Print This Page
دنیا چلانے والے ۶۰۰ لوگ
محمد ضیاء الحق ایڈیٹر راجستھان کرانیکل
اخباروافکار

دنیا چلانے والے 6000 لوگ


          گلوبلائزیشن کے نتیجے کے طور پر یہ کلاس دنیا پر حاوی ہوگیا ہے۔ اس کے ممبر آج کل ایک نئی کتاب ''سپر کلاس'' چرچا میں ہے، جس میں لگ بھگ چھ ہزار لوگ ہیں اور یہی لوگ طے کرتے ہیں کہ دنیا کیسے چلے گی۔
          مصنف ڈیوڈ راتھ کاف  کا اندازہ ہے ہر دس لاکھ میں ایک شخص ایسا ہوتا ہے، جو اس سپر کلاس کا ممبر ہوتا ہے۔ اس کلاس کی ممبر شپ کاغذوں میں نہیں ہوتی بلکہ زبانی ہوتی ہے۔
          اس کلاس کے زیادہ تر لوگ ایک دوسرے کو جانتے ہیں اور ایک دوسرے سے ملتے جلتے رہتے ہیں۔ ایسے لوگ ریاست، صنعت، مالیات، بڑے بڑے بینکوں، اعلی فوجی عہدیداروں، ادب اور سنیما وغیرہ سے متعلق ہوتے ہیں۔ دنیا کی پالیسی بنانے میں دولت اور فوج کا 'ہارڈپاور' کام کرتا ہے۔ نئی ثقافت کو ڈھالنے اور نئی رہن سہن کی بنیاد ڈالنے میں بڑے بڑے ادیبوں کے خیالات اور سنیما کے بڑے بڑے اداکاروں کا اثر کام کرتا ہے۔ ایسے اداکاروں سے کروڑوں لوگ متاثر ہوتے ہیں اور ایسے ادیبوں کی کتابیں لاکھوں کروڑوں لوگ پڑھتے ہیں اور ان سے متاثر ہوتے ہیں۔ اس کو 'سافٹ پاور' کہا گیا ہے۔
          اس کتاب کے مطابق کچھ مذہبی پیشوا بھی اس دائرے میں آتے ہیں، کیونکہ ان کا اثر بھی لاکھوں کروڑوں لوگوں پر ہوتا ہے۔ وہ بھی ان کی سوچ کو متاثر کرتے ہیں۔ لوگوں کے ذاتی فیصلوں سے لے کر عوامی معاملوں کے فیصلے بھی ان سے متاثر ہوکر کئے جاتے ہیں۔ ایسے لوگوں میں رومن کیتھولک پوپ اور ایران کے مذہبی پیشوا مرحوم آیت اللہ خمینی تھے اور آج کل ان کے جانشین اور حالیہ دور کے پیشوا آیت اللہ خامنہ ای کا نام خاص طور سے لیا گیا ہے۔
          ان 6000 لوگوں پر  مشتمل سپر کلاس کے ہاتھ میں اتنا کچھ ہے کہ ان کی خواہش کے بغیر بڑے بڑے جنگ بھی لڑے نہیں جاتے۔ ایسے جنگ جس میں لاکھوں زندگیاں چلی جاتی ہیں۔ کچھ معاملات میں تو صرف انہی لوگوں کے مفاد کی حفاظت کے لئے جنگ لڑے جاتے ہیں۔ ملکوں کے قانون بھی اصل میں انہی کے مفاد کی حفاظت کے لئے بنائے جاتے ہیں، حالانکہ پارلیمینٹ میں لوگ عام عوام کے ووٹوں سے جیت کر آتے ہیں۔
          ملکوں کے اندر کے معاملات پر گہرا اثر دالنے کے علاوہ اس کلاس کا بہت زیادہ اثر غیر ممالک کے سرکاروں اور ان کے نظام پر ہے۔ کئی ملٹی نیشنل کمپنیوں، کئی چیف ایکزیکیٹیو افسر ''سی آئی او'' بھی اس دائرے میں آتے ہیں۔ اس میں ہندوستان کے رتن ٹاٹا اور مکیش انبانی کا نام خاص طور سے لیا گیا ہے۔ یہ لوگ یوروپ اور امریکہ میں بھی وہاں کے طاقتور لوگوں کے ساتھ اٹھتے بیٹھتے ہیں۔ ان یوروپی اور امریکی لوگوں کا دبدبہ نہ صرف اپنی سرکاروں بلکہ دنیا بھر پر ہے۔ ایک پریشانی یہ ہے کہ ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن کے تحت اور عالم کاریں کی اصل قانونی پہنچ اپنے ملکوں کے اندر ہی ہے، حالانکہ ان کے مفاد دنیا بھر میں ہیں۔ اقوام متحدہ، ورلڈ بینک، اور انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ کی اب اتنی طاقت نہیں رہ گئی ہے کہ غیر ممالک کی حکومتوں پرآسانی سے حاوی ہو جائیں۔ یہ ایک مشکل بھی ان کے لئے ہے۔ حالانکہ کثیر قومی تجارتی کمپنیوں نے آزاد ملکوں کے اقتدار میں کچھ کمی کی ہے۔ یہ کمپنیاں انہی چھ ہزار لوگوں کے ہاتھون میں ہے۔ یہ لوگ اپنے اثر کو بڑھانے میں سرگرم ہیں۔

The view points and opinion solely those of the author or source. akhbaroafkar.com is not responsible for the posted contents.
 


Copyright (c) akhbaroafkar.com 2008