بلغراد سے ایک انوکھی آواز ’’میڈیاکچھ ملکو ں پردہشت گردی کی حوصلہ افزائی کرنے کاالزام عائد کرتا ہے۔ یہ حقیقت کسی سے پوشیدہ نہیں کہ یہ ممالک شدید قسم کے سیاسی اور معاشی بحران سے دوچار ہیں، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ یہ ممالک دنیا کے لئے خطرہ ہیں۔ میڈیا میں اس طرح کی سرخیاں کہ ’’پاکستان دہشت گردی کی پناہ گاہ بن گیا ہے‘‘ یا ’’ایران دہشت گردی کو ہوا دینے والا سب سے سرگرم ملک‘‘۔ وغیرہ ، انتہائی توہین آمیز اور غیر منصفانہ ہیں۔ اس لئے کہ یہ سرخیاں ان ملکوں اور ان کے شہریوں کی تصویر دہشت گردوںکے طور پر پیش کرتی ہیں۔ اگر اعداد وشمار دیکھے جائیں تو پاکستان اور ایران دہشت گردی کے شکار ملکوں میں نمایاں نظر آتے ہیں۔ پھریہ کیسے ہوسکتا ہے کہ جو ممالک دہشت گردی کے سب سے زیادہ شکار ہیں، اُنہی پر دہشت گردی کی حمایت اورحفاظت کاالزام عائد کیا جائے‘‘۔ یہ مراسلہ ہے بلغراد کے شہری آئیوان سائمک کا اور انگریز ی روزنامے دی ہندو (۱۹ فروری) میں شائع ہوا ہے۔ اس سے ایک دن قبل (۱۸فروری کو) مشہور دانشور وی آر کرشن آئیر نے اپنے مضمون ہندوستان اور پاکستان کے درمیان خوشگوار تعلقات کی ضرورت پر زور دیا تھا۔ حب الوطنی کا معیار یہ آواز انوکھی اس لئے ہے کہ جب سے دہشت گردی کا شور بلند ہوا ہے ، کچھ منتخب ملکوں کو ہدف بناکر ایسی ایسی مضحکہ خیز باتیں کہی جارہی ہیں کہ جن پر معمولی عقل رکھنے والا بھی یقین نہیں کرسکتا اگر وہ انصاف کے ساتھ غور کرے۔اس مہم کو حب الوطنی کا معیار بنا دیا گیا ہے۔ کیا اَن پڑھ دیہاتی اور کیا شہروں کے بڑے بڑے تعلیم یافتہ افراد، سب ایک ہی زبان بول رہے ہیں۔ ایک لائن دے دی گئی ہے جس سے ہٹ کر سوچنا یا بولنا ملک دشمنی کے ذیل میں آسکتا ہے۔ دہشت گردی کے شکار ملکوں کو دہشت گرد ثابت کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ ہمیں ایران، پاکستان یا کسی مسلم ملک سے کوئی غیر ضروری دلچسپی نہیں ہے۔اگر وہ دہشت گردی کو ہوا دے رہے ہیں تو ان کے خلاف ضرور کارروائی کی جائے۔ فوج کشی کرکے انہیں تباہ کردیا جائے۔ فکر اس بات کی ہے کہ بعض مسلم مملکتوں کو نشانہ بناکر اسلام اور اس کی امت کے خلاف کردار کشی کی مہم چلائی جارہی ہے اور یہ راستہ دکھلایا ہے امریکہ نے۔ ستمبر ۲۰۰۱ء میں اپنی ہی ایجنسیوں کے ذریعے اپنے تجارتی ٹاوروں پر حملے کراکے اس نے پوری دنیا کو اِس عقیدے کے خلاف کھڑا کرنے کا بیڑا اٹھایا ہے۔ اور دنیا اس کے جال میں آسانی کے ساتھ پھنستی جارہی ہے۔ سوال ذہنیت کا ہے لیکن مراسلہ نگار کا یہ سوال کہ جو ممالک خود دہشت گردی کی مار جھیل رہے ہیں ، وہ دہشت گردی کی سرپرستی کیسے کرسکتے ہیں، سادہ لوحی پر مبنی ہے۔ جو دماغ یہ مہم چلا رہے ہیں ، خوب جانتے ہیں کہ حقیقت کیا ہے۔ اِسی طرح جسٹس آئیر کایہ مشورہ کہ ’’ہندوستان اور پاکستان، دونوں ملکوں کے لئے حب الوطنی کا اعلیٰ ترین عمل یہ ہے کہ تصادم کا راستہ ترک کرکے خوشگوار تعلقات استوار کریں‘‘۔ حالاتِ نو سے بے خبری کا مظہر ہے۔ اِس ملک کے اربابِ سیاست پاکستان کی حقیقت سے بخوبی واقف ہیں۔ ہندوستان کے ساتھ پاکستان کا مقابلہ کسی بھی شعبے میں نہیں۔ اس کی کوئی قوت وحیثیت نہیں۔ وہ پوری طرح امریکہ کی گرفت میں ہے۔ پاک افغان سرحد بالکل کھلی ہوئی ہے جہاں امریکی سی آئی اے اور اسرائیلی موساد کے ایجنٹ سرگرم ہیںاور دہشت گردی کی کارروائیاں کر وا رہے ہیں۔ وزیرستان پر امریکہ کا کنٹرول ہے۔اِن حقائق سے کسی اور کے مقابلے میں ہندوستانی ایجنسیاں زیادہ باخبر ہیں۔ اس کے باوجود اگر وہ مہم چلائی جارہی ہے جس کا رونا بلغراد کے مراسلہ نگار نے رویا ہے اور جس سے جسٹس آئیر فکرمند ہیں تو سوچنے کی بات یہ ہے کہ مہم کا اصل ہدف اور مقصد کیا ہے؟ سوال پالیسی کا نہیں، ذہنیت کا ہے ۔ لہٰذا ملک وانسانیت کے سچے خیرخواہوں کا خطاب ذہنیت سے ہونا چاہئے
10-03-2010 |