساتھ ماحول میں زہر گھولا ہے اس کی وجہ سے حالات دن بدن ہماری دسترس سے باہر ہی ہوتے جارہے ہیں۔ ساتھ ہی ساتھ مخالفت اور مخاصمت کے میدان میں روز بروز تازہ دم گروہوں کا اضافہ ہوتا جارہا ہے۔جو قانون اور دستور کوعلی الاعلان اپنی جوتی کی نوک پررکھنے اور ہر سطح پر مسلمانوں کا گلاگھونٹنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں
نیا خون ...نیا رجحان : ما بعد آزادی تمام صدمات کو جھیلنے کے بعدادھر پچھلی چند دہائیوں سے مسلم نوجوان طبقہ جینے کے با وقار راستے اپنانے میں کامیاب ہو نے لگا ہے۔ بزنس، تعلیم اور اعلیٰ سرکاری عہدوں کی دوڑ میں وہ اپنا وجود ثابت کرنے اور اپنی صلاحیتوں کو منوانے میں کامیاب ہو رہا ہے۔دیگر میدانوں کے علاو ہ مسلم نوجوانوں کی پیشۂ وکالت سے وابستگی ، قانونی مہارت اور ملّی مسائل میں ان کی د لچسپی ایک نئے انقلاب کا اشارہ کر رہی ہے۔ مسلم نوجوانوں کے اس نئے رجحان سے فسطائی طاقتوں کے سینوں پر سانپ نہ لوٹنے لگیں ، ایسا ممکن ہی نہیں تھا۔ اسی کا نتیجہ ہے کہ سرکاری ایجنسیاں دہشت گردی کے نام پر اعلیٰ تعلیم یافتہ مسلم نوجوانوں کا کئیریر تباہ کرنے اور ان کی زندگی کو عملاً جہنم زار بنانے کے درپے ہو گئی ہیں۔ اسی کے ساتھ نام نہاد دیش بھکتی کے نام پر ان نوجوانوں کو عدل و انصاف سے بھی محروم رکھنے کے لیے ہر قسم کے ہتھکنڈے اپنائے جارہے ہیں۔اور وہاںبھی ان کی جڑیں کاٹنے کی نہ صرف نئی سازشیں رچی جارہی ہیں، بلکہ ڈنکے کی چوٹ پر اس پر عمل بھی ہو رہا ہے۔
ستم بالائے ستم : پیشۂ وکالت سے وابستہ غیرمسلم وکلأ نے اپنے پیشہ ورانہ تقاضوں کے بر خلاف دہشت گردی کے الزام میں پھنسے (ریاستی دہشت گردی کے شکار)مسلم نوجوانوں کی پیروی کرنے سے مکمل اجتناب(بائیکاٹ) کی پالیسی اپنائی ۔پھر دھیرے دھیرے کچھ ایسا ماحول بنایا کہ ایسے مسلمان ملزموں کی پیروی کرنا بھی دہشت گردی کو بڑھاوا دینے کے مترادف قرار پایا۔دیکھتے ہی دیکھتے وہ وقت بھی آیا کہ عدل و انصاف کے انہی محافظوں نے عدالتی احاطوں میں ان ملزموں اور ان کے وکیلوں کے ساتھ کھلے عام دست درازی اور مار پیٹ کی وارداتیں شروع کر دیں۔یو پی ، مہاراشٹرا اور کرناٹک وغیرہ میںایسے مقدمات کی پیروی کرنے والے وکلاء کے گھروں اور دفتروں پر حملے کئے جانے لگے۔اور وکلاء پر خوف و ہراس طاری کرنے کی منصوبہ بند کوششیں تیز ہوگئیں۔ستم با لائے ستم یہ بھی ہوا کہ پہلے ہی سے نفسیاتی طور پر مرعوب اور خوف زدہ مسلم وکلاء اب خود بھی دہشت زدہ نظر آنے لگے۔ اورجوذرا سی ملّی حمیت کے پس منظر میں کچھ کر گذرنے کا جذبہ رکھتے تھے ان کے بھی ہاتھ پیر پھولنے لگے۔
