Print This Page
مفاہمت کے نام پر بے (۴)۔
سلیم منصور خالد
اخباروافکار

مفاہمت کے نام پر(۴) بے نظیر بھٹو کی کتاب کے مندرجات پر ایک نظر

      ایک اور شرمناک الزامی افسانے کو ان الفاظ میں پڑھیے

      مولانا مودودی نے قائد اعظم کو کافر قرار دیا تھا، مگر ہندستان کے مسلمانوں نے مودودی کو مسترد کردیا اور ان کے بجاے محمد علی جناح، اور مذہب و سیاست کے متعلق ان کے زیادہ سیکولر نقطۂ نظر کی حمایت کی۔ ص 68 ۔ 69

      کتاب میں بیان کردہ یہ ایک ایسا اذیت ناک بہتان ہے کہ جس کی تائید میں کوئی فرد ایک سطر بھی پیش نہیں کرسکتا۔ ماسوا اس اخلاق باختہ مہم کے ایندھن کے، جسے خود ہی اکٹھا کرکے وقفے وقفے سے سلگایا جاتا ہے۔ قائد اعظم تو ایک طرف، مولانا مودودی نے زندگی بھر کسی ایک فرد پر بھی کفر کا فتوی صادر نہیں کیا، بلکہ کفر سازی کے کلچر کی بھرپور مخالفت کی۔ یہ کام احرار کے لیڈر مظہر علی اظہر ایڈووکیٹ نے کیا تھا، اور جو مسلک کے اعتبار سے شیعہ اور ایک شعلہ نوا مقرر تھے۔ لیکن کچھ گروہوں نے کمال بددیانتی سے اور وہ بھی پاکستان بننے کے دس برس بعد، مظہر علی کے الفاظ مولانا مودودی سے منسوب کرکے وقفے وقفے سے دہرانا شروع کر دیے۔ مولانا مودودی کے ساتھ اس بدترین زیادتی کا ارتکاب کرنے والے خود کو روشن خیال اور معروضیت کا علم بردار قرار دیتے ہیں، جب کہ دوسری جانب خود قائد اعظم کو کفر کی گالی دینے کا بھی گاہے گاہے ارتکاب کرتے ہیں۔ ریکارڈ کو درست رکھنے کے لیے جسٹس محمد منیر اور  جسٹس ایم آر کیانی پر مشتمل انکوائری کمیٹی رپورٹ سنہ 1953 انگریزی میں صفحہ نمبر گیارہ دیکھیے:

      اک کافرہ کے واسطے اسلام کو چھوڑا

      یہ قائداعظم ہے کہ ، ہے۔۔

      یہ شعر مولانا مظہر علی اظہر سے منسوب ہے جو تنظیم احرار میں ایک ممتاز شخصیت ہیں۔ انھوں نے ہمارے سامنے نہایت ڈھٹائی سے یہ اظہار کیا کہ قائد اعظم کے متعلق وہ اب تک اسی خیال پر قائم ہیں۔ انکوائری کمیٹی رپورٹ، اُردو، ص 11

      مولانا مودودی پر یہ بہتان لگانے کے بعد مصنفہ لکھتی ہیں:

      مولانا مودودی نے میرے والد بھٹوصاحب کی سیاست کو انتہا پسندوں کے ایجنڈے سے ہم آہنگ نہ پاکر سنہ 1970 میں انھیں بھی کافر قرار دے دیا۔ ص 69

      اب یہ مصنفہ کے ساتھیوں پر لازم ہے کہ وہ مولانا مودودی کی تحریروں سے کوئی ایک سطر بھی ایسی نکال کر پیش کریں جس میں انھوں نے مسٹر بھٹو کو کافر قرار دیا ہو۔ عجیب بات ہے کہ مفاہمت کے نام پر لکھی جانے والی اس کتاب میں عمومی اور سماجی سطح پر رواداری ہی کو تہس نہس کرنے کی بنیاد ڈالی جارہی ہے۔ دوسری طرف مارچ سنہ 1969 میں یہ بھٹو صاحب ہی تھے، جنھوں نے عبد المجید بھاشانی کے ساتھ مل کر انتہا پسندی،گھیراؤ، جلاؤ اور توڑ پھوڑ کی مہم چلاکر پاکستان تحریک جمہوریت اور جمہوری مجلس عمل‘ کی قومی جمہوری تحریک کو پٹڑی سے اتارا، اور جنرل آغا یحیی خاں کے مارشل لا کا راستہ صاف کیا تھا۔ تب مولانا مودودی قومی قیادت کے ساتھ مل کر آئینی جدوجہد کر رہے تھے۔ ایوب خان کے ساتھ گول میز کانفرنس کامیاب بھی ہوگئی تھی کہ آئینی ترامیم کے ذریعے انتقال اقتدار اور عام انتخاب ہو جاتا، مگر انتہا پسندوں کی سربراہی کرتے ہوئے بھٹو صاحب اور بھاشانی صاحب نے اس پرامن حل کو ناکام ہی نہیں بنایا، بلکہ جنرل آغا یحیی خاں کے مارشل لا کا سب سے پہلے خیر مقدم بھی کیا۔ بالکل ویسا ہی خیر مقدم کیا جس طرح کہ خود بے نظیر بھٹو نے 12 اکتوبر سنہ 1999 کو نواز شریف کی حکومت کی برطرفی اور جنرل مشرف کی آمد کا خیر مقدم کیا تھا۔ مصنفہ نے اگلی سطور میں یہ بھی لکھ دیا ہے:

