پاسباں مل گئے کعبے کو۔ ۔ ۔
’’مسلمانوں اور عیسائیوں کے لئے ذات برادری کی بنیاد پر ریزرویشن کا تصور قرآن اور بائبل کی تعلیمات کے مغائر ہے۔ پارلیمنٹ یا عدلیہ کو ان مذاہب کی بنیادی تعلیمات میں کسی قسم کی تبدیلی کا اختیار نہیں ہے۔ یہ دونوں مذاہب ذات پات کو تسلیم نہیں کرتے۔ رنگ ناتھ مشرا کمیشن عیسائیوں کے پوپ اور مسلمانوں کے علماء پر اپنی رائے مسلط نہیں کرسکتا۔ اگر مسلمانوں اور عیسائیوں کو ذات پات کی بنیاد پر ریزرویشن دیاگیا تو ان دونوں مذاہب کے اندر بھی اونچی نچلی ذاتوں کا نظام باقاعدہ طور پر رائج ہوجائے گا جس سے دونوں مذاہب کی بنیادی تعلیمات کی خلاف ورزی ہوگی۔ ۔ ۔ ‘‘ کیا کوئی تصور کرسکتا ہے کہ اسلام کے ایک اہم معاشرتی پہلو کی یہ وکالت بھارتیہ جنتا پارٹی کی جانب سے ہوئی ہے۔ (دی ہندو۰۲ فروری) پارٹی کے کسی لیڈر کایہ سرسری بیان ، فی البدیہ تبصرہ یا سوال کا بے سوچا سمجھا جواب نہیں بلکہ باقاعدہ قرراداد ہے جو اندور میں پارٹی کی قومی کونسل کے اجلاس میں ۹۱! فروری کو منظور کی گئی ہے۔ تناظر اس کا یہ ہے کہ پارٹی اپنی طے شدہ پالیسی کے تحت رنگ ناتھ مشرا کمیشن یا کسی بھی کمیشن یا کمیٹی کی سفارشات کی بنیادو ں پر مذہبی اقلیتوں کو کسی بھی قسم کی مراعات دینے کے خلاف ہے۔ مخالفت کے لئے مختلف بنیادیں تلاش کرتی ہے۔
لیکن یہ بنیاد بڑی دلچسپ ہے
لیکن اس بار جو بنیاد تلاش کی ہے، بڑی دلچسپ ہے۔ اگرچہ اس خوش گمانی کی کوئی گنجائش نہیں کہ بی جے پی نے یہ دلیل اسلامی معاشرے کی تائید و حمایت میں دی ہے یا وہ اسے پسندیدہ نظروں سے دیکھتی ہے۔ اس کامنشاء تو واضح ہے کہ مسلم شہریوں کو یہ معاشی فائدہ نہ پہنچنے پائے ، تاہم غیر شعوری طور پر پارٹی نے اسلامی معاشرے کے ایک پہلو کو خراج تحسین ہی پیش کردیا ہے۔ پھر یہ بات بھی ریکارڈ پر آگئی کہ آر ایس ایس کی یہ سیاسی جماعت اسلام اور قرآن کے بنیادی احکام میں کسی بھی سرکاری، پارلیمانی یا عدالتی مداخلت کے خلاف ہے۔ وہ سمجھتی ہے کہ کوئی بھی ادارہ مسلم علماء پر اپنی رائے مسلط نہیں کرسکتا۔ تو کیا امید کی جائے کہ جب کبھی مسلم پرسنل لا یا کسی بھی شرعی حکم میں عدلیہ کی مداخلت کا کوئی واقعہ پیش آئے گا تو یہ پارٹی مسلمانوں کے ساتھ کھڑی ہوگی؟پارٹی کے اس موقف سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ اس کے لیڈر اسلام اور قرآن کی کچھ تعلیمات کا علم رکھتے ہیں اور قرارداد میں یہ باتیں امر واقعہ کے طور پر کہی گئی ہیں پارٹی کا یہ خیال بھی سو فیصدی بجا ہے کہ اگر مسلمانوں کو ذات برادریوں میں منقسم کرکے ریزرویشن دیاگیا تو مسلم سوسائٹی کے اندر بھی ذات پات کا نظام فروغ پاجائے گا۔
قرارداد کا جائزہ لیجئے
ہاں یہ خیال درست ہے اور مسلمانوں کو بی جے پی کی بات کا برا نہیں ماننا چاہئے۔ البتہ اِس صورت واقعہ کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔ یہ پارٹی تو مسلم سماج کی مساوات سے ہمیشہ خوفزدہ رہی ہے اور اس بات کے لئے بھی کوشاں رہی ہے کہ کسی طرح مسلمانوں میں بھی ذات برادری کے تصور کو رائج کیا جائے تاکہ ہندو سماج کی ’’نچلی‘‘ جاتیاں اُس طرف نہ جانے پائیں۔ چنانچہ بعض ریاستوں میں مسلمانوں کی جانب سے ذات برادری کی بنیاد پرمراعات کے جو مطالبات اٹھتے رہے ہیں ، انہیں درپردہ بی جے پی کی پشت پناہی حاصل رہی ہے۔ ذات برادری اور چھوا چھوت پر بحث اور گفتگو کے دوران یہ جملہ اکثر سننے کو ملا ہے کہ ’’ذات برادری تو مسلمانوں میں بھی ہے (یعنی یہ برائی ہم ہی میں نہیں تمہارے اندر بھی ہے) ’’نچلی‘‘ جاتیوں کو شیڈول کاسٹ اور شیڈول ٹرائب قرار دے کر ریزرویشن دینے کا مقصد بھی یہی تھا کہ یہ طبقے ہندو سماجی نظام سے الگ نہ ہونے پائیں۔ اب پارٹی کی پالیسی میں اچانک یہ تبدیلی کیسے آگئی جو وہ ذات پات کی لعنت کو ہندو سماج تک ہی رکھناچاہتی ہے، شاید اس لئے کہ اگر مسلمانوں میں بھی یہ برائی درکرگئی تو ہندو سماج کی نچلی جاتیاں اُدھر بھاگیں گی۔ بہرکیف۔ مسلم قیادت کو بی جے پی کی اس دلچسپ قرارداد کا تجزیہ ضرور کرنا چاہئے۔ نیز ریزرویشن کے اپنے مطالبے میں محتاط بھی رہنا چاہئے 22-02-2010
|