اور جو نہیں مانے : اس کھلی دہشت گردی کے باوجود جو نہیں مانے انہیں انڈر ورلڈ مافیا کے تعاون سے خودعدل و انصاف کی رکھوالی ایجنسیوں نے ’’ ختم ‘‘کرنے کا منصوبہ بنا ڈالا۔ قید و بند کی صعوبتیں جھیل رہے ملت کے نوجوانوں کو ہر حال میں ان کے دستوری اور قانونی حقوق دلانے کا جن وکلاء نے فیصلہ کیا ان کے ساتھ دست درازی سے بڑھ کربات جان لیوا حملوں تک جا پہنچی ۔اور جن نوجوان وکلاء نے غیر معمولی عزم و حوصلہ کے ساتھ اپنی جان کی بھی پرواہ کئے بغیر سرکاری ایجنسیوںاور فسطائیت کے سامنے ڈٹے رہنے کی جرأت دکھائی اب ان کو بغیر کسی ہچکچاہٹ کے مٹا دینے کا سلسلہ شروع کر دیا گیا ہے۔ اس طرح کی الیمینیشن مہم کا پہلا شکار ساحلی کرناٹک میں مسلم نوجوانوں اور انسانی حقوق کے لیے لڑنے والا پرعزم اور حوصلہ مند جواں سال وکیل نوشاد قاسمجی تھا۔ جس کے قتل میںحالانکہ ہر طرف سے پولیس ہی پر شک ظاہر کیا گیا تھا، مگراس قتل کو مافیا ڈان روی پجاری کے کھاتے میں ڈالتے ہوئے اس کے چند غنڈوں کو گرفتار کرنے کے بعد پولیس اپنا دامن بچانے میں کامیاب ہوگئی۔
زخم جتنے بھی تھے سب منسوب قاتل سے ہوئے
تیرے ہاتھوں کے نشاں اے چارہ گر دیکھے گا کون
اوراب شاہد اعظمی : اب اس سلسلہ کی دوسری کڑی ممبئی کے جواں سال ایڈوکیٹ شاہد اعظمی کے قتل کی صورت میں سامنے آئی ہے۔ جس بے رحمی سے پوری منصوبہ بندی کے ساتھ نوشاد قاسمجی کو اس کے اپنے گھر کے احاطہ میں قتل کیاگیا تھا، خبر ہے کہ با لکل اسی طرح شاہد اعظمی کو بھی شہید کیا گیا۔اور یہ قتل بھی مافیا ڈان روی پجاری کے نام کر دیا گیا۔ شاہد اعظمی کے قتل کی خبر جیسے ہی میں نے ٹی وی پر دیکھی بیک وقت کئی ایک نقشے ذہن میں ابھر نے لگے اور آنکھوں میں نمی اترآئی۔ ایک تو اپنے قریبی دوست شہید نوشاد قاسمجی کی یادیں پھر سے تازہ ہوگئیں۔اس کی متحرک شخصیت، اس کی قانونی مہارت، اس کی اپنے پیشہ سے لگن اور سب سے بڑھ کر ملت کو قانونی محاذ پریتیمی کے احساس سے نجات دلانے کی اپنی بساط بھر کوشش ایسی چیز یں ہیں جنہیں کبھی بھلایا نہیں جاسکتا۔دوسری طرف شاہد اعظمی کی پر کشش ،پر عزم اور فطری ذہانت سے بھر پور شخصیت جس کا اس طرح قتل کیا جانا درد مند دلوں کو لہو رلانے کے لیے کافی تھا۔حالانکہ اس جواں سال ایڈوکیٹ سے میری ملاقات نصف گھنٹے سے زیادہ کی نہیں رہی ہے، لیکن اس کی شخصیت نے مجھے اس قدر متاثر کیا کہ اسے بھلانا ناممکن سا ہو گیا۔