      سنہ 1988 میں جب میں نے وزیر اعظم کا انتخاب لڑا تو مودودی کی جماعت نے مجھے بھی کافر قرار دے دیا، بالکل ویسے جس طرح کہ انھوں نے مجھ سے پہلے میرے والد کو قرار دیا تھا۔ ص 69

      سنہ 1988 تو ابھی کل کی بات ہے۔ جماعت اسلامی کے کسی لیڈر، جماعت کی کسی قرارداد اور جماعت کے کسی اخبار سے اس نوعیت کی بات پیش نہیں کی جاسکتی تو پھر سوال یہ ہے کہ مصنفہ نے اس کتاب میں کیوں کافر، کافر کی تکرار کی ہے؟ در اصل مغرب کی جنگ جو اور متعصب قیادت کے سامنے موجود نظریاتی چیلنج کو ایک خوف ناک ثبوت بنا کر پیش کرنا مطلوب ہے۔ آگے بڑھیں:

      مودودی نے فاطمہ جناح کی حمایت کی، جو سنہ 1960 کے عشرے میں صدر پاکستان کے عہدے کی خاتون امیدوار تھیں لیکن بعد ازاں میرے وزیر اعظم بننے کے خلاف ان کا مخالفانہ انکشاف حق مذہبی سے زیادہ سیاسی تھا۔ ص 69

      سنہ 1965 میں قائد اعظم کی ہمشیرہ فاطمہ جناح نے صدارتی انتخاب میں ایوب خاں کو چیلنج کیا۔ اگرچہ انھیں شکست ہوئی، لیکن انھوں نے ایوب اقتدار کی کمزوری کو واضح کر دیا۔ میرے والد، فاطمہ جناح کے قریبی حلقے میں شامل تھے۔ ص 171 ۔ 172

      یہ بھی ایک ہوش ربا داستان ہے۔ مصنفہ نے یہاں پر وہ سارا قصہ ہی دھندلا دیا ہے کہ جس میں ان کے والد گرامی بھٹو صاحب، آمر مطلق جنرل ایوب خاں کی حکمران پارٹی کنونشن مسلم لیگ کے جنرل سیکرٹری تھے، اور انھوں نے صدارتی امیدوار فاطمہ جناح کو شکست دینے اور انتخاب کو اغوا کرنے کا کارنامہ انجام دیا تھا۔ یہ بھی عجب تر بات ہے کہ قریبی حلقے میں شامل بھٹو صاحب انھی فاطمہ جناح کو شکست دلوانے اور نتائج کو ترقی پسند بنانے میں پیش پیش تھے۔ انھی دھاندلی زدہ انتخابات نے مشرقی پاکستان کے عوام کو پاکستان کے فوجی حکمرانوں اور ان کے جاگیردار رفیقوں کی آمریت سے بے زار اور وفاق پاکستان سے مایوس کر دیا تھا۔ اسی نوعیت کی جمہوری روایت کی وارث لکھتی ہیں:

      جب جنرل ضیا کی آمریت، حزب اختلاف کو کچل رہی تھی، مودودی کی جماعت کے قائدین ضیا کی کابینہ کے ارکان تھے۔ ص 70

