Print This Page
فلسطینی ریاست کا ٹوٹتا خواب
محمد ضیاء الحق ایڈیٹر راجستھان کرانیکل
اخباروافکار

 پچھلے دنوں اسرائیل نے اپنے قیام کی ۶۰ ویں سالگر ہ بڑے دھوم دھام سے منائی۔ دنیا بھر سے سیاسی لیڈر اسرائیل پہنچے اور سالگرہ کے جشن میں حصہ لیا۔ پورے اسرائیل میں یہودیوں نے خوب شادمانی کے ساتھ جشن منایا۔ اسرائیل کے اندر بسے فلسطینیوں میں یہ خوشی نہیں تھی کیونکہ فلسطینیوں کا ماننا ہے کہ جس طرح امریکہ وہاں کے مقامی باشندے ’’ریڈ انڈینس‘‘ کو بے دخل کرکے آباد ہو ا ہے یا آسٹریلیا وہاں کے مقامی باشندے ’’ایبوریجنس‘‘ کو بے دخل کر کے قائم ہوا ہے اسی طرح اسرائیل بھی فلسطینیوں کو بے دخل کر کے یورپ سے آئے یہودیوں کو بساکر قائم کیا گیا ہے۔

 پہلی جنگ عظیم کے اخیر میں فلسطین ترکی کے ہاتھ سے نکل کر برطانیہ کے قبضے میں آ گیا تھا۔ اس جنگ میں جرمنی کی شکست ہوئی تھی اور ترکی اس جنگ میں جرمنی کے ساتھ تھا۔ جلد ہی برطانیہ نے’’ بالفر ڈِکلیر یشن‘‘ کے ذریعہ یہ اعلان کیا کہ فلسطین کا ایک حصہ یہودیوں کو دے دیا جائیگا جس میں وہ رہیں گے۔ اس کے بعد سے یورپ سے یہودی آ کر یہاں بسنے لگے۔ دوسری جنگ عظیم کے زمانے میں ہٹلر کی نازی سرکار کے ہاتھوں جرمنی اور جرمن قبضہ والے دوسرے علاقوں میں لاکھوں یہودی مارے گئے۔ اس کے بعد تو یورپ سے فلسطین میں آکر رہائش اختیار کرنے والے یہودیوں کی تعداد میں اور زیادہ اضافہ ہوگیا۔

 ۱۹۴۸ میںاقوام متحدہ نے اعلان کردیا کہ فلسطین کا ایک حصہ یہودیوں اور دوسرا حصہ فلسطینیوں کو دیا جائے۔ عرب ممالک نے اس اعلان کی زبردست مخالفت کی پھر بھی دوسری جنگ عظیم کے فاتح طاقتوں( برطانیہ، فرانس، امریکہ اور روس) کی مدد سے یہ اعلان نامہ منظور کر لیا گیا۔چونکہ عرب ممالک کی مرضی کے خلاف فلسطین کا بٹوارہ ہوا تھا اسلئے پڑوسی عرب ملکوں نے  بڑھتے ہوئے اسرائیلی فوجوں کے خلاف مزاحمت کی۔ لیکن یورپ سے آئے اِن بہتر تربیت یافتہ اوربہتر تعلیم یافتہ یہودیوں کے سامنے وہ ٹک نہیں پائے اور ان کابھی وہی حشر ہوا جو کبھی امریکہ کے مقامی باشندوں کا یورپ سے آئے لوگوں کے سامنے ہوا، آسٹریلیا میں بھی ’’ایبوریجنس‘‘ کا یورپ سے آئے لوگوں کے سامنے ہوااور کچھ یہی حال لیٹن امریکہ اور جنوبی افریقہ کے مقامی باشندوں کا بھی ہوا۔

 اس کے بعد فلسطینیوں کے ساتھ قتل وغارت گری کا بازار گرم ہوا جس کی وجہ سے کوئی لاکھوں فلسطینی ملک چھوڑ کر آس پاس کے ملکوں میں مہاجرین کی زندگی گذارنے لگے۔ آج فلسطینی اسرائیل اور فلسطین کے علاوہ پوری دنیا میں جا بسے ہیں۔ کل ملاکر اِن کی تعداد ۹۰ لاکھ ہے جن میں ۲۰ لاکھ اسرائیل کے اندر ہیں۔ اقوام متحدہ اور بڑی طاقتوں نے فلسطین کے مسئلہ کا حل ایک ’’دوریاستی اصول‘‘ ( ٹو اسٹیٹ پرنسپُل) کے تحت کرنے کا بندوبست کیا تھا۔ شروع میں گاندھی جی، جواہر لال نہرو اور مولانا آزاد جیسے لوگوں نے مسئلہ کا حل فلسطین کو بانٹ کر دو ریاستی اصول (فلسطین اور اسرائیل) کے بجائے ایک فلسطین میں ہی دیکھا تھا جو جمہوریت اور سیکولر بنیادوں پر قائم ہوتا۔