شاہد بھی جانتا تھا : شاہداعظمی نہایت کم عمری میںجن دشوار کن حالات سے گزر ا تھا اورابتلا و آزمائش کے مرحلوں نے اس کے دل و دماغ پر جو اثر ڈالا تھا اس کا منفی پہلو جو بھی رہا ہو، لیکن مثبت نتیجہ یہ نکلا تھا کہ اس نے قانونی محاذ پر اپنے جیسے سیکڑوںملزموں کی بے گناہی ثابت کرنے کا بیڑہ اٹھا لیا تھا۔کمال تو یہ ہے کہ اسے اپنے اس مشن میں درپیش خطرات کا پورا احساس تھا۔میں نے ایک اہم کیس کے سلسلے میں تین سال قبل ممبئی کرلا میںواقع اس کے دفتر میںاس سے ملاقات کی تھی۔ اس کیس کی سنگینی اور پیچیدگی کے تعلق سے کافی اہم نکات پرباہمی غور وخوض اورپھر رہنمائی کے بعد اس نے مجھے الوداع کہتے ہوئے بڑے درد کے ساتھ کہا تھاکہ ۔’’اپنے نوجوانوں کو اینٹی ٹیرورسٹ اسکواڈ(ATS )کے شکنجے میں پھنسنے سے بچائیں۔ اورآپ میرے لیے بھی دعا کرتے رہیں۔‘‘اس نے جو آخری فقرہ کہا تھا ، اس میں تمام تر خود اعتمادی کے باوجود جو ہلکی سی کپکپا ہٹ میرے دل نے محسوس کی تھی، اس پس منظر میں کہا جا سکتا ہے کہ نوشاد قاسمجی کی طر ح شاہد اعظمی کو بھی اس راہ میں اپنی ہلاکت کا اندازہ نہیں بلکہ یقین سا ہو چکا تھا۔ اور جب ٹی وی پر شاہد کی شہادت کی خبرنشر ہونے لگی تو مجھ سے کہا ہو ا اس کا وہ جملہ میرے دماغ پر ہتھوڑے برسانے لگا۔
ہائے وہ فرطِ یاس کا عالم ہائے وہ رنگِ شدت غم
جب نا ممکن ہو جاتا ہے دو آنسو ٹپکانا بھی
اب آگے کیا؟ : اس سنگین صورتحال میں ملت کے سامنے یقینا یہ سوال ایک لمحۂ فکریہ بن کر ابھر آیا ہے کہ اب آگے کیا؟ ایک تو ہماراقانونی محاذ یونہی بے جان سا تھا۔ اوپر سے فسطائیت کا یہ نیاہولناک رجحان اچھے اچھوں کا پتہ پانی کرنے کے لیے کافی ہے ۔حالانکہ ریاستی اور صوبائی سطحوں پر بعض جگہ مسلم ایڈوکیٹ فورمس اپنا وجود رکھتے بھی ہیںلیکن ان سے وابستہ نیا خون ملی کاز کے لیے کچھ کر گزرنے کا اگر تہیہ کر بھی لیتا ہے تو قاتلوں کے ٹولے ان کا وجود مٹانے کے درپے ہو جاتے ہیں۔ نہیں معلوم اب یہ درندے کس ریاست میں کس ایڈوکیٹ کے خون سے اپنی پیاس بجھائیں گے۔ مگر سب سے بڑاسوال تو ان بے قصور اور معصوم مسلم نوجوانوں کاہے جو برسوں سے جیلوں میں بند ناکردہ گناہوں کی سزا بھگت رہے ہیں۔اور ایسا لگتا ہے کہ مستقبل میں ان کی تعدا میں مسلسل اضافہ ہوتا رہے گا۔ دیکھنا یہ ہے کہ ان کو اس جہنم سے نجات دلانے کی قیمت اپنی جان دے کرچکانے کے لیے کون آگے بڑھتا ہے۔اورشہیدان ملت ایڈو کیٹ نوشاد قاسمجی اور شاہد اعظمی کے مشن کو آگے بڑھانے کا بیڑہ کون اٹھاتا ہے!
کتنے رہزن و قاتل اقتدار تک پہنچے
کتنے بے خطا ملزم طوق و دار تک پہنچے
حشرِ دارو گیر اٹّھا اب یہ آزمائش ہے
کون سر بکف غازی کوئے یار تک پہنچے
. |