      جماعت اسلامی کبھی خود جنرل ضیا حکومت کا حصہ نہیں بنی، بلکہ یہ پاکستان قومی اتحاد کی چوبیس رکنی وزارت تھی، ان میں چار وزرا کا تعلق جماعت سے تھا۔ جنرل ضیاء الحق نے عام انتخابات کے انعقاد، سول اقتدار کی جانب بڑھنے کی غرض سے پاکستان قومی اتحاد کی قیادت سے تعاون کے لیے کہا تھا۔ تب اس وزارت میں مسلم لیگ، پاکستان جمہوری پارٹی، جماعت اسلامی اور جمعیت علماے اسلام کے نمایندے شامل تھے۔23 اگست سنہ 1978 سے 15 اپریل سنہ 1979، یعنی آٹھ ماہ کی مدت پر محیط اس وزارت نے جنرل ضیا سے عام انتخابات کے انعقاد کا اعلان کروایا اور اعلان کے اگلے ہفتے وزارتوں کو چھوڑ کر عوام میں آگئے جب کہ بھٹو صاحب اکتوبر سنہ 1958 سے جون سنہ 1966، یعنی سات سال اور آٹھ ماہ تک آمر مطلق ایوب خان کی کابینہ کا حصہ بنے رہے۔ اس اقتباس میں دیگر سیاسی جماعتوں کا ذکر چھوڑ کر صرف جماعت اسلامی کو تنقید کا ہدف بنانا سیاسی تعصب کے شاخسانے کے سوا اور کیا ہے؟

      جنرل محمد ضیاء الحق سے مصنفہ کی نفرت کئی حوالوں سے کتاب میں جھلکتی ہے، جس کا ایک  سبب یہ تھا کہ انھوں نے قتل کے ایک مقدمے میں، مرحومہ کے والد کو سپریم کورٹ کی جانب سے سنائی گئی سزاے موت کو معاف نہیں کیا تھا۔ مگر اس نفرت کا نتیجہ یہ نہیں ہونا چاہیے کہ ناکردہ کاموں کا بوجھ بھی اپنے ہدف کے پلڑے میں ڈال دیا جائے۔ اب یہ سطریں ملاحظہ ہوں:

      میرے والد یعنی بھٹو صاحب، جماعت اسلامی کے مولانا مودودی کے ساتھ جنرل ضیا کے رابطوں سے واقف نہ تھے۔ بعد ازاں جنرل ضیا نے مسلح افواج میں مولانا مودودی کی کتابوں کو پڑھنا لازمی قرار دے دیا۔ یوں پیشہ ورانہ افواج، مذہب کی سیاست کے حلقے میں داخل ہوگئیں۔ ص 178 جنرل ضیا نے جلد ہی فوج کا ماٹو بدل کر: ایمان، تقوی، جہاد فی سبیل اللہ کر دیا۔ ص 188  ضیاء الحق نے دعوی کیا کہ پاکستان، اسلام کے نام پر حاصل کیا گیا تھا۔ ص 188

      آخر کوئی تو خوبی ہوگی جنرل ضیاء الحق میں، کہ جس کی بنا پر آٹھ سینیر جرنیلوں پر ترجیح دیتے ہوئے، وزیر اعظم پاکستان جناب ذوالفقار علی بھٹو نے یکم مارچ سنہ 1974 کو انھیں چیف آف آرمی اسٹاف مقرر کیا تھا۔ یہ جانچ پرکھ تو انھی کی ذمہ داری تھی، اس میں مولانا مودودی کا کیا قصور ہے؟ پھر جولائی سنہ 1977 میں مارشل لا لگانے سے قبل جنرل محمد ضیاء الحق کی مولانا مودودی سے نہ کبھی کوئی ملاقات ہوئی اور نہ کسی قسم کا رابطہ ہی قائم ہوا۔ ظاہر ہے مولانا مودودی اسی معاشرے میں ایک اسلامی فکری تحریک کے قائد اور راہنما تھے۔ لوگ ان کے خیالات اور کتب سے ناواقف تو نہیں ہوسکتے تھے۔ مگر کسی کتاب کو پڑھنے کا لازمی نتیجہ یہ نہیں نکلتا کہ وہ فرد کسی گہرے رابطے کا حصہ بن گیا ہے۔

