Print This Page
منشی نول کشورنے ہند اسلامی تہذیب و تمدن کے فروغ میں بنیادی کردار ادا کیا
.
اخباروافکار

  منشی نول کشورنے ہند اسلامی تہذیب و تمدن کے فروغ میں بنیادی کردار ادا کیا

شعبہ اردو جامعہ ملیہ اسلامیہ کے زیر اہتمام منشی نول کشوریادگاری خطبے میں پروفیسر شاہ عبدالسلام کااظہار خیال

نئی دہلی۔۲۰،دسمبر

منشی نول کشور کی مجموعی خدمات اور ان کے ثقافتی کارنامو ں کو دیکھتے ہوئے انھیں ایک بڑے ناشر اور پبلشر سے کہیں زیادہ ہندستانی نشاۃ ثانیہ کا ایک فعال اور تاریخ ساز ثقافتی رہنما کہنا چاہیے ۔ان کے عظیم الشان علمی اور ثقافتی کارناموں نے نئے ہندستان کی تعمیر و تشکیل اور ہند اسلامی تہذیب و تمدن کے فروغ میں بنیادی کردار ادا کیا ۔

ان خیالات کا اظہار رضا لائبریری رام پور کے افسر بہ کار خاص پروفیسر شاہ عبدالسلام نے شعبہ اردو جامعہ ملیہ اسلامیہ کے زیر اہتمام ٹیگور ہال ،دیار میر تقی میر میں منشی نول کشور یادگاری خطبے کے دوران کیا ۔خطبے کی صدارت جامعہ ملیہ اسلامیہ کے نائب شیخ الجامعہ پروفیسر ایس ایم راشد نے فرمائی ۔

پروفیسر شاہ عبدالسلام نے مزید کہاکہ منشی نول کشور نے ہند اسلامی ثقافت کے احیاء و ارتقا ء کارنامہ اپنے پریس کے ذریعہ انجام دیا ۔لسانی لحاظ سے بھی اپنے وسیع وعریض اشاعتی منصوبے کو ایسی ہمہ گیری اور عالم گیر شکل دی کہ جس کی مثال ملنا بہت مشکل ہے ۔انھو ںنے اردو،عربی اور فارسی ادبیات کے علاوہ قرآن مجید ،احادیث ،فقہ و تفسیر اور دینیات و اسلامیات کی کتابیں جس بلند ہمتی اور خلوص و سنجیدگی کے ساتھ شائع کیں وہ ان کی علم دوستی اور اعلی ظرفی کی ایسی مثال ہے جسے صدیوں تک فراموش نہیں کیا جاسکتا۔شاہ عبدالسلام نے کہا کہ منشی نول کشور نے معاصر علما و  فضلاء کی نہ صرف قدر دانی کی بلکہ ان صلاحیتوں سے فائدہ بھی اٹھایا ۔مولانا سید امیر علی ملیح آبادی ،مولانا محمد احسن نانوتوی ،مولنا فخرالدین فرنگی محلی،مولنا خرم علی بہلوری ،مولانا احتشام الدین مرادآبادی وغیرہ جیسے علماء کبار تو مطبع سے باقاعدہ وابستہ تھے ان کے علاوہ بھی ایک بڑی تعداد ایسے علما کی تھی جو باقاعدہ وابستہ نہ تھے مگر علوم شرقیہ کی کتابوں کی ترتیب تصنیف اور ترجمے کے لیے ہر وقت تیار رہتے تھے ۔ان کے توسطے سے منشی نول کشور نے ہند اسلامی تہذیب کا نہ صرف احیاء کیا ۔

