نینو ٹیکنالوجی کے خطرے پچھلے کچھ سالوں سے نینو ٹیکنالوجی نے جو دن دوگنی رات چوگنی ترقی کی ہے اس سے صاف لگنے لگا تھا کہ بیسویں صدی کے آخری سالوں میں انفارمیشن ٹیکنالوجی ''آئی ٹی'' نے جو بڑا انقلاب پیدا کیا تھا، اکیسویں صدی کے شروعاتی عشرے میں ٹیکنالوجی اس سے بڑا انقلاب لائے گا۔ ایسا انقلاب جو ہر صنعت اور زندگی کے ہر معاملے کو ایک نئی زمین پر لاکر کھڑا کرے گا۔ آئی ٹی نے واقعی سب کچھ بدل ڈالا۔ غور کرنے پر پتہ چلے گا کہ اب کچھ بچا ہی نہیں جس تک آئی ٹی کی رسائی نہ ہو۔ آج کی معیشتی مندی نے جہاں اور صنعتوں کی ترقی پر بریک لگایا ہے، وہیں آئی ٹی پر بھی اثر انداز ہوئی ہے۔ نینو کا حال یہ ہے کہ اس کی وجہ سے ہر ٹیکنالوجی بدل جائیگی۔ اس ٹیکنالوجی کا مستقبل بہت ہی روشن مانا جارہا ہے۔ اس کے باوجود یہ سوال بار بار اٹھنے لگا ہے کہ اس تیکنیک سے بنے پیداوار کتنے محفوظ ہیں۔ کئی خاص ریسرچوں اور مختلف ملکوں کی حکومتی رپورٹوں میں اس کے حفاظتی پہلو پر شک ظاہر کیا گیا ہے۔ آئی ٹی کی ہندوستان میں تیزی سے ترقی کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ یہ صنعت حکومتی اختیارات اور حکومتی بابوؤں کی اڑنگے بازی سے محفوظ تھی۔ لائسنس پرمٹ کو ٹاراج کا ناپاک سایہ اس پر نہیں پڑنے دیا گیا تھا۔ حکومتی اہلکاروں کی رشوت خوری اور اڑچن ڈالنے کی عادت نے اس کی راہ نہیں روکی۔ آئی ٹی کی طرح نینو بھی دنیا بھر میں حکومتی اختیارات سے دور رہی۔ لیکن اب اس پر کچھ قوانین لاگو کرنے کی بات چل رہی ہے، کیونکہ اس کی وجہ سے لوگوں کے صحت اور ماحول کو بھاری نقصان پہونچ سکتا ہے۔ نینو ''رامیٹریل'' 'کچامال' اور اصل وہ ساری چیزی ہیں جو جاندار اور بے جان کے پیدائش میں خاص ''بلڈنگ بلاگ'' یا مکان میں استعمال ہونے والی اینٹ کی حیثیت رکھتی ہیں۔ نینو میں مادہ کا استعمال بہت ہی چھوٹی سطح پر ہوتا ہے۔ ایک نینو میٹر ایک میٹر کا اربواں حصہ ہوتا ہے، یعنی ہائیڈروجن کے دس ایٹم ایک کے بعد ایک جوڑیں تو وہ ایک نینو میٹر ہوگا۔ ایک ڈی این اے مالیکویل ڈھائی نینو میڑ ہوتا ہے۔ خون کا ایک خلیہ 5000 نینو میٹر کا ہوتا ہے اور انسان کے ایک اکیلے بال کی موٹائی 80000 نینو میٹر ہوتی ہے۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ نینو انجینئرنگ میں کس طرح انتہائی چھوٹی سطح پر کام ہوتا ہے۔ نینو میں مادہ کا انتہائی چھوٹا سائز تو ہوتا ہی ہے اس کے صفات بھی بدل جاتے ہیں۔ تابنے کو نینو کے درجہ پر لانے پر وہ اتنا لچیلا ہوجاتا ہے کہ کمرے کی حرارت پر ہی اسے کھینچ کر عام تانبے کے مقابلے میں پچاس گنا لمبا تار بناسکتے ہیں۔ نینو کے درجے پر سیدھی سادی بے ضرر چیزیں بھی بہت زہلی ہوسکتی ہیں۔ اس کے ذریعے جاندار خلیوں اور دوسرے ماددوں کو بے جان ایٹموں کے ساتھ جوڑ کر کئی چیزیں بنائی جارہی ہیں۔ آج اس ٹیکنالوجی سے تیار کئے گئے سامان بازار میں آنے لگے ہیں۔ چائے، کافی اور کھانے پینے کے چیزوں کے گرنے سے پڑنے والے نشان نہیں قبول کرنے والے کپڑے اور دوا سے لے سنگار 'فیشن' کی چیزیں تک بننے لگی ہیں۔ ایسا خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ اس طرح سے بنی دوا یا کریم جسم کے کچھ خلیوں میں گھس کر انہیں تہس نہس کرسکتے ہیں، ڈی این اے کو نقصان پہنچا سکتے ہیں یا ''بلڈ برین بیرئر'' نام کی اس چیز کو ختم کرسکتے ہیں۔ دماغ اور خون کے درمیان بنائی گئی نازک سی اس سرحد کو پار کرنا ادویات کے لئے مشکل ہے۔ کھانے پینے اور ادویات میں اس ٹیکنالوجی کے استعمال ہونے پر جہاں خوش ہونے والے بہت ہیں، وہیں سائنسدانوں اور ماحولیات کا خیال کرنے والوں کو فکر ہورہی ہے۔
|