      جہاں تک مولانا مودودی کی کتب اور پاکستانی فوج کے مابین تعلق جوڑنے کا معاملہ ہے تو یہ کام سروسز بک کلب نے کیا ہے، جو افسروں کی ضرورت اور طلب کے مطابق دنیا بھر کے مصنفین کی کتابیں چھاپ کر، انھیں لاگت پر فراہم کرتا ہے۔ کیا دنیا بھر کے مسلم اور غیر مسلم مصنفین میں مولانا مودودی ہی ایسی شخصیت ہیں کہ ان کی کوئی کتاب سروسز بک کلب چھاپ دے، تو اس پر بلاول ہاؤس سے لے کر وہائٹ ہاؤس تک لرزہ طاری ہوجائے۔ آزادی اظہار کی باتیں کرتے ہوئے نہ تھکنے والے جدیدیت پسندوں میں اتنی وسعت نظر ہونی چاہیے کہ وہ اپنی نفرت کا نشان بننے والی شخصیت کی کتاب کو پڑھ سکیں، یا دوسرا جو اسے پڑھے، وہ اس کے حق مطالعہ کو تسلیم کریں۔ افسوس کہ یہ ساری روشن خیالی دوچار قدم چل کر تنگ نظری کی دلدل پہ ڈھیر ہوجاتی ہے۔

      پاکستانی فوج کے ماٹو کو بدل کر: ایمان، تقوی، جہاد فی سبیل اللہ کرنے کے سلسلے میں یاد رکھنا چاہیے کہ جنرل محمد ضیاء الحق سے قبل چیف آف آرمی اسٹاف جنرل ٹکا خاں جو بعد ازاں پیپلز پارٹی کے سیکرٹری جنرل بھی رہے، ایک پابند صوم و صلوٰۃ انسان تھے، نے فوجی چھاؤنیوں، میس اور پارٹیوں میں شراب پر پابندی عائد کر دی تھی، حالانکہ ملک میں شراب پر کوئی پابندی نہیں تھی۔ پھر یکم مارچ سنہ 1976 کو جنرل ٹکا خان کے بعد فوج کی قیادت سنبھالنے کے ایک ہی ماہ بعد جنرل محمد ضیاء الحق نے پاکستان بھر کی چھاؤنیوں میں ایمان، تقوی، جہاد فی سبیل اللہ کا ماٹو لکھوا دیا تھا۔ اس لیے جس طرح قادیانیوں کو اقلیت قرار دینا اور ایٹمی پروگرام کا آغاز کرنا، مئی سنہ 1977 میں جمعے کی چھٹی اور ملک میں شراب پر پابندی عائد کرنا جناب بھٹو ہی کے کارنامے ہیں، اسی طرح مسلح افواج کے ماٹو میں یہ مثبت تبدیلی بھی ذوالفقار علی بھٹو کے عہد حکومت کا مبارک قدم ہے، جو اس وقت مسلح افواج پاکستان کے سپریم کمانڈر تھے۔

      جہاں تک پاکستان اسلام کے لیے حاصل کیا گیا تھا، کے انکشاف کا تعلق جنرل ضیا سے جوڑنے کا معاملہ ہے، تو اس ضمن میں تحریک پاکستان میں اور قیام پاکستان کے بعد قائد اعظم مرحوم کی تقریروں کو دیکھ لیا جائے تو بہتر ہوگا۔ مثال کے طور پر یہاں صرف ایک تقریر کا اقتباس پیش ہے۔ یہ تقریر قائد اعظم نے 25 جنوری سنہ 1948 کو، کراچی بار ایسوسی ایشن کے سامنے کی تھی:

      میں ان لوگوں کے عزائم نہیں سمجھ سکا جو یہ پروپیگنڈا کررہے ہیں کہ پاکستان کے آئین کی بنیاد شریعت نہیں ہوگی۔ اسلامی اصولوں کا اطلاق آج بھی ہم پر اسی طرح ہوتا ہے، جس طرح 1300 صدیوں پہلے ہوتا تھا۔ اس سے کسی کو بھی خوف زدہ ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ یہ پروپیگنڈا کرنے والے حضرات شرارتی اور منافق ہیں۔ قائداعظم کی تقاریر، مرتبہ: ڈاکٹر رفیق افضل، ص 455

      پھر بانیان پاکستان کے ہاتھوں مارچ 1949 میں قرارداد مقاصد کی منظوری کا عمل بھی پرکھ لیا جائے، آم اپنی خوشبو اور مٹھاس کی خبر دے دیں گے، پیڑ گننے کی ضرورت نہ رہے گی۔