پروفیسر شاہ عبدالسلام نے کہا کہ مطبع نول کشور نے عام ہندستانیوں کی ذہنی اورتہذبےی پرورش و پرداخت میں غیر معمولی کردار ادا کیااسی لیے ادب و تہذیب اور ثقافت کے مختلف موضوعات پر انھوں نے کتابیں شائع کیں ۔۱۸۵۷ء کے بعد ہمارے تہذیبی ورثے کو بچانے میں منشی نول کشور نے  اپنے پریس کے ذریعہ غیر معمولی کردار ادا کیا ۔منشی جی نے عربی تفاسیر ،فقہ و فتاوی،لغات،فارسی زبان و ادب کی کتابیں،سنسکرت سے اردو ترجمے،داستانیں اور اودھ اخبار کی شکل میں اردو صحافت کے فروغ کاجو تاریخ ساز کارنامہ انجام دیا ہے اس کی مثال زمانہ اب تک پیش کرنے سے قاصر رہا ہے ۔پروفیسر شاہ عبدالسلام نے کہا کہ آزادی کے بعد یہ پریس تنزل کا شکار ہوگیا ہے ۔جو علمی وادبی دنیا کے لیے ایک بڑا خسارہ ہے ۔ہمیں ناشر تو بہت مل سکتے ہیں مگر منشی نول کشور جیسا علم دوست،مخلص اور کشادہ قلب انسان کہا سے ملے گا ۔منشی نول کشور کے یہی وہ اوصاف حمیدہ تھے جن کی وجہ سے ہر شخص ان کا گرو یدہ اور وہ لوگوں کے محبوب نظر تھے ۔ان کی شخصیت کا یہی پرتوان کے مطبع سے شائع ہونے والی کتابوں میں بھی ملتا ہے ۔

صدارتی خطاب میں پروفیسر ایس ایم راشد نے کہا کہ جس ہندستانی نشاۃ ثانیہ کا خواب منشی نول کشور نے دیکھا تھا اس کی آج بہت سخت ضرورت ہے ۔منشی جی کا خلوص،ان کی درد مندی اور انسانیت سے لبریز ان کے غیر معمولی جذبات نے نہ جانے کتنے لوگوں کو علم  و نور سے آشنا کیا ۔انھوں نے کہا کہ جامعہ کو یہ حق پہنچتا ہے کہ وہ منشی نول کشور کے کارناموں اور ان کی ذہنی و فکری کشادگی کو پیش کرے ۔

ابتدامیں صدر شعبہ پروفیسر خالد محمود نے حاضرین کا استقبال اور مہمانوں کا تعارف پیش کیا ۔انھوں نے کہا کہ شعبہ اردو ہمیشہ سے علم و ادب کاجویا اور اپنی تہذیب و ثقافت کے فروغ کا ذریعہ رہا ہے ۔منشی نول کشور کا ذکر خیر در اصل ہماری اپنی تہذیب و ثقافت کی بازیافت اور فروغ ہے ۔

پروفیسر شہپر رسول نے کہاکہ انیسویں صدی کی ذہنی بیداری کے سیاق میں اگر دیکھا جائے تو منشی نول کشور ایک قائد اور مطبع نول کشور ایک تجارتی مرکز کے بجائے ہماری علمی ،ادبی اور ثقافتی روایت کے ایک سرگرم ادارے کی شکل میں سامنے آتا ہے ۔

جناب شاہد علی خاں نے کہا کہ منشی نول کشور ہرلحاظ سے آئیڈیل تھے ۔انھو ںنے لوگوں کی ذہنی سطح،تعداد اور معیار ہر چیز کا لحاظ رکھا اوران کے یہاں وسعت نظر تو تھی ہی ۔

خطبے کے کنوینر پروفیسر وہاج الدین علوی نے کہا کہ منشی نول کشور کے کارناموں پر شعبۂ اردو اس سے پہلے قومی سطح کا سمینار کرچکا ہے ۔انھوں نے کہا کہ زبان و ادب اور خصوصاً اردو زبان اپنے محسنوں کو کبھی فراموش نہیں کرتی ۔

جلسے کا آغاز شعبے کے طالب علم شہنواز فیاض نے تلاوت کلام پاک سے کیا ۔جناب شاہد علی خاں بطور مہمان اعزازی شریک ہوئے ۔پروفیسر شہپر رسول نے منشی نول کشور کا تعارف پیش کیا ۔صدر شعبہ پروفیسر خالد محمود نے حاضرین اور مہمانوں کا خیر مقدم کیا ۔یادگاری خطبے کے کنوینر پروفیسر وہاج الدین علوی نے نظامت فرمائی اور ڈاکٹر احمد محفوظ نے کلمات تشکر ادا کیے ۔

 

 

The view points and opinion solely those of the author or source. akhbaroafkar.com is not responsible for the posted contents.
 


Copyright (c) akhbaroafkar.com 2008