 حالانکہ پچھلے کئی دہائیوں سے ’’ دو ریاستی‘‘ اصول کے تحت فلسطینی ریاست کو قائم کرنے کی کوششیں جاری تو رہی ہیں لیکن ابھی تک یہ خواب حقیقت میں نہیں بدل پایا ہے۔ فلسطینیوں کا اپنا ریاست نہ بن پانے کے پشت پر کئی وجوہات ہیں جن میں اسرائیل کے ذریعہ فلسطین کو بہت سارے حصوں میں بانٹ کر رکھنے اور ان حصوں کے درمیان اسرائیلی کالونیاں بسانا بھی ہے۔ اس کی وجہ سے فلسطینیوں کے لئے اپنے ہی ملک میں ایک جگہ سے دوسری جگہ آنا جانا بہت مشکل ہے۔ ایسے میں فلسطین کے اندر ہی درجنوں جگہوں پر اس کا اپنا تسلط نہیں بلکہ اسرائیلی تسلط ہے۔ بغیر تسلط کے کوئی قومی ریاست نہیں بن سکتی۔ اقوام متحدہ، امریکہ اور یوروپین یونین کے مخالفت کے باوجود یہ کالونیاں بنتی ہی جا رہی ہیں اور اس طرح زیادہ سے زیادہ زمین فلسطینیوں کے ہاتھ سے نکلتی جا رہی ہے۔

 اس کے علاوہ فلسطین کااپنی ریاست نہ بنا پانے میں ایک بڑی رکاوٹ مستقبل میںیروشلم کے درجہ پرتنازعہ بھی ہے۔ یہ شہر یہودی، عیسائی اور مسلمان تینوں مذاہب میں مقدس ہے۔ اس کے بارے میں فلسطینیوں اور اسرائیلیوں میں کو ئی اتفاق رائے نہیں بن پار ہی ہے۔ اس کے علاوہ۱۹۴۸ میں اپنی جڑوں سے اکھڑے ہوئے فلسطینی پھر سے اپنی زمین پر( جو آج اسرائیل میں ہے)  واپس آنے کی مانگ کر رہے ہیں۔اسرائیلی اور فلسطینی اسے’’ لوٹ آنے کا حق‘‘(رائٹ ٹو رِٹرن) کہتے ہیں۔ فلسطینیوں کا کہنا ہے کہ اگر یہودیوں کو اس مقدس زمین کو چھوڑنے کے ,۲۲۰۰ سالوں بعد بھی لوٹ آنے کا حق ہے تو ابھی ہمیںکچھ دہائی ہی گذرے ہیں۔ اسرائیل انہیں یہ حق دینے سے انکار کرتا ہے۔ اس کے علاوہ اسرائیل کے قائم ہونے کی وجہ سے فلسطینیوں کے ملک سے ہجرت کر جانے پر مجبور کئے جانے کے معاوضے کی مانگ کوبھی اسرائیل پوری طرح سے تسلیم نہیں کر رہا ہے۔

 پچھلے سات امریکی صدروں نے اپنے اپنے دور حکومت میں فلسطینی زمین پر اسرائیلی کالونیاں بنانے کی مخالفت کی ہے۔ صدر جارج ڈبلیو بُش اور ان کے والد کے دور حکومت میں بھی ایسی کارگزاریوں پر روک لگانے کی بات ہوئی لیکن کالونیاں بنانے کا کام لگاتار جاری ہے۔ پچھلے دنوں بھی بُش حکومت نے کالونی بنانے پر روک لگانے کی بات کہی لیکن اس کا کوئی اثر نہیں ہوا۔

 اسرائیل کی ۶۰ ویں سالگرہ پر جب صدر بُش اسرائیل آئے تو انہوں نے کہا کہ اگلے ساٹھ سالوں کے بعد جب اسرائیل ایسا جشن  اپنی ۱۲۰ ویں سالگرہ اگرمنائے گا تو اس کے پڑوس میں فلسطین نام کا ملک بھی ہوگا۔ اس بات سے عرب ملکوں میں ناامیدی ہے کیونکہ جناب بُش اب تک کہتے رہے ہیں کہ ۲۰۰۹ کے پہلے تک فلسطین نام کا ایک ملک بن جائے گا۔ ان کے بیان کا مطلب یہ لگایا جا رہا ہے کہ فلسطین کا خواب ایک سراب رہ گیا ہے۔۶۰ سالوں کے بعد بھی فلسطین کی ریاست بنے گی یا نہیں اس کا بھی حتمی طور پرکوئی جواب نہیں دیا جا رہا ہے ۔

 

The view points and opinion solely those of the author or source. akhbaroafkar.com is not responsible for the posted contents.
 


Copyright (c) akhbaroafkar.com 2008