      اب دیکھیے، یہ 2 مارچ سنہ 1981 کی بات ہے۔ کراچی سے پشاور جاتے ہوئے پی آئی اے کی پرواز پی کے 324 بوئنگ 720 کو الذوالفقار نامی تنظیم نے اغوا کیا۔ الذوالفقار: پیپلز اسٹوڈنٹس فیڈریشن اور سوشلسٹ نوجوانوں پر مشتمل ایک دہشت گرد تنظیم تھی۔ جس کی سربراہی بے نظیر بھٹو کے بھائی مرتضی بھٹو اور شاہ نواز بھٹو کر رہے تھے۔ مسافر طیارہ اغوا کر کے کابل پہنچایا گیا، اس کے فضائی قزاق سلام اللہ ٹیپو نے بی بی سی لندن کو انٹرویو دیتے ہوئے اعلان کیا 26 فروری سنہ 1981 کو ہم ہی نے کراچی یونیورسٹی میں اسلامی جمعیت طلبہ کے ناظم حافظ اسلم کو گولی مار کر قتل کیا تھا۔  اس تنظیم کے خدوخال کو دیکھنا ہو تو وعدہ معاف گواہ راجا انور کی کتاب دہشت گرد شہزادہ دیکھ لی جائے۔ اب زیرتبصرہ کتاب کا  یہ حصہ پڑھیے:

      ضیا نے جماعت اسلامی کے غنڈوں کو پاکستانی یونیورسٹیوں میں ترقی پسند طالب علموں کو گولی سے اڑانے کے لیے استعمال کیا۔ جماعت اسلامی کو اپنے طلبہ ونگ یعنی جمعیت سے یونیورسٹی پروفیسروں اور انٹیلی جنس افسروں کی تقرری کرنے کی کھلی چھوٹ دے دی گئی۔  کالجوں اور اعلی تعلیمی اداروں سے ضیا نے سیکولر پروفیسروں کو نکال باہر پھینکا، اور ان کی جگہ جماعت اسلامی کے حمایتی ارکان بٹھا دیے گئے۔ ص 189

      اس اقتباس کا مطالعہ کرتے ہوئے الذوالفقار تنظیم کا حوالہ ذہن میں رکھا جائے، کیونکہ یہ ضیاء الحق کے دور کی بات ہو رہی ہے۔ یہاں بھٹو صاحب کے اس دور کی بات نہیں کی جارہی کہ جس میں پیپلز گارڈز، پیپلز اسٹوڈنٹس فیڈریشن، اور فیڈرل سیکورٹی فورس کے ہاتھوں عوام، بلوچستان، طالب علموں اور حزب مخالف کو کس کس انداز سے اپنے خون میں نہانا پڑا تھا۔ یہاں اس تاریخ کا اعادہ بھی نہیں کیا جا رہا کہ جس میں پیپلز اسٹوڈنٹس فیڈریشن وغیرہ کے جیالوں نے یک طرفہ طور پر ایک خونیں جنگ کا آغاز کیا تھا۔ یہ بتانا ان لوگوں کی ذمہ داری ہے جنھوں نے یہ الزام لگایا ہے کہ جمعیت نے اس زمانے میں ترقی پسند طالب علموں کو گولی سے اڑایا۔ اور یہ بتانا بھی انھی کی ذمہ داری ہے کہ کس کس اعلی تعلیمی ادارے سے کتنے پروفیسر صاحبان، جمعیت نے نکلوائے تھے۔ اگر ایسے چار پانچ پروفیسر صاحبان نکالے بھی گئے تو وہ مارشل لا حکام نے نکالے تھے، ان میں جمعیت کا کوئی کردار نہیں تھا۔ اسی طرح یہ گوشوارہ پیش کرنا بھی پیپلز پارٹی کی ذمہ داری ہے کہ کتنی تعداد میں جماعت کے حمایتی پروفیسر بھرتی ہوئے۔ سچی بات ہے کہ کتاب کے اس اقتباس کو پڑھ کر یوں لگ رہا ہے کہ یہاں طالب علموں کے قتل و غارت کا ایک طوفان، ترقی پسند اساتذہ سے تعلیمی اداروں کا صفایا اور ان کی جگہ من پسند پروفیسروں کی فوج کو بھرتی کرنے کا ہنگامہ برپا تھا۔ کیا واقعی ایسا تھا؟ یا یہ سب تخیل کے زور پر ایسا واویلا ہے، جس کی نہ کوئی جڑ ہے اور نہ کوئی بنیاد اور جمعیت کے کارکنوں کو جتنی بڑی تعداد میں قوم پرست، سوشلسٹ اور غنڈہ عناصر نے اس زمانے میں قتل کیا ، اس کی مثال کسی دوسرے عشرے میں نہیں ملتی۔

      کتاب کا سب سے تکلیف دہ حصہ وہ ہے، جس میں مصنفہ نے یہ کہا ہے:

      سنہ 1974 میں مذہبی تقسیم کی پیداوار ہونے کے ناتے سے جنوبی ایشیا اور فلسطین کے حالات کے درمیان پائی جانے والی مماثلتوں نے مجھے ہمیشہ حیران کیا ہے۔ ہر تقسیم نے دو اقوام کو جنم دیا، یعنی فلسطین اور اسرائیل، بھارت اور پاکستان۔ بر عظیم کی تقسیم کو قبول کر لیا گیا، مگر شرق اوسط میں ایک فریق نے اسے رد کر دیا۔ یہ استرداد دانش مندانہ تھا یا نہیں، ایک غیر متعلق سی بات ہے۔ متعلقہ بات یہ ہے کہ آج کے فساد کے تمام معقول فریقوں نے دو ریاستی حل کو قبول کرکے دونوں طرف کے انتہا پسندوں کو ایک طرف دھکیل دیا ہے۔ ص 316

      اس نثر پارے میں متعدد مغالطے در آئے ہیں۔ فلسطین پر یہودیوں کے ناجائز قبضے اسرائیل کی بنیاد سنہ 1917 کے شرم ناک اعلان بالفور میں رکھی گئی، جس کی رو سے سیکڑوں برسوں سے وہاں آباد مسلمانوں کی بے دخلی شروع ہوئی اور سنہ 1948 میں زبردستی اسرائیل کی ریاست کا ناجائز قیام عمل میں لایا گیا۔ کیا اس ظالمانہ عمل کو قیام پاکستان کے ایک پرامن آئینی حل کے  مماثل قرار دیا جاسکتا ہے؟ پھر کیا واقعی بھارت نے قیام پاکستان کو دل سے نہ کہ زبان سے تسلیم کر لیا ہے؟ اگر واقعی صدق دل سے تسلیم کیا ہوتا تو کشمیر کا مسئلہ پیدا ہی نہ ہوتا اور پہلے روز سے مشرقی پاکستان کی علیحدگی کے پودے کو دہلی سرکار یوں نہ سینچتی۔ اور کیا بے چارے مظلوم فلسطینیوں نے نادانی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس تقسیم کو رد کرنے کا جرم کیا ہے کہ جس پر یوں ان لاکھوں خانماں بربادوں کی دانش پر مصنفہ کو حیرت ہو رہی ہے؟ کیا فلسطین اور مقبوضہ فلسطین کا مسئلہ ایسا ہی حل تھا، جیسا کہ پاکستان اور بھارت تو پھر بے نظیر بھٹو کے ممدوحین قائد اعظم، علامہ محمد اقبال، ذوالفقار علی بھٹو، فیض احمد فیض وغیرہ کیوں کر اس ظلم پر تڑپتے رہے۔ انھوں نے کیوں نہ فلسطینیوں سے کہا کہ اسرائیل کو تسلیم کرلو؟ پاکستان تو بے خانماں، نہتے اور لٹے پٹے مہاجروں کا ملک تھا، مگر اسرائیل کو تو یورپ و امریکا کی مالی، فوجی اور سیاسی پشت پناہی کے آہنی ہاتھوں کے ذریعے تشکیل دیا گیا اور لاکھوں انسانوں کی لاشوں کا ڈھیر لگا کر انسانیت کو ہر روز قتل کیا گیا۔ کیا واقعی پاکستان اور اسرائیل کے مابین کوئی مماثلت موجود ہے؟ اور کیا فلسطینیوں نے اسرائیل کو تسلیم نہ کر کے فساد کا بیج بویا ہے؟ یہ استدلال خود مذمتی اور بے بنیاد روشن خیالی کا عبرت ناک نمونہ ہے جس نے مغربیوں کے ظلم کو سہارا اور تباہ حال فلسطینیوں کے زخموں پر نمک پاشی کی ہے اور ساتھ ہی ساتھ اہل پاکستان کو ایک ذلت آمیز مماثلت کا طعنہ دے کر دکھ پہنچایا ہے۔ مناسب معلوم ہوتا ہے کہ یہاں پر قائد اعظم کے نام علامہ محمد اقبال کے خط مورخہ 7 اکتوبر سنہ 1937 کا آخری ٹکڑا پیش کیا جائے:

      مسئلہ فلسطین مسلمانوں کے ذہنوں میں بہت اضطراب پیدا کر رہا ہے۔ مجھے قوی امید ہے کہ لیگ اس مسئلے پر ایک بہت ہی سخت قرارداد منظور کرے گی۔ ذاتی طور پر میں کسی ایسے امر کی خاطر جیل جانے کو بھی تیار ہوں جس سے اسلام اور ہندوستان متاثر ہوتے ہوں۔ مشرق کے دروازے پر مغرب کا ایک اڈا بننا اسلام اور ہندستان دونوں کے لیے پرخطر ہے۔ 'پروفیسر احمدسعید، اقبال اور قائداعظم، اقبال اکادمی ، لاہور، ص 110'

      اسی طرح بے نظیر کے نقطۂ نظر کے برعکس مولانا مودودی کا موقف جاننا متعدد حوالوں سے اشد ضروری ہے۔ جنھوں نے اسرائیل اور پاکستان میں مماثلت پیدا کرنے والے ایسے ہی ایک روشن خیال کو جواب دیتے ہوئے، ماہنامہ ترجمان القرآن جولائی سنہ 1944 میں لکھا تھا:

      میرے نزدیک پاکستان کے مطالبے پر یہودیوں کے قومی وطن کی تشبیہ چسپاں نہیں ہوتی۔ فلسطین فی الواقع یہودیوں کا قومی وطن نہیں ہے۔ ان کو وہاں سے نکلے ہوئے دو ہزار برس گزر چکے ہیں۔ اسے اگر ان کا قومی وطن کہا جاسکتا ہے تو اسی معنی میں جس معنی میں جرمنی کی آریہ نسل کے لوگ وسط ایشیا کو اپنا قومی وطن کہہ سکتے ہیں۔ یہودیوں کی اصل پوزیشن یہ نہیں ہے کہ ایک ملک واقعی ان کا قومی وطن ہے اور وہ اسے تسلیم کرانا چاہتے ہیں، بلکہ ان کی اصل پوزیشن یہ ہے کہ ایک ملک ان کا قومی وطن نہیں ہے اور ان کا مطالبہ یہ ہے کہ ہم کو دنیا کے مختلف گوشوں سے سمیٹ کر وہاں لابسایا جائے، اور اسے بزور ہمارا قومی وطن بنا دیا جائے۔ بخلاف اس کے مطالبہ پاکستان کی بنیاد یہ ہے کہ جس علاقے میں مسلمانوں کی اکثریت آباد ہے، وہ بالفعل مسلمانوں کا قومی وطن ہے۔ مسلمانوں کا کہنا صرف یہ ہے کہ موجودہ جمہوری نظام میں ہندستان کے دوسرے حصوں کے ساتھ لگے رہنے سے ان کے قومی وطن کی سیاسی حیثیت کو جو نقصان پہنچتا ہے، اس سے اس کو محفوظ رکھا جائے، اور متحدہ ہندستان کے بجاے ہندو ہندستان اور مسلم ہندستان کی دو آزاد حکومتیں قائم ہوں۔ دیکھیے: سید ابوالاعلیٰ مودودی، تحریک آزادی ہند اور مسلمان، دوم، ص 218، سنہ 1973، اور رسائل و مسائل، اول، ص 279 ۔ 280

      بے نظیر بھٹو کی زیرنظر کتاب کے مطالعے سے جو تاثر سامنے آتا ہے، اسے حسب ذیل نکات کی صورت میں بیان کیا جاسکتا ہے:

      کتاب کا موضوع مغرب اور مسلم دنیا کے درمیان مفاہمت پیدا کرنا ہے، لیکن افسوس یہ ہے کہ اس میں امریکی جارحیت کے جواز کے لیے دنیا بھر کے مسلمانوں کو مجرم بناکر پیش کیا گیا ہے، گویا کہ یہ کتاب مسلم امہ کے ایک وعدہ معاف گواہ کا حلفیہ بیان ہے۔

      مندرجات کی پیش کش سے خود کتاب کی مصنفہ کے سماجی شعور، تاریخ کے مطالعے اور وسعت نظر کے بارے میں سنجیدہ سوال پیدا ہوتے ہیں۔

      اپنے حق یا دوسرے کی مخالفت میں لکھتے وقت خوب رنگین بیانی سے کام لیا گیا ہے، جو کہیں کہیں بہتان اور صریح کذب بیانی کی شکل اختیار کرگئی ہے۔

      واقعات و حوادث کو معروضی پس منظر کے ساتھ پیش کرنے کے بجاے گروہی یا ذاتی تعصبات سے جوڑ کر دیکھا گیا ہے، اور کہیں کہیں تو لگتا ہے کہ ان کے افکار و خیالات کو محض دہرا دیا ہے اور بے بنیاد پروپیگنڈے کو حقیقت تصور کر لیا گیا ہے۔

      کھلے حقائق تک کو گرد آلود کیا گیا، اور متعدد بے جواز موازنے پیش کیے گئے ہیں۔

            اس تجزیے سے خود ہارورڈ اور اوکسفرڈ یونی ورسٹیوں کے بارے میں یہ تاثر پیدا ہوتا ہے کہ ان کے تربیت یافتہ ماہرین ایسے یک رخے ہوتے ہیں یاد رہے کہ کتاب میں ان مراکزِ دانش کا تذکرہ بار بار اور والہانہ انداز میں کیا گیا ہے۔ یوں لگتا ہے کہ واقعی یہ ادارے غیر مغربی معاشروں کے طالب علموں میں ان کے اپنے ہی معاشروں کے بارے میں تنگ نظری اور مغرب کے لیے حد سے بڑھی ہوئی مرعوبیت پیدا کرتے ہیں۔

      دینی مدارس کے بارے میں بے جا طور پر شک کا عنصر اور زیادہ گہرا ہوتا ہے، حالانکہ مدارس کی بڑی عظیم اکثریت کا اس فرد جرم سے کوئی تعلق ہی نہیں ہے۔

      اس تناظر میں یہ کتاب تاریخ کا عکس نہیں، بلکہ تاریخ کا قتل ہے۔ چیزوں کو مسخ شدہ حالت میں پیش کرنے کی ایک مبتدیانہ کوشش ہے۔

      جیسا کہ ابتدا میں بتایا تھا، کہ 27 دسمبر سنہ 2007 کی شام بے نظیر بھٹو کا بہیمانہ قتل ہوا، دوسرے روز 28 دسمبر کو مارک اے سیگل نے اس کتاب کا دیباچہ تحریر فرمایا اور 3 جنوری سنہ 2008 یعنی ساتویں روز جناب آصف زرداری، بیٹے بلاول اور بیٹیوں بختاور اور آصفہ نے اس کتاب کا اختتامیہ سپرد قلم کیا۔ رہ رہ کر یہ سوال کاٹنے کو دوڑتا ہے کہ بے نظیر صاحبہ کے قتل کے سانحے کے دوسرے روز جب کہ تعزیت کنندگان ہجوم در ہجوم آرہے تھے اور ابھی تدفین بھی نہیں ہوئی تھی، تو کس طرح دیباچہ لکھا گیا اور تدفین کے پانچویں روز ان کے غم زدہ شوہر اور دکھ میں نڈھال بیٹے بیٹیوں کو کس طرح وہ ذہنی کیفیت نصیب ہوگئی کہ جس میں وہ اختتامیہ قلم بند کرپاتے۔ یہ سب باتیں کتاب کے متن کے بارے میں بجا طور پر شک پیدا کرتی ہیں، کہ جس طرح خود مرحومہ کی وصیت کے بارے میں بھی شک پایا جاتا ہے۔

      مصنفہ کی قومی خدمات کا اعتراف کرنے کے باوجود، یہ باتیں بادل ناخواستہ تحریر کرنا پڑی ہیں۔ اب دوسری جانب دیکھیے: مغرب میں پلی بڑھی، نومسلمہ اے وان رِڈلی کو یہ کیسا شعور نصیب ہوا ہے کہ جو مسلم دنیا میں مغربی آقاؤں کے کاسہ لیس اور اقتدار کے بھوکے امیدواروں اور حکمرانوں کو بے نقاب کرتی اور ان کی خواہشات اقتدار پر تازیانے برساتی چلی جارہی ہے۔ یہ چند روزہ زندگی ہی سب کچھ نہیں، اور نہ چند برسوں کی حکومت انسانی زندگی کا حاصل ہے۔ اس لیے مناسب یہی ہے کہ قومی قیادت کے مقام پر فائز افراد اپنی داخلی جنگ کو بڑھانے اور پھیلانے کے بجاے داخلی یک جہتی ، بہتر تعلیم و تربیت اور قومی و ملی موقف میں مضبوطی کی راہوں پر چلیں۔ ملامتیہ رنگ چھوڑیں، ایک دوسرے پر تیراندازی کرکے جگ ہنسائی کا کھیل ترک کریں، اور عظمت دانش کا پرچم تھام کر قوم کی قیادت کریں۔
 

 

 

The view points and opinion solely those of the author or source. akhbaroafkar.com is not responsible for the posted contents.
 


Copyright (c) akhbaroafkar